تحریر : شاہد کاردار تاریخ اشاعت     13-10-2026

سول سروس: وقت بدل گیا‘ نظام نہیں

کسی بھی نظام میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ پالیسیوں کا تجزیہ کریں لیکن پاکستان میں سول سروس کے نظام کی تشکیل اس طرح ہوئی کہ پالیسی سازی کی مہارت میں اضافہ کرنے میں اس کا کردار بہت کم ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ایک جنرلسٹ گروپ یعنی پی اے ایس (سابقہ ڈی ایم جی) کے افراد کی اعلیٰ ملازمتوں پر اجارہ داری ہے حالانکہ ان کا علم اور مہارت محدود ہے۔ یہ گروپ تمام اہم اور بڑے عہدوں پر فائز ہے اور انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ پی اے ایس کا تیار کردہ سول سروس کا ڈھانچہ ماضی میں پھنسا ہوا ہے۔ سپیشلائزیشن کے موجودہ دور میں ایک جنرلسٹ جس کے پاس غیر ٹیکنیکل تعلیمی ڈگری ہو اور وہ صبح کے وقت سیکرٹری تعلیم‘ دوپہر میں سیکرٹری صحت اور شام کو سیکرٹری خزانہ بن سکتا ہے حالانکہ اس کے پاس بدلتے ہوئے دور اور ٹیکنالوجیکل پیش رفت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ یہ افسران خود کو ہی حکومت اور نظام کا محافظ سمجھتے ہیں (جیسا کہ صوبائی رُولز آف بزنس میں درج ہے) اور یہ کہ وہ ایک خاص الخاص منتخب طبقہ ہیں۔ انہیں ہنرمند پیشہ ور ماہرین (سرکاری شعبے میں ڈاکٹروں‘ سائنسدانوں وغیرہ) یا حکومت کے نچلے درجے کے ملازمین کے مقابلے میں برتر سمجھا جاتا ہے اور یہ ضمانت دی گئی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عہدے میں ترقی ملتی رہے گی۔ عام بات ہے کہ ان کی جلد پروموشن کیلئے غیر ضروری اور فالتو نئے عہدے بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات‘ ترقی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایک عہدے کو مزید تقسیم کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ذمہ داری بکھر جاتی ہے۔ نتیجتاً ملک ایک ایسے نظام کو بچانے کیلئے بھاری قیمت ادا کرتا ہے جس میں کوئی دوسرا انتظامی عملہ اتنی جلدی ترقی نہیں کرتا اور سول سروس میں اعلیٰ ترین سطحوں تک پہنچنے کے قابل نہیں ہوتا۔
اگرچہ پی اے ایس افسران اپنے کیریئر کے تقریباً نصف حصہ میں پالیسی سازی سے متعلق عہدوں پر فائز رہتے ہیں۔ ان عہدوں پر کام کرنے کیلئے متعلقہ مخصوص شعبے کا علم ہونا ایک اہم ضرورت ہے لیکن ان کے بار بار تبادلے ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں یہ ترغیب نہیں ہوتی کہ وہ ایک مخصوص شعبے کا علم حاصل کریں‘ لہٰذا فیصلہ سازی کرنے والے جنرلسٹ سے پہنچنے والے نقصانات بار بار ہونے والے ان تبادلوں کے نظام کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سول سرونٹس کا احتساب بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ کارکردگی کی بنیاد پر ان کی قدر وقیمت متعین کی جا سکتی ہے۔ پی اے ایس افسران اپنی کارکردگی کے حوالے سے اپنے علاوہ کسی اور کے سامنے جوابدہ نہیں۔ ان کی کارکردگی کی جانچ کا عمل اور رپورٹیں خفیہ ہوتی ہیں۔ مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک طرف تو وہ زور وشور سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت میں سرگرم لوگ یا گروہ مسابقتی ماحول میں کام کریں اور کارکردگی کی بنیاد پر ڈوبیں یا تیریں لیکن دوسری طرف اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ خود ان کی ترقیوں کیلئے کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ مزید یہ کہ سرکاری ملازمین کے عوامی احتساب کے طریقہ کار‘ جیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور شکایات کے ازالے کے دیگر نظام موجود ہیں لیکن مؤثر نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب میں 1985ء سے 2000ء کے عرصے کے دوران صرف 102سرکاری اہلکاروں کے خلاف کسی بے قاعدگی پر کارروائی کی گئی اور ان میں بھی سزا کی شرح 20 فیصد سے کم رہی جبکہ کارروائیاں کئی سال تک جاری رہیں۔ یہ نظام سرکاری ملازمین کا تحفظ کرتا ہے۔ حتی کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی مشکل ہے جو ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے چہ جائیکہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو دفتر آتے تو ہیں لیکن کوئی خدمت فراہم نہیں کرتے۔ رہنما اصول یہ ہے کہ پالیسی پر عملدرآمد کا محور میرٹ پر منتخب فرد کو بنایا جائے۔ اگر فرد کی اہلیت کو کم اہم سمجھا جائے تو مؤثر ادارہ جاتی انتظام اور اس سے وابستہ نظام کی تشکیل نہیں کی جا سکتی۔ مرکزی کنٹرول: اس وقت ہمارے انتظامی ڈھانچے میں اختیار اور فیصلہ سازی حد سے زیادہ مرکزیت کی حامل ہے اور بعض اوقات شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ اس سبب نچلی سطح پر کام کرنے والوں کے لیے پہل کرنے یا کوئی کام شروع کرنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ انتہائی سخت کنٹرول والے نظام میں پروسیجرز سے متعلق معلومات بآسانی دستیاب نہیں ہوتیں اور قواعد و ضوابط کا نفاذ غیر شفاف‘ من مانے اور صوابدیدی انداز میں کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نظام میں فیصلے کو روکنے کا اختیار یعنی ویٹو بھی بڑے پیمانہ پر موجود ہے۔ تقریباً کوئی بھی شخص کسی کام کو ناکام بنا سکتا ہے۔ ایک معمول بن گیا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے اداروں کو کمزور کرکے اختیارات کو شخصی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں منصب پر موجود افراد من مانے طریقہ سے لوگوں کی سرپرستی کرتے اور مراعات تقسیم کرتے ہیں۔ اس کلچر میں معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے غیر ادارہ جاتی طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں یا کارروائی اور طریقہ کار کو اپنے مقصد کے مطابق توڑا مروڑا جاتا ہے۔
سرکاری ملازمین بالخصوص پی اے ایس وزرا کو ''بیرونی عناصر‘‘ سمجھتے ہیں جو پالیسی سازی کے عہدوں پر عارضی طور پر فائز ہوتے ہیں اور جنہیں خوش رکھا جانا چاہیے۔ یہ رویہ اس لیے بھی مضبوط ہوجاتا ہے کہ عمومی طور پر سیاستدانوں کی اپنے متعلقہ شعبہ کے بارے میں معلومات ناکافی ہوتی ہیں اور اہلیت بھی کم ہوتی ہے۔ سرکاری افسروں کے سیاستدانوں کے بارے میں اس تصور کو اس طرح ختم کیا جا سکتا ہے کہ عہدے کے فوائد وزیر اور افسروں میں باہمی تقسیم کردیے جائیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مندرجہ بالا نظام سیاسی ڈھانچے میں گہری جڑیں پکڑ چکا ہے جس کی وجہ سے اس سول سروس کی دیانتداری‘ خودمختاری‘ غیر جانبداری اور اہلیت متاثر ہوئی ہے۔ اس نظام اور تبادلوں کی دھمکی نے سیاستدانوں کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ افسر شاہی پر اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے کے لیے افسروں کے ساتھ ''ذاتی وفاداریاں‘‘ اور گٹھ جوڑ بنائیں۔ یہ اتحاد سرکاری افسر کے پورے ملازمتی دور تک قائم رہتے ہیں۔ سیاستدان من پسند افسروں کو اہم عہدوں پر تقرر کرکے انہیں مخصوص لوگوں کی سرپرستی کرنے اور نوازشات دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ خود سیاستدانوں کو ان کاموں کی ذمہ داری قبول نہیں کرنا پڑتی۔ بعض سرکاری ملازمین کے سیاسی آقاؤں کے سامنے جھک جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان افسروں کی قابلیت اور مہارتیں محدود یا ناکافی ہوتی ہیں جس کے باعث مارکیٹ میں ان کی قدرو قیمت محدود رہ جاتی ہے اور ان میں کوئی دوسری ملازمت یا آمدنی کا موقع حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی؛ چنانچہ ان میں سے کئی افراد سرکاری ملازمت میں عہدے حاصل کرنے کیلئے اپنے محکمے کے اندر موجود ذاتی تعلقات یا سیاسی قیادت سے روابط کے ذریعے جوڑ توڑ اور لابنگ پر انحصار کرتے ہیں‘ اس لیے ان لوگوں میں زیادہ لچک آ جاتی ہے اور یہ زیادہ جھکنے لگتے ہیں۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد حکومت کے ڈھانچے میں آرام دہ اور مراعات یافتہ عہدوں کا لالچ ان افسروں میں مزید لچک پیدا کر دیتا ہے۔ وہ خود کو ایسا بنا لیتے ہیں کہ آسانی سے دباؤ قبول کر لیں۔ آج کل بعض اعلیٰ افسران کو سبکدوشی کے بعد نجی شعبہ بھی ملازمت دے دیتا ہے اس لیے نہیں کہ ان میں کوئی مخصوص علمی مہارت یا قابلیت ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے پرانے تعلقات اور اثر ورسوخ کے باعث سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہو کر اس نجی ادارے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ آئندہ مضمون میں ہم اس موضوع کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved