تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     11-10-2026

سریلے مہمان

سرما کی آمد آمد ہے اور موسم سرما پاکستان میں کروڑوں مہمانوں کی آمد کا سبب بنتا ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں جب موسم تبدیل ہونے لگتا ہے اور گرم ہواؤں کی جگہ قدرے خنک ہوائیں لے لیتی ہیں تو ان مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ مہمان پاکستان کی فضاؤں سے ہو کر آگے کے دیسوں میں چلے جاتے ہیں جبکہ کچھ چند ماہ کے لیے یہاں قیام پذیر ہو جاتے ہیں۔ سائبیریا‘ روس اور وسطی ایشیا کے انتہائی سرد علاقوں سے لاکھوں مہاجر پرندے انڈس فلائی وے کے گرین روٹ کے ذریعے پاکستان کی جھیلوں اور آبی پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے خطوں میں جب درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے تو وہاں کے باسی پرندوں کے لیے زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھنا محال ہو جاتا ہے‘ چنانچہ وہ ایسے علاقوں کی جانب وقتی ہجرت کرتے ہیں جہاں موسم تو ٹھنڈا ہو لیکن برف نہ جمتی ہو۔ پاکستان کا شمار ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے کچھ علاقے ان مہاجر پرندوں کے پسندیدہ خطوں میں شمار ہوتے ہیں‘ جیسے ہالیجی جھیل ٹھٹہ ایشیا کی سب سے بڑی پرندوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اس کے علاوہ کینجھر جھیل ٹھٹھہ‘ ڈریگ اور لنگھ جھیل لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ‘ اچھالی کمپلیکس وادیٔ سون خوشاب (اس میں تین جھیلیں اچھالی‘ کابی کی اور جھالر جھیل شامل ہیں)‘ چشمہ بیراج اور تونسہ بیراج دریائے سندھ‘ راول جھیل اسلام آباد‘ منگلا ڈیم‘ ٹانڈہ ڈیم کوہاٹ‘ تربیلا ڈیم‘ بوریتھ جھیل ہنزہ‘ شیوسر جھیل دیوسائی‘ ہنگول ندی اور پسنی کی ساحلی پٹیاں بھی یہاں آنے والے ان فضائی مہمانوں کے پسندیدہ مقامات ہیں۔
گرم خطوں کا رخ کرنے والے پرندے پاکستان میں شمال سے شروع کر کے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ نیچے تک گیلی سرسبز زمینوں‘ جھیلوں کے کناروں یا ڈیموں والے علاقوں اور دوسری ویٹ لینڈز (Wet lands) میں قیام کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال سات سے بارہ لاکھ مہاجر پرندے پاکستان آتے ہیں۔ یہ پرندے یہاں موسم سرما کے اختتام تک رکتے ہیں۔ اس دوران وہ یہاں گھونسلے بناتے ہیں‘ انڈے دیتے ہیں‘ ان میں سے بچے نکالتے ہیں اور مارچ میں جب وہ اپنے وطنوں کی جانب واپس لوٹتے ہیں تو نئی نسل کے ہزاروں جوان پرندے بھی ان کے ہمراہ اڑان بھرتے ہیں۔
ہمارے ان مہمانوں کی درجنوں اقسام ہیں‘ جیسے بطخوں اور آبی پرندوں میں مالارڈ‘ کامن ٹیل ‘ ناردرن پِن ٹیل‘ گیڈوال‘ یوریشین ویجن‘ ناردرن شویلر‘ کامن پوچارڈ‘ فیریجینس ڈک۔ غوطہ خور بطخوں میں ماربلڈ ٹیل‘ لانگ ٹیلڈ ڈک‘ کامن مرگینسر‘ رڈی شیل ڈک اور کامن شیل ڈک شامل ہیں۔ ہنس اور قازوں میں بار ہیڈڈ گوز‘ گرے لیگ گوز اور لیزر وائٹ فرنٹڈ گوز شامل ہیں۔ سوانز میں ہوپر سوان اور میوٹ سوان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیموئزل کرین‘ سائبیرین کرین‘ کامن؍ یوریشین کرین‘ سارس کرینز بھی پاکستان آتی ہیں۔ پھر گریٹر فلیمنگو‘ لیزر فلیمنگو‘ بلیک سٹارک‘ وائٹ سٹارک‘ ڈالمیشن پیلکن‘ کئی قسم کے Herons اور Egrets یعنی بگلے بھی ہمارے مہمان بنتے ہیں۔ سینڈرلنگ‘ ٹیمِنک سٹنٹ‘ براڈ بلڈ سینڈ پائپر‘ شارپ ٹیلڈ سینڈ پائپر‘ ووڈ سینڈ پائپر‘ کامن سینڈ پائپر‘ گرین سینڈ پائپر‘ کامن ریڈ شنک‘ بلیک ٹیلڈ گاڈوٹ‘ بار ٹیلڈ گاڈوٹ‘ یوریشین کرلیو‘ بلیک وِنگڈ سٹِلٹ اور ریور لیپ وِنگ بھی ہر سال پاکستان آ کر اپنے مختصر بسیرے کرتے ہیں۔ کئی قسم کے شاہین‘ عقاب‘ باز اور دوسرے شکاری پرندے بھی ان مہمان پرندوں کے ہمراہ پاکستان پہنچتے ہیں۔ حبارہ ( Houbara Bustard) یعنی تلور بھی بلوچستان‘ سندھ‘ تھر اور چولستان کے خشک علاقوں میں موسمِ سرما کے دوران آنے والا مشہور مہاجر پرندہ ہے جن کے شکار کے لیے پاکستانی شکاری ہی نہیں‘ دوسرے ممالک سے بھی طالع آزما بلوچستان اور سندھ کے صحراؤں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پرندوں کی بین الاقوامی اور بین البراعظمی ہجرت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ (موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سردی اور گرمی کے موسموں کی شدت بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے وہ فضائی راستے بھی متاثر ہو رہے ہیں جو نقل مکانی کرنے والے پرندے اپنی پروازوں کیلئے استعمال کرتے ہیں)‘ جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی‘ آبی علاقوں کا کم ہونا‘ شہروں کے پھیلاؤ اور زرعی زمینوں کا سکڑنا‘ غیر منظم سیاحت اور انسانوں کے ہاتھوں پرندوں کے خالص ماحولیاتی نظاموں کو پہنچنے والا نقصان‘ آب گاہوں کی تباہی‘ غیر پائیدار ماہی گیری اور مہاجر پرندوں کی غیر قانونی تجارت۔ صنعتی فضلہ‘ شہری گندا پانی‘ زرعی کیمیکلز اور بھاری دھاتیں آبی ماحول کو زہریلا بناتی ہیں اور وہ پرندوں کے استعمال کے بھی قابل نہیں رہتا۔ زرعی علاقوں میں استعمال ہونے والی پیسٹی سائیڈز پرندوں کے لیے زہریلی ثابت ہو سکتی ہیں اور ان کی خوراک کے ذرائع کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق بعض پاکستانی آب گاہوں میں آلودگی مہاجر آبی پرندوں کی صحت اور افزائشِ نسل کو متاثر کرتی ہے۔ سب سے بڑی وجہ عارضی طور پر ہجرت کر کے پاکستان آنیوالے ان مہمانوں کا بے دریغ شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے کچھ علاقوں میں اس شکار کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں لیکن اس حوالے سے موجود قوانین کو پورے پاکستان میں نافذ کرنا ابھی باقی ہے۔
پاکستان میں ہر سال لاکھوں مہاجر اور جنگلی پرندے غیر قانونی یا مشروط شکار کی زد میں آتے ہیں۔ ماحولیاتی رپورٹس اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی شکار اور ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر مہاجر پرندوں کی پاکستان آمد میں 50سے 69فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2019ء کے دوران دو لاکھ 48ہزار مہاجر پرندوں کی آمد ریکارڈ کی گئی لیکن 2020ء میں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث جب شکار رکا تو یہ تعداد بڑھ کر سات لاکھ 41ہزار ہو گئی‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عام حالات میں یہاں آنیوالے لاکھوں پرندے شکار یا دباؤکا شکار رہتے ہیں۔ یہاں ان پرندوں کا کتنا شکار کیا جاتا ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہر سال صرف پاکستان میں 4000 سے 6000 تک فالکن جیسے نایاب شکاری پرندے پھنسائے جاتے اور سمگل کیے جاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں اکیلے ڈیموئزیل کرینز یعنی کونجیں تقریباً 8000 کی تعداد میں شکار کر لی جاتی ہیں یا وہ شکار ہو جانے کے دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اکتوبر سے مارچ تک پرمٹ کے تحت محدود قانونی شکار کی اجازت دی جاتی ہے‘ بڑے پیمانے پر غیر قانونی شکار بھی جاری رہتا ہے۔
مہاجر پرندے پاکستان کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے غیر قانونی شکار کی روک تھام‘ آب گاہوں کا تحفظ‘ آلودگی میں کمی‘ کیڑے مار ادویات کے محتاط استعمال اور عوامی شعور میں اضافہ ضروری ہے۔ حالیہ مقامی اور بین الاقوامی تحقیق بھی پاکستان میں مہاجر پرندوں کی آبادی میں کمی کے تناظر میں ان اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو مہاجر پرندوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ کیا آج یہ عہد کیا جا سکتا ہے کہ اپنی لذتِ کام و دہن کا ذریعہ بنانے کے بجائے ہم اپنے ان سریلے مہمانوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved