وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وہی ہوا جس سے بچا جا سکتا تھا۔
معاملہ سیاست کا نہیں ‘سلامتی کا تھا۔ وفاقی حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کاہم رکاب ہو۔ صوبائی حکومت اس پر آمادہ نہ ہوئی۔ اسے اندازہ تھا کہ ریاست اس سے کم پر راضی نہیں ہو گی۔ شہادت کا یہ ایک اچھا موقع تھا۔ اسے ضائع نہیں کیا گیا۔ اب پی ٹی آئی اس سسٹم کا حصہ نہیں رہی۔ میرا اندازہ ہے کہ اگلے مرحلے میں وہ قومی اسمبلی سے بھی استعفیٰ دے سکتی ہے۔ اس کے بعد اسے وہ یکسوئی میسر آ سکتی ہے ‘ایک انقلابی سوچ جس کا مطالبہ کرتی ہے۔
طالبان اور دہشت گردی کے باب میں یہ دو بیانیوں کا اختلاف تھا۔ عسکریت پسندوں کے بارے میں عمران خان صاحب ہمیشہ سے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ انہیں اس کا جواب بھی اسی جذبے سے ملا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔ ابھی جن علاقوں سے اس کے جلوس گزرے‘ جمعیت علمائے اسلام سمیت کوئی جماعت یہ ہمت نہیں کر سکتی کہ ان علاقوں میں کوئی جلسہ ہی کرے۔ تحریک انصاف نے ماضی میں اس 'ہم آہنگی‘سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا‘ جب انتخابی مہم میں اسے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی سیاسی ضرورت نے اسے مجبور کیا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے میں مرکز سے اختلاف کرے۔ یہ نوشتہ دیوار تھا کہ اگر مرکز سے تعاون نہ کیا گیا تو اس کی حکومت باقی نہیں رہے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ شہادت مجبوری میں نہیں‘ سیاسی حکمت عملی کے تحت اپنی مرضی سے قبول کی گئی۔ سوال یہ کہ کیا یہ حکمت عملی کامیاب رہے گی؟
تحریک انصاف عمران خان صاحب کی گرفتاری کے بعد‘ ہر طرح کی مرکزیت سے محروم ہے۔ کوئی ایک سیاسی نظم ہے نہ کوئی ایک نقطہ نظر۔ صرف کے پی میں دیکھیں تو سہیل آفریدی صاحب اور علی امین گنڈاپور صاحب کا اختلاف ظاہر و باہر ہے۔ اسی طرح بیرسٹر گوہر صاحب کا اندازِ نظر‘ علیمہ خان صاحبہ سے مختلف ہے۔ صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد اب دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ سب ایک ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں۔ سب مل کر اُس وقت کا انتظار کریں جب حالات کروٹ لیں اور ان کے لیے سازگار ہو جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تحریک انصاف دو دھڑوں میں منقسم ہو جائے۔ انقلابی اور سیاسی۔ سیاسی دھڑے کو سسٹم کا حصہ بنا دیا جائے اور یوں صوبے اور مرکز میں موجود خلیج ختم ہو جائے۔
دوسری صورت کی کامیابی اس لیے خارج از امکان ہے کہ سیاسی گروہ کوعمران خان صاحب کی تائید میسر نہیں آئے گی۔ اس تائید سے محرومی کے بعد تحریک انصاف کے نام سے کوئی سیاسی گروہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پہلی صورت اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی کے پاس سرفروشوں کا کوئی گروہ موجود ہو۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اس وقت بھی ہم جو سرگرمی دیکھ رہے ہیں وہ صرف کے پی میں ہے۔ اب ایسا نہیں ہے کہ دوسرے صوبوں میں تحریک انصاف کی ہمدرد موجود نہیں۔ موجود ہیں‘ لیکن سرفروش نہیں ہیں۔ احتجاج کے لیے خود کو کسی خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ اب کے پی میں بھی تحریک انصاف کا کارکن ویسی ہی آزمائش سے دوچار ہو گا‘ جس سے دوسروں صوبوں کا کارکن گزر رہا ہے۔ اب اس کے پاس صوبائی حکومت کا سائبان موجود نہیں۔ اب پولیس اسی طرح متحرک ہوئی‘ جس طرح دوسرے صوبوں میں ہے‘ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف اب ایک بند گلی میں ہے‘ جہاں سے نکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔
اس سوال کا جواب دینا اس مرحلے پر ممکن نہیں۔ اس کا جواب بآسانی اثبات میں دیا جا سکتاتھا‘ اگر عمران خان صاحب کو سیاسی عصبیت حاصل نہ ہوتی۔ یہ عصبیت اپنی جگہ موجود ہے۔ یہ انتخابی قوت کی صورت میں ظہور کر سکتی ہے‘ لیکن یہ اس وقت ہو گا جب انتخابات کا موقع آئے گا۔ اس میں ابھی اڑھائی سال پڑے ہیں۔ مجھے اب صرف ایک راستہ دکھائی دیتا ہے‘ جو تحریک انصاف کو منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ راستہ صبر ہے۔ عمران خان صاحب جیل میں رہیں اور تحریک انصاف مظلومیت کا عَلم لے کر کھڑی رہے۔ حکومت اور ریاست کے لیے یہ صورت قابلِ قبول ہو گی۔ اس کا فوری چیلنج یہ ہے کہ اس نظام کو فوری خطرات سے محفوظ رکھا جائے۔ اسے آنے والے اڑھائی برس میں اپنی افادیت ثابت کرنی ہے تاکہ اگلے عام انتخابات میں سرخرو ہو سکے۔
ایک اور منظر نامہ بھی متوقع ہے۔ یہ جمعیت علمائے اسلام اور تحریک انصاف کا اتحاد ہے۔ اسد قیصر صاحب جیسے سیاسی سوچ رکھنے والے رہنما ابھی سے اس کے لیے متحرک ہو رہے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کو اس اتحاد کے لیے آمادہ کر سکیں۔ یہ واضح ہے کہ اگر آج کوئی ایسا اتحاد وجود میں آتا ہے تو اس کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے پاس رہے گی۔ یہ بات تحریک انصاف کے عام کارکن کیلئے قابل قبول نہیں ہو گی۔ علامہ راجا ناصر عباس صاحب کو بھی نہیں۔ اس لیے ایسا اتحاد شاید وجود میں نہ آ سکے۔جماعت اسلامی کی مخالفت البتہ قابلِ فہم نہیں۔ انہیں تو اس کھیل سے دور ہی رہنا چاہیے۔وہ عوامی مسائل کی سیاست کر رہے ہیں اور یہی ان کے مفاد میں ہے۔
معاملہ اگر صرف (ن) لیگ کا ہوتا تو ایک وسیع تر اتحاد وجود میں آ سکتا تھا۔ مگر اب ریاست بھی ایک فریق ہے‘ کیونکہ فوج اور پولیس کے جوان دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے اور جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ اس جنگ میں ریاست کی مخالفت کرکے کوئی سیاسی قوت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے اب تحریک انصاف کے لیے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ اس کے لیے ایک کھڑکی کھلی تھی جسے اس نے بند کر دیا۔ یہ شہادت شاید اس کے لیے کسی کام نہ آ سکے۔اس کے پاس یہ سیاسی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ وفاق کو ایمرجنسی کے خاتمے پر آمادہ کر سکے۔اگر یہ صلاحیت ہوتی تو یہ نوبت ہی کیوں آتی؟اسی لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کا اعلان سمجھا جائے۔
اس سارے قضیے میں ریاست کہاں کھڑی ہے؟ اس اقدام کے بعد‘ اگر صوبے میں دہشت گردی ختم ہو جا تی ہے تو پھر ریاست کے ہاتھ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ حالات میں تبدیلی نہیں آتی تو پھر تنقید کا رخ مرکز کی طرف ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ نیا سیاسی نظام‘ عوام کو کیا دیتا ہے۔ اگر صحت‘ تعلیم اور دوسرے بنیادی مسائل میں عوام کو بہتری دکھائی دی تو پھر ٹھیراؤ آ جائے گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست نے ایک مشکل فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی اصابت کا تعلق‘ نئی انتظامیہ کی کارکردگی سے ہے۔ دہشت گردی کا تعلق خارج سے بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس داخلی تبدیلی سے امن بحال ہوتا ہے یا نہیں۔ تاریخ یہ ہے کہ غیر سیاسی فیصلے اکثر ریاست کے حق میں نہیں رہے۔ مرکز نے اب وہ ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی ہے جو کل تک صوبائی حکومت کے کندھوں پر تھی۔ اب جوابدہ بھی اسے ہی ہونا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved