ایک جواں سال بیٹی نے اپنی جان لے لی۔ ایک روشن مستقبل کو مزید روشن کرنے کے لیے‘ اس نے ایک کوشش کی۔ یہ ناکام ہوئی تو وہ دل ہار بیٹھی۔ دل ہاری تو جان بھی ہار گئی۔ معاشرے میں ایک اضطراب ہے۔ اس اضطراب اور بے چینی کی زندگی کتنی ہے؟
ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ مختاراں بی بی تو آپ کو یاد ہو گی۔ چلیں‘ اس واقعے کو کچھ برس گزر گئے۔ رانی پور کی فاطمہ کا قصہ تو چند ماہ پہلے کا ہے۔ ایک کم سن بچی ایک پیر کے گھر میں ملازم تھی۔ پیر کی ہوس کا نشانہ بنی۔ پہلے عزت سے گئی‘ پھر جان سے۔ واقعے کی وڈیو موجود ہے۔ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ پھر صلح ہوگئی۔ پیر صاحب باعزت طور پر رہا ہو گئے۔ اس وقت بھی اسی طرح شور اٹھا۔ اضطراب پیدا ہوا اور پھر ایک طویل خاموشی۔ ایسی خاموشی جو بالعموم وہاں ہوتی ہے جہاں لوگوں کی یادداشت کھو جائے۔ یادداشت اگر اجتماعی طور پر کھو جائے تو بڑے المیے بھی طاقِ نسیاں کی نذر ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعات ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان میں ایک مطابقت بھی ہے۔ مختاراں مائی ہو یا فاطمہ‘ ان واقعات کا تعلق خواتین کے حقوق سے ہے‘ معاشرتی اقدار سے ہے اور مذہبی استحصال سے بھی۔ لائبہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس میں کچھ اور مسائل ہیں۔ وہ‘ جن کا تعلق معاشرے کی اخلاقی حالت سے ہے۔ پھر نئی نسل کے نفسیاتی مسائل ہیں‘ جو اس حادثے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے یہ واقعات ہمہ جہت تجزیے کے متقاضی ہیں۔ ان واقعات میں جو بات مشترک ہے میں اسی کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔
معاشرہ ایسے واقعات پر جس ردعمل کا اظہار کرتا ہے وہ چند دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ دکھ اور افسوس کے لمحات‘ کوئی تاثر چھوڑ ے بغیر جلد گزرتے ہیں۔ ہم ذہنی اور جذباتی طور پر ایک نئے حادثے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘ ان واقعات کو مشیتِ ایزدی جان کر‘ ہم ان پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ مشیتِ خداوندی کا یہ مفہوم‘ ہمارے دین میں تو نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو جزا وسزا کا تصور بے معنی تھا۔ بیعتِ رضوان جیسے واقعات کو قرآن مجید بیان نہ کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسولﷺ بھی ایسی خبروں کو خدا کی مرضی قرار دے کر نظر انداز کر دیتے۔ ان واقعات کی یہ تفہیم درست نہیں۔ ہم اکثر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا واقعہ انسانی اعمال کا نتیجہ ہے اور کون سا شامتِ اعمال ہے۔ میں فی الحال بات کو انسانی اعمال سے متعلق رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ معاشرے کی عمومی بے حسی کا اظہار ہے۔ کسی معاشرے کا اجتماعی سطح پر انسانی المیوں کے بارے میں بے حس ہو جانا ایک بڑا حادثہ ہے۔ میں اس کے ایک سبب کو بیان کرنا چاہتا ہوں اور پھر اس کے دو نتائج کو۔ میں ماہرِ نفسیات نہیں ہوں۔ اگر نفسیات کا ماہر تجزیہ کرے گا تو وہ اس فہرست کو طویل کر سکتا ہے۔ میرا انحصار تو روز مرہ مشاہدے پر ہے۔ گویا یہ واقعات بعض حوالوں سے اتنے ناطق ہیں کہ ان سے مجھ جیسا ایک عامی بھی نتائج اخذ کر سکتا ہے۔ ایسا کثرتِ واقعات سے ہوتا ہے۔ جب واقعات بڑھ جائیں تو نتائج کا ظہور بھی کثرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اتنی کثرت کہ واقعات کے ساتھ نتائج بھی صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔
پہلے ہم سبب کی بات کرتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو اس کے دو نتائج متوقع ہوتے ہیں۔ بے حسی اور لاتعلقی یا غصہ اور بغاوت۔ اظہارِ ذات یا اظہارِ رائے‘ ایک فطری جذبہ ہے۔ یہ جذبہ دو طرح سے ظہور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ بقا کے فطری مطالبات پورے نہ ہوں تو انسانی وجود کے اندر سے احتجاجی صدائیں اٹھتی ہیں۔ بچہ بھی روتا ہے جب اسے دودھ نہیں ملتا۔ جبلی اور فطری مطالبات پورے نہ ہوں تو آدمی مر جاتا ہے یا نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ بے حسی موت ہی کی ایک صورت ہے۔ جب انسان گرمی سردی‘ ہجر و وصال‘ خوشی اور غمی کے جذبات سے آزاد ہو جاتا ہے۔ منیر نیازی نے اسے اپنے اسلوب میں بیان کیا ہے:
وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے منیرؔ
کوئی بچھڑ کے چلا جائے غم نہیں ہوتا
اسی طرح ہر وقت احتجاج اور شکایت کے موڈ میں رہنا‘ نفسیاتی مرض ہے۔ ناکامی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ایک شکست کو دائمی شکست سمجھ لینا‘ اسی نفسیاتی مرض کی علامات ہیں۔ یہ مرض بھی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نفسیاتی مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ اب اظہارِ ذات اور اظہارِ رائے ایک فطری تقاضا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ بنیادی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ممنوع ہو۔ جیسے کوئی اپنی بات کہنا چاہے تو اسے روک دیا جائے۔ یہ ہر آدمی کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ نے ایک صلاحیت عطا فرمائی ہو اور وہ اس کا اظہار نہ کر سکے۔ جیسے کوئی پیدائشی موسیقار ہے یا کوئی مصور ہے‘ اب اسے گانے یا تصویر بنانے سے روک دیا جائے۔ معاشرے میں گھٹن اس وقت ہوتی ہے جو ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک صورت کا ظہور ہو۔ یہ گھٹن کبھی ریاست پیدا کرتی ہے اور کبھی معاشرہ۔ معاشرے میں پھیلے ہوئے تصورات اظہارِ ذات یا اظہارِ فن کے راستے میں حائل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی ریاست بھی زبان بندی کر دیتی ہے۔
جب ان دونوں یا ایک صورت میں استمرار ہو اور معاشرہ مسلسل گھٹن کا شکار رہے تو اس کے نتیجے میں دونوں یا ایک رویہ ضرور پیدا ہوتا ہے۔ یا معاشرہ بے حس ہو جاتا یا باغی۔ ایک معاشرے میں ممکن ہے ایک طبقہ بے حس ہو جائے اور دوسرا باغی۔ بے حسی کے نتیجے میں‘ بڑے سے بڑے واقعے پر سماج میں ردعمل نہیں ہوتا۔ اور اگر ہوتا ہے تو قلیل وقت کے لیے۔ آہستہ آہستہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ لوگ بُری باتوں کو بھی معمول کا واقعہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ اسی کو بیان کرتے ہوئے‘ اقبال نے کہا تھا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔ یہ وہی کیفیت ہے کہ کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن۔ اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ سماج بانجھ ہو جاتا ہے‘ فنون مر جاتے ہیں اور علم کا ارتقا رک جاتا ہے۔ بڑے دماغ دوسرے معاشروں کو ہجرت کر جاتے ہیں اور پیچھے بونے رہ جاتے ہیں۔ اکثریت بغاوت پر آمادہ ہو جائے تو انارکی پھیلتی ہے۔ اسے ہم انقلاب کہتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ سیاسی نظم درہم برہم ہو جاتا ہے۔ پھر لوگ 'الف‘ کا غصہ 'ب‘ پر نکالتے ہیں۔ ریاست جبر سے امن قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس سے امن تو آ جاتا ہے مگر قبرستان والا۔ یا پھر وہ سکوت جو زلزلے سے پہلے دکھائی دیتا ہے۔
اگر آج رانی پور کی فاطمہ ہماری یادداشت میں تادیر قیام نہیں کرتی یا لائبہ کا ذکر ہفتے عشرے میں قصہ پارینہ بن جاتا ہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ بے حسی نے ہمارے گھروں کا رخ کر لیا ہے۔ یہ ایک قومی المیے کا اعلان ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کے آثار کم ہو رہے ہیں۔ اگرہم معاشرے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کو سانس لینے کا موقع دینا ہو گا۔ انہیں اظہار کا موقع دینا ہو گا۔ ریاست اور سماج‘ دونوں کو اپنی اداؤں پر غور کرنا ہو گا۔ ریاست کی نمائندگی ریاستی ادارے کرتے ہیں اور سماج کی طبقات۔ یہ طبقات سیاسی ہو سکتے ہیں اور مذہبی بھی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved