ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ایئر پورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملوں سے 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ سوموار کو اس ہوائی اڈے کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔ یہ بہت افسوسناک اور نہایت ہی قابلِ مذمت حملے ہیں۔ ادھر امریکہ اور ایران کی جنگی صورتحال جوں کی توں ہے۔ آبنائے ہرمز پر دوطرفہ کنٹرول کے دعوے ہو رہے ہیں۔ کئی ماہ قبل پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدۂ اسلام آباد طے پایا تھا جس سے یہ امید بندھی تھی کہ خطے میں امن و امان قائم ہوگا۔ دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی اور سب کو سکھ کا سانس نصیب ہوگا مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متلون مزاجی اور صبح کچھ شام کچھ پالیسی کی بنا پر اب تک بات بن نہیں سکی۔ عسکری جنگ کے بعد امریکہ نے ایران پر اقتصادی جنگ بھی مسلط کر دی ہے۔
سعودی خواص اور عوام پاکستان کو اپنا سچا اور مخلص ترین دوست ہی نہیں بھائی سمجھتے ہیں۔ ارضِ مقدس میں اپنے طویل قیام کے دوران میرے چشم دید مشاہدات کے مطابق سعودی حکمران اپنے پاکستانی بھائیوں پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان کا سعودی عرب سے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو‘ پاکستان حرمین شریفین کے دفاع کو اہم ذمہ داری سمجھتا ہے۔ تاہم حالات کی پیچیدگی کے مطابق اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ خطے میں جنگ کو پھیلنے سے روکا جائے۔ دو مسلم ملکوں کے مابین کشیدگی کو کم کیا جائے اور ساری کوششیں ارضِ فلسطین میں اسرائیل کی ظالمانہ و سفاکانہ حرکتوں اور حملوں کے خاتمے پر مرکوز کی جائیں۔ آزادیٔ فلسطین کو مطلوب و مقصود قرار دیا جائے۔ سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں امریکی فوجوں اور اس کے برّی و بحری ٹھکانوں کا مقصد اسرائیل کا دفاع‘ پیٹرو ڈالر اور علاقے کے عرب مسلم ملکوں کے درمیان باہمی جنگیں چھیڑنے اور انہیں زیادہ سے زیادہ ہوا دینے کی کوششیں کرنا ہے۔ 1970ء سے تیل کی دولت سے مالا مال ممالک نے اپنے دفاع کا تمام تر انحصار امریکہ پر رکھا ہوا تھا۔ اس کیلئے وہ ناقابلِ تصور حد تک امریکہ کو ادائیگیاں کرتے رہے مگر جب اُن کے دفاع کا موقع آیا تو سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کو احساس ہوا کہ امریکہ عربوں کیلئے اپنی دفاعی ذمہ داریوں سے دست کش ہو چکا ہے۔ اس وقت معاہدۂ مکہ کے تحت پاکستانی فوجیں سعودی عرب کے اندر رہتے ہوئے ارضِ مقدس کا دفاع کر رہی ہیں۔ پہلے جمعرات‘ پھر جمعہ کو پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ مکہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب کا دفاع ہے‘ یمن میں فوجی کارروائیاں نہیں۔ ان بیانات کا یہ مقصد واضح ہے کہ پاکستان کسی دوسرے مسلم ملک کے اندر جا کر کارروائیاں کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
یمن اور سعودی عرب کا تنازع آج کا نہیں بہت پرانا ہے۔ سعودی عرب کے جنوب میں واقع عیسر‘ خمیس مشیط اور نجران کی ملکیت دونوں ملکوں کے درمیان متنازع تھی۔ 1934ء میں اُس وقت کے شاہ عبدالعزیز آل سعود نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ بعد ازاں اسی برس معاہدۂ طائف کے تحت یمن نے مذکورہ بالا علاقوں پر سعودی عرب کی ملکیت تسلیم کر لی تھی۔ 1962ء میں یمن میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو مصر کے اُس وقت کے فوجی صدر جمال عبدالناصر نے نئی حکومت کی معاونت کیلئے 70 ہزار فوجی یمن بھیجے جس پر سعودی عرب اور مصر کے تعلقات کشیدہ ہو گئے کیونکہ سعودی عرب یمنی بادشاہت کی حمایت کر رہا تھا۔ 1990ء میں یمن نے کویت کے معاملے پر سعودی مؤقف کی حمایت نہ کی تو سعودی عرب نے آٹھ لاکھ یمنیوں کو وہاں سے نکال دیا۔ اس سے پہلے سعودی شاہی خاندان کی سینئر قیادت نے یمنیوں کی تالیفِ قلب کی خاطر انہیں سعودی عرب میں عربوں اور غیر عربوں کے مقابلے میں بہتر ورکنگ حقوق دے رکھے تھے۔ سعودی عرب میں ہر ورکر کو سرکاری یا غیر سرکاری کفیل کی ضرورت ہوتی ہے مگر یمنی تنور پر روٹیاں لگانے‘ گاڑیوں کی ورکشاپس اور اسی نوعیت کے چند اور کام بغیر کفیل کے کرنے کے مجاز تھے۔
1979ء میں جہیمان عتیبی کی قیادت میں ایک انتہا پسند مذہبی گروہ نے مسجد الحرام مکۃ المکرمہ پر قبضہ کر لیا جو دو ہفتے تک جاری رہا۔ تب ہمارے سعودی بھائیوں کو اندرونِ ملک سعودی عرب کے دفاع کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ 1982ء میں جنرل محمد ضیا الحق کے زمانے میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ایک تاریخی نوعیت کا معاہدہ ہوا جسکے مطابق سعودی فوجیوں کی عملی تربیت کے ایک وسیع پروگرام کیلئے پاکستان کے عسکری ماہرین اور فوجی دستے وہاں متعین کیے گئے۔ میں تب سعودی عرب میں موجود تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے عسکری تعاون کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب سعودی جوانوں اور افسروں کی تنخواہوں کے مطابق ہی پاکستانی فوجیوں کے مشاہرے طے پائے۔ سعودی عرب اور یمن کے مابین تنازع کسی نہ کسی صورت چلتا رہا۔ 2015ء میں سعودی عرب کی خواہش تھی کہ پاکستان یمن میں اپنی فوجیں بھیجے۔ اس وقت وزیراعظم میاں نواز شریف نے معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا تو پارلیمنٹ کی متفقہ رائے یہ تھی کہ ہم سعودی عرب کے اندر تو اپنے بھائیوں کا دفاع کریں گے مگر یمن میں فوجیں نہیں بھیجیں گے۔ 1979ء میں ایران میں خمینی صاحب کا انقلاب آیا تو عرب ریاستوں کو امریکہ وغیرہ نے درپردہ ڈرایا کہ اسی طرح تمہاری بادشاہتوں کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے‘ اسلئے آپکو پیش بندی کرنی چاہیے۔ حالانکہ ان ریاستوں کی عوام دوست پالیسیوں کی بنا انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ تاہم صدام حسین نے کئی امیر عرب ریاستوں کی پشت پناہی سے 1980ء میں ایران پر حملہ کر دیا۔ اس طرح عرب دنیا کی سب سے بڑی‘ عراقی فوج بے حد کمزور ہو گئی۔ ادھر ایران ابھی انقلابی اقدامات سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے جنگ کی ہلاکت خیزیوں اور ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2003ء میں امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ عراق کے پاس مہلک کیمیائی ہتھیار ہیں۔ اس بہانے کے تحت عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ 2011ء میں تیونس سے بہارِ عرب کی لہر چلی تو بہت سے ملکوں میں عوامی احتجاجی لہریں اٹھیں۔ تیونس اور مصر کی دہائیوں پرانی آمریتیں ڈھیر ہو گئیں۔ امیر عرب ریاستوں کو ایک بار پھر باور کرایا گیا کہ جمہوری حکومتیں تمہارے لیے خطرہ ہیں حالانکہ ایسی ہرگز کوئی بات نہ تھی۔ مصر میں تین دہائیوں کے بعد پہلے آزادانہ انتخابات میں محمد مرسی کی منتخب حکومت کا جنرل السیسی نے امریکہ کی اشیرباد اور عرب ریاستوں کی مدد سے تختہ الٹ دیا۔
اب سوال ہے کہ حوثی کون ہیں؟ اس تحریک کا آغاز حسین بدر الدین حوثی نے 1990ء کی دہائی میں حکومت کے خلاف آواز اٹھا کر کیا تھا۔ اس تحریک کا نام انصار اللہ ہے۔ 2014ء میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ ملک کے شمالی علاقوں پر اُن کا قبضہ ہے۔ حوثی قبیلہ یمن کی کل آبادی کا 33 فیصد ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک کی اکثریت اُن کے ساتھ ہے۔ آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے باہمی جنگ میں چوبیس گھنٹوں میں63 افراد ہلاک ہوئے جن میں 35 یمنی فوجی اور 28 حوثی تھے۔ ان جھڑپوں کے نئے پرانے جو بھی اسباب ہوں‘ حوثیوں کو فوراً حملے روک دینے چاہئیں اور پاکستان کو دوطرفہ کشیدگی ختم کرانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ خطے میں دو مسلم ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی اسرائیل کو ہوتی ہے۔ دیکھئے ایک ہندو شاعر لالہ مادھو رام جوہر کا شعر ہم مسلمانوں پر کتنا صادق آتا ہے:
جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved