تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     14-10-2026

لاہور، دہلی، اسلام آباد تک ماحولیاتی بربادی

پی ٹی آئی کو یقین تھا کہ صوبے میں گورنر راج نہیں لگے گا۔ میرا بھی خیال تھا کہ وفاقی حکومت اس حد تک نہیں جائے گی۔ پی ٹی آئی اور میرے یقین میں فرق تھا۔ پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت پر یقین تھا کہ اگر گورنر راج لگا تو ہزاروں‘ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ بھی لگتا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کی جو صورتحال ہے‘ وفاقی حکومت حالات نہیں سنبھال پائے گی۔ بلوچستان اور کشمیر کے حالات بھی سامنے ہیں۔ اوپر سے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو بھی ناراض کر رکھا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ صدر زرداری خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر راضی نہیں ہوں گے۔ پیپلز پارٹی پر دباؤ ہو گا کہ اگر آج صدر زرداری نے کے پی کے میں گورنر راج لگایا تو کل کو سندھ میں بھی اس کی راہ ہموار ہو سکتی ہے لہٰذا صدر زرداری خیبر پختونخوا کی حکومت کو اپنے مفاد میں بچائیں گے۔ مطلب یہ کہ پی ٹی آئی کا زیادہ انحصار پیپلز پارٹی کے ارکان کے گورنر راج کے خلاف بیانات اور صدر زرداری پر تھا‘ لہٰذا اپنی حکومت کو کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے بچانے کے بجائے وہ ضد پر اترے اور لانگ مارچ شروع کر دیا۔ میرا خیال کچھ اور تھا۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی پچھلے تیرہ سال سے حکومت کر رہی تھی اور ایسی طویل حکومتوں سے لوگ بیزار اور تنگ آ جاتے ہیں۔ اگلے الیکشن میں شاید پی ٹی آئی کو وہ عوامی حمایت نہ ملتی جو اسے پچھلے تین الیکشنوں میں ملی‘ اس حکومت کو ختم کر کے آپ پی ٹی آئی کو سیاسی شہید بنا دیں گے‘ جیسے عمران خان بن گئے۔ بہتر ہوتا کہ اس حکومت کو باقی مدت بھی پوری کرنے دی جاتی۔ مسلسل حکومت کرنے کے جہاں فوائد ہیں وہاں نقصانات بھی ہیں کیونکہ لوگوں کو حکومت سے بہت سی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بھارت کو ہی دیکھ لیں جہاں بارہ سال سے نریندر مودی وزیراعظم ہیں۔ اب ان کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو ان کے دور میں بھارت میں معاشی ترقی نسبتاً زیادہ ہوئی ہے۔ اس وقت بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ لوگوں کی قوتِ خرید اور مڈل کلاس میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال 70 فیصد آئی فونز بھارت میں بنا کر امریکہ بھیجے گئے۔ اس وقت بھارت معاشی طور پر طاقتور ملکوں کے ہم پلہ ہے۔ بہت سے بھارتیوں کو تو یہ بھی گمان ہے کہ وہ بہت جلد دنیا کی نمبر ون معیشت بن جائیں گے‘ اگرچہ کچھ اب بھی کہتے ہیں کہ بھارت ابھی چین کے معاشی معیار اور ترقی سے بہت دور ہے کیونکہ صرف پیسہ‘ زرمبادلہ کے ذخائر یا تجارت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ عوام کا معیارِ زندگی اور معیاری انفراسٹرکچر بھی کسی ملک کو سپر پاور کے درجے پر فائز کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حال ہی میں ایک کانفرنس میں ایک عالمی مالیاتی ادارے کی خاتون سربراہ نے کہا کہ بھارت کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے اسے وہ عالمی پوزیشن نہیں ملے گی جس پر دیگر ممالک کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی معاشی ترقی کو سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی سے ہے اور بھارت اس وقت آلودگی میں پہلے نمبر پر ہے۔ باقی چھوڑیں دارالحکومت دہلی میں آلودگی کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے۔ دہلی دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے۔ اس خاتون نے‘ جو بھارتی نژاد ہے‘ بڑی خوبصورت بات کہی کہ اس معاشی ترقی کا آپ نے کیا کرنا ہے اگر آپ کے ہاں جنگل کٹ رہے ہوں‘ سبزہ ختم ہو رہا ہو‘ شہر گندگی سے بھرے پڑے ہوں‘ ہر طرف بُو ہو۔ اس بیان پر بھارت میں خاصا شور مچا۔ ایک تو مودی کے ان دس بارہ برسوں میں بھارتیوں کے اندر بہت پھونک بھر دی گئی ہے کہ وہ پوری دنیا سے الگ مخلوق ہیں‘ اُن پر کوئی تنقید یا منفی تبصرہ نہیں کر سکتا‘ لہٰذا ان سب نے جی بھر کر اُس خاتون کو برا بھلا کہا۔ لیکن کیا اس خاتون نے بھارت میں رہنا ہے یا اسے اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ بھارت سرسبز رہتا ہے‘ وہاں درخت یا جنگل بچ جاتے ہیں اور شہر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں؟ اس خاتون نے میرے سوچنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا کہ آپ کے پاس سات سو ارب ڈالر بھی ہوں تو بھی آپ پسماندہ ہیں‘ کیونکہ آپ کے ملک کا ماحول برباد ہے۔ وہی ممالک اچھے اور سپر پاور ہیں جو معاشی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی طور پر بھی محفوظ ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ کوئی بزنس مین بھارت میں زیادہ دیر کیوں رہے گا‘ اگر وہاں کا ماحول آلودہ ہے اور وہ سانس تک نہیں لے سکتا اور پورے دہلی کو سموگ نے گھیر رکھا ہے۔
ہم بھی اس وقت اسلام آباد کے ساتھ یہی بربادی کر رہے ہیں۔ پہلے یہ کام شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں لاہور میں ہوا۔ پورے پنجاب کا بجٹ لاہور پر لگا دیا گیا۔ پورے صوبے سے لوگ ہجرت کر کے لاہور آن بسے اور یوں سارے انفراسٹرکچر پر دباؤ پڑا۔ اس وقت لاہور بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں دریائے راوی کے کنارے جنگلات اور ہزاروں ایکڑ سونا اگلتی زمینیں‘ سب کچھ بلڈرز کو دے دیا گیا۔ جو خالی کھیت نظر آیا‘ وہاں سیمنٹ اور سریا ٹھوک دیا گیا اور لاہور اب سانس نہیں لے سکتا۔وہی ماڈل اب اسلام آباد میں شروع ہے۔ یہاں بھی دو سالوں میں ہزاروں درخت کاٹے‘ بڑے بڑے جنگلات کاٹ ڈالے گئے ہیں اور اسلام آباد کا ماحولیاتی توازن بگڑتا جا رہا ہے۔ وہی اسلام آباد جہاں روزانہ بارشیں ہوتی تھیں‘ وہاں اب گرمیوں میں درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ ستمبر بھی گرم گزرا ہے۔ ابھی ایک اور خطرناک کام کیا جا رہا ہے کہ سری نگر روڈ پر سپورٹس گراؤنڈ کے نزدیک ایک بڑے جنگل کی نیلامی کر کے وہاں ہوٹل بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایف فائیو میں بھی نیا کنونشن سنٹر کم ہوٹل بنایا جا رہا ہے اور مزے کی بات یہ کہ موجودہ کنونشن سنٹر برسوں سے خالی پڑا ہے اور اسے 2017ء سے نجکاری کمیشن نے فروخت کی فہرست میں ڈالا ہوا ہے کہ اسے بیچ دیں۔ اب تک وہ نہیں بکا تو اب دو نئے کنونشن سنٹرز بن رہے ہیں۔ اربوں کی لاگت سے نیا کنونشن سنٹر بہارہ کہو میں بنے گا اور ساتھ ہی ایف فائیو سیکٹر میں ہوٹل نما کنونشن سنٹر بھی بنے گا۔اس کے علاوہ ڈی بارہ سیکٹر‘ جو پہاڑوں کے ساتھ کا علاقہ ہے‘ وہاں دس بارہ ارب کی لاگت سے نیا کرکٹ سٹیڈیم بنایا جا رہا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ پنڈی کرکٹ گراؤنڈ وہاں سے صرف دس منٹ کی ڈرائیو پر ہے‘ جو پورا سال خالی پڑا رہتا ہے‘ لیکن اسلام آباد میں کئی ایکڑوں پر محیط علاقہ بلڈوز کر کے نیا سٹیڈیم بنے گا جہاں ہر طرف درخت‘ جنگل اور پہاڑ ہیں‘ جو کٹیں گے۔ اس سال سی ڈی اے کا بجٹ 152ارب ہے اور سارا پیسہ جنگل‘ درخت‘ سبزہ‘ گرین بیلٹس اور پہاڑ کاٹ کر وہاں ہوٹل‘ کرکٹ گراؤنڈز اور کنونشن سنٹرز بنانے پر خرچ ہو رہا ہے۔
حیران ہوں کہ 24 کلومیٹر کا چھوٹا سا شہر جہاں پہلے ہی دو تین سو ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں‘ اتنی ماحولیاتی بربادی کیسے برداشت کر سکتا ہے جتنی اس وقت کی جا رہی ہے۔ یہ سب وزیر‘ سفیر‘ سیاستدان اور سرکاری بابو دو تین سال منافع کما کر پرتگال میں جائیدادیں خریدیں گے اور پیچھے لوگ اس ماحولیاتی آلودگی کا عذاب بھگتیں گے‘ جیسے اس وقت لاہور اور نئی دہلی بھگت رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ان ظالموں کے ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہیں۔ اس شہر کو ترقی کے نام پر برباد کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ اپنے ایک پاؤ گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کر رہے ہیں۔
اگر بھارت کے سات سو ارب ڈالر بھی بھارتی عوام کو سڑکوں پر آنے سے نہیں روک سکے تو سمجھ لیں کہ معاشی ترقی سب کچھ نہیں ہوتی‘ جیسے اس عالمی ادارے کی خاتون نے بھارت کو طنزاً کہا تھا کہ لائف سٹائل اور خوبصورت ماحول اہم ہوتے ہیں‘ ورنہ آپ تیسری دنیا کے پسماندہ لوگ ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved