تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     12-10-2026

پیچھے پہاڑ سامنے دریا

اس عنوان کی کہانی ہماری پوری تاریخ پر محیط ہے۔ ہم نجانے کتنی بار پہاڑ اور دریا کے درمیان پھنسے ہیں اور اگر مختصر مدت کے لیے کچھ گھاٹیاں تلاش کرکے نکلے بھی ہیں تو وہ مہلت کچھ زیادہ نہ تھی۔ عام پہاڑوں کی بات نہیں ہو رہی کوہ ہمالیہ سے بھی بلند سیاسی پہاڑ اور وہ سیاسی دریا جن کے کناروں تک پہنچنے کے لیے ہم ابھی تک ترس رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیاست اپنا راستہ خود بناتی ہے مگر وطنِ عزیز میں یہ بنے ہوئے راستوں‘ پکے راستوں کو توڑ پھوڑ کر بلکہ خندقیں کھود کر بند کرتی رہتی ہے۔ سیاست تو فقط ایک طرزِ عمل ہے جو نظریے‘ مفاد‘ سیاسی جماعت‘ قیادت‘ منشور اور ظاہری طور پر ملک اور عوام کی قسمت سنوارنے سے وابستہ ہے۔ لیکن یہ طرزِ عمل عام لوگوں کا نہیں سیاسی اشرافیہ کا ہے جسے آپ حکمران طبقات کہتے ہیں۔ کاروبارِ مملکت ان کے ہاتھ میں رہا ہے۔ وہی سب بحرانوں کے ذمہ دار ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ہر دفعہ جب ہم سیاسی حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور دلدل میں پھنستے ہیں تو ہماری نظریں انہی پر پڑتی ہیں کہ یہ مل بیٹھیں گے اور کوئی حل نکالیں گے۔ پورے ملک کے لوگ ایک اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اس کے اسباب بظاہر معاشی اور سماجی معلوم ہوتے ہیں مگر سب کی تہہ میں ساختی نوعیت کی سیاست بازی ہے جو ہمیں بار بار بے یقینی کی صورت حال سے دوچار کرتی آئی ہے۔ سیاسی طرزِ عمل کسی بھی ملک میں ہو‘ اسے نظام کی ساخت سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔ اب نظام کی بنیادی ساخت کے مسائل یہاں چھیڑ کر کسی نصابی کتابی بحث میں الجھنے کا مقصد نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہیں‘ کیوں ہیں اور کیونکر ہم ابھی تک حل نہیں کر پائے۔
جہاں ریاست ہو گی سیاست بھی ہو گی۔ اور جہاں کسی ایسی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا وہاں بھی سیاست ہی ہوتی ہے۔ انسانی معاشروں میں قدیم زمانوں سے لے کر آج تک اس کا معاشرے سے وہی رشتہ ہے جو انسانی جسم اور روح کا ہے۔ سیاسی معاشروں میں جہاں کہیں لوگوں کو آزادی نصیب ہو تو وہاں اُس سے وابستہ سیاسی اور دیگر نوع کے مسائل مفاد ات کے دائمی ٹکرائو سے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بانی مفکروں اور سیاستدانوں میں سے ایک تھامس جیفرسن‘ جس نے وہ تاریخی دستاویز لکھی جسے ''اعلانِ آزادی‘‘ کہا جاتا ہے‘ نے لکھا ہے کہ جہاں آزادی ہو گی‘ وہاں کشمکش بھی ہو گی کہ ان کا تعلق آکسیجن اور آگ کا سا ہے۔ اس لیے نظاموں کی ساخت بناتے وقت یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ باہمی لڑائی جھگڑے‘ نظریات‘ تضادات اور مختلف آرا کی وجہ سے سیاسی مسائل تو پیدا ہوتے رہیں گے مگر انہیں پُرامن اور بقائے باہمی‘ افہام وتفہیم سے حل کرنے کا طریق کار اس میں موجود ہو۔ کوئی جمہوری ملک موجودہ دور میں آپ نہیں دیکھیں گے جہاں آئے روز مسائل پیدا نہ ہوتے ہوں مگر نظام کے اندر رہتے ہوئے ان کا حال ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ احتجاج بھی ہوتے ہیں‘ تحریکیں بھی چلتی ہیں‘ زبان درازی کا ارتکاب بھی ہوتا ہے مگر آپ سیاستدانوں کو مسلسل اپنی کھودی ہوئی خندقوں اور اپنے سیلابی ریلوں سے بنی دلدل میں پھنسا نہیں دیکھیں گے۔ سب سے بڑا حل انتخابات ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پارلیمان کی بالادستی‘ کوئی موروثی سیاست باز دور بیٹھ کر اُسے اشاروں سے نہیں چلا رہا ہوتا۔ روایات اور سیاسی کلچر کے ساتھ ساتھ عوام کے اندر شعور اور پختگی اور دانشور طبقے کی غیر جانبداری بھی اہم عناصر ہیں۔ اگرچہ مختلف جمہوریتوں میں دانشور آزاد رائے کی بھاری قیمت چکاتے رہے ہیں مگر ہمارے جیسے معاشرے میں ایسا کرنا بہت حوصلے کی بات ہے۔ اکثریت نے جو روش ہماری تاریخ میں اختیار کی ہے‘ اس کے بارے میں خاموشی ہی بہتر ہے۔
آپ ملک کے سب بحرانوں کو شروع سے لے کر آج تک دیکھ لیں۔ طاقت اور مزاحمت کے کھیل میں دونوں جانب اپنی صلاحیتوں کے بارے میں شدید غلط فہمیاں رہی ہیں۔ نہ طاقت والے دبا سکے اور نہ مزاحمت والے کوئی انقلاب لا سکے۔ بحران در بحران سر اٹھاتے گئے۔ مشرقی پاکستان کے بحران کو دیکھ لیں۔ اس کے سماجی‘ معاشی اور نفسیاتی مسائل سے ہم ابھی نکل نہیں پائے تھے کہ تاریخ کے ایسے انتخابات کرائے گئے کہ دھاندلی کالفظ بھی کمزور معلوم ہوتا ہے۔ زعم یہ تھا کہ حزبِ اختلاف کیا ہے‘ اُسے وہ ''فکس‘‘ کر دیں گے۔ دانشور اور صحافتی ہم نوائوں کی انہیں کمی تھی نہ سیاسی گماشتوں کی۔ انجام وہی ہوا جو اکثر سڑکوں پر بڑی اور تیز رفتار گاڑیوں کے لاپروا ڈرائیوروں کا حادثات کی صورت میں ہوتا ہے۔ میرے خیال میں جنوبی ایشیا کے سب ممالک میں ہمارے حکمران طبقات سے سیاسی آزادی کی سماجی ساخت کے ادراک میں ہمیشہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔ یہ تبدیل ہوتے ہوئے معاشروں کا مسئلہ ہے۔ حکمران جن کا تعلق جاگیرداری‘ حسب نسب‘ قبائلی طاقت اور دیگر وسائل سے ہوتا ہے‘ ان میں قدیم اور قرون وسطیٰ کے حکمرانوں کی سی رعونت‘ احساسِ تفاخر اور آمرانہ رویوں کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ دوسری جانب انگریز دور سے لے کر آج تک جدید ترقی کے کئی دھارے تعلیم‘ سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ صنعت اور شہری آبادیوں کے پھیلائو کی صورت میں پیدا ہوئے ہیں‘ ان کے فیض سے آزادی کے رجحانات وقت کے ساتھ زور پکڑتے رہے ہیں۔ ہم دیگر کئی تضادات کے حامل نظام کی ساخت کے حوالے سے بات کر سکتے ہیں مگر میرے نزدیک ڈھاکہ‘ کٹھمنڈو‘ آج کل نئی دہلی اور ہمارے کئی شہروں میں نوجوانوں اور سیاسی نظاموں کے پیدا کردہ سیاسی حکمرانوں میں بہت بڑا تضاد ہے۔ اس بارے میں کئی بار اشاروں کنایوں میں یہ درویش بات کرتا رہا ہے۔ جس ملک میں معاشرہ اتنا بگڑ جائے کہ خالص دودھ تلاش کرنا پڑے اور روزانہ خبریں سنیں کہ اتنا دودھ تلف کر دیا گیا ہے‘ وہاں نظاموں میں ملاوٹ‘ کھوٹ‘ حکمرانوں کی من مانیاں اور بدعنوانی کیوں جڑ نہیں پکڑے گی۔ یہ سمجھ لینا آرام دہ صوفے پر لیٹ کر خود کو یقین دلانا ہے کہ کاکروچوں کو فکس کر دیں گے! یہ ممکن نہیں۔ جنہیں اپنے گھروں میں کاکروچوں کی موجودگی کی شکایت ہے‘ وہ طاقتور سپرے کرتے آئے ہیں‘ مگر یہ کہیں نہ کہیں سے سر نکال کر منہ چڑانا شروع کر دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ تو یہی ہے جس کی وجہ سے سیاسی سمجھوتے نہیں ہوتے‘ اور اگر ہو جائیں تو دیرپا نہیں رہتے۔ کیونکہ سمجھوتے کسی نظام کے طفیلیوں کے درمیان باہمی مفادات سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ یہ بھی بار بار ہوتا آیا ہے‘ میثاق جمہوریت سے لے کر پاکستانی جمہوری تحریک تک‘ جس نے ایک اور تحریک کا جنازہ نکالا‘ ایک ہی کہانی ہے۔ اس تحریک کو چلانے کے لیے کل جماعتی کانفرنس ایک عوامی جماعت نے بلائی اور ''پلان آف ایکشن‘‘ مولانا صاحب نے پریس کانفرنس میں پڑھ کر اپنے حامیوں سے داد وصول کی تھی۔ اب ہمارے محترم دونوں جانب سے قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وقت ہماراصرف ایک ہاتھ دعا کے لیے بلند ہو سکتا ہے‘ دوسرا لکھنے میں مصروف ہے کہ مولانا صاحب کو کامیابیاں اور مزید بلند رتبے نصیب ہوں اور وہ تن تنہا اس ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ ہمارے بحران در بحرانوں نے جو بلند پہاڑ اور بے کنار دریا ہمارے لیے بنا رکھے ہیں‘ ان کے مقابلے میں ہماری دعائوں میں بھی کوئی اثر نہیں رہا۔ طاقت کا زعم‘ بداعتمادی اور عام لوگوں سے حقارت کا ماحول دوسرے ممالک میں تو کروچوں کے لیے سازگار رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved