تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     15-10-2026

ایمرجنسی کے بعد اب کیا ہونے والا ہے؟

قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن نے حسبِ توقع اور حسبِ سابق صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور نعرے لگائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب صوبائی حکومت کی بحالی کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں یا کچھ امکانات ابھی باقی ہیں؟
قوموں‘ معاشروں اور افراد کی معمول کی زندگی تو چلتی رہتی ہے لیکن کچھ فیصلے‘ اقدامات اور پالیسیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے اثرات اور نتائج نہایت دور رس اور گہرے ہوتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ملک کی سیاست میں ایک اہم اور دیرپا اثرات والا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے اس اقدام نے صوبائی خود مختاری‘ قومی سلامتی اور جمہوری مینڈیٹ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کئی طرح کے امکانات اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بہت سے دوسرے سوالات کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صوبے کے حالات واقعی غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کر رہے تھے اور ایمرجنسی کیوں ضروری سمجھی گئی؟
اس سلسلے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی‘ بدامنی اور سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے‘ ایسے حالات میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ‘ قانون کی عمل داری اور امن و امان کا قیام ریاست کی اولین ذمہ داری بنتی ہے‘ اگر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مابین سکیورٹی پالیسی پر اختلافات مؤثر کارروائی میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کے جواز میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور انتظامی ناکامیوں کو بنیاد بنایا ہے۔ حکومت کے مطابق غیرمعمولی حالات میں مرکز کی مداخلت ناگزیر ہو گئی تھی۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اسے غیرضروری اقدام قرار دیا ہے۔
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور سیاسی بے یقینی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی وجوہات صرف سیاسی جماعتوں کے اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق آئینی اداروں کے کردار‘ جمہوری روایات‘ انتخابی نظام‘ معاشی مسائل‘ حکمرانی اور ریاستی اداروں کے باہمی تعلقات سے بھی ہے۔ سیاسی استحکام کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسا مؤقف اختیار کر لیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور اصولی اختلافات کے باوجود آئین کی پابندی ہو‘ حکومتیں قانونی طریقے سے تبدیل ہوں‘ ادارے اپنی متعین حدود میں کام کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاں قومی مفادات‘ قومی وقار اور قومی سلامتی کی بقا جیسے معاملات درپیش ہوں وہاں سب سیاسی جماعتیں ہر طرح کے اختلافات طاق پر رکھ کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کے حوالے سے واقعی صورتحال ایسی تھی کہ وفاق اور صوبے میں تعاون بالکل ختم ہو چکا تھا تو اس کا جواب وفاقی حکومت ہاں اور صوبائی حکومت ناں میں دے رہی ہے‘ لیکن اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہاں وفاق اور صوبے کے مابین وہ ہم آہنگی موجود نہیں تھی جو ایک آئیڈیل صورتحال میں موجود ہوتی ہے۔ سیاسی استحکام کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی‘ جبکہ اداروں کو اپنے قانونی دائرہ اختیار کا احترام کرنا ہو گا۔
اگر وفاق اور صوبے یا صوبوں میں ہم آہنگی نہ ہو تو ایسی صورتحال میں آئین بروئے کار آتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 اندرونی بدامنی کی ایسی صورت میں ایمرجنسی کی گنجائش فراہم کرتا ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو‘ جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں مخصوص اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن عام تاثر یہ ہے کہ حکومت نے ایمرجنسی کا نفاذ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوف زدہ ہو کر کیا۔ اس کی وجہ شاید ایمرجنسی لگائے جانے کا وقت اور صورتحال ہے۔ ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عروج پر تھا‘ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات ناکام ہو چکے تھے اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بار بار عوام کو یا شاید خود کو یہ یقین دہانی کرائی جا رہی تھی کہ اسلام آباد پر یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اب یہاں چار معاملات ہمارے سامنے ہیں‘ جو چار سوال بھی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس نے صوبے میں ایمرجنسی ٹھیک طور پر لگائی‘ عوام کو دکھانا ہو گا کہ ایمرجنسی لگائے جانے سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال یہ تھی اور اب یہ ہے۔ حکومت اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا چاہتی ہے تو یہ فوری طور پر شروع ہو جانا چاہیے اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آنے چاہئیں۔ ایمرجنسی اسی وقت مؤثر ثابت ہو گی جب اس کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی‘ شہریوں کے تحفظ اور انتظامی کارکردگی میں قابلِ پیمائش بہتری آئے۔
دوسرا معاملہ یا سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہو گا؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کی معطلی جماعت کیلئے ایک بڑا سیاسی اور انتظامی چیلنج ہے‘ مگر اس سے جماعت کے سیاسی مستقبل کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت‘ منظم کارکنوں اور اپنے سیاسی مؤقف کو عوام تک پہنچانے کا پلیٹ فارم موجود ہے۔ دوسری جانب اسے دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی‘ مؤثر صوبائی حکمرانی اور وفاق کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا ہو گی۔ پی ٹی آئی کیلئے سب سے اہم راستہ قانونی جدوجہد‘ پُرامن سیاسی سرگرمی اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ہے۔ اگر جماعت آئینی طریقوں سے اپنے حقوق کا دفاع کرتی ہے اور اپنی حکومتی کارکردگی کے بارے میں قابلِ اعتماد جواب دیتی ہے تو وہ سیاسی میدان میں اپنا کردار برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس مسلسل تصادم‘ غیر واضح حکمت عملی اور انتظامی مسائل پر جواب دہی سے گریز اس کیلئے مشکلات بڑھا سکتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صوبے کی منتخب حکومت کبھی بحال ہو سکے گی؟ اس کا ایک جواب تو درج بالا پیراگراف میں بیان کر چکا ہوں جو پی ٹی آئی کے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔ اس کا ایک جواب بلاول بھٹو کے اس بیان سے بھی ملتا ہے جس میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا: وزیراعظم شہباز شریف کو تجویز دیتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو ایک بار مذاکرات کی دعوت دیں تاکہ ہم سب مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں۔ اگر وزیراعظم بلاول بھٹو کی تجویز مان کر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیں‘ اگر حکومت پی ٹی آئی مذاکرات ہوں اور اگر مذاکرات میں فریقین میں اہم معاملات پر ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو باہمی رضا مندی سے گورنر راج کے خاتمہ اور صوبائی حکومت کی بحالی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں؟
ایک اور معاملہ یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس 15 اکتوبر کو یعنی آج مقرر کر رکھا ہے۔ اس کیس میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سزا یافتہ شخص کسی عوامی عہدیدار کی نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر اس کیس کا فیصلہ سہیل آفریدی کے حق میں آ گیا تو بھی شاید اس کا اثر صوبے میں لگائی گئی ایمرجنسی پر مرتب نہیں ہو گا۔ بہرحال پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے‘ جبکہ عدالت سے درخواست کی جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ بلاول بھٹو کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے سامنے یہ دوسرا دروازہ ہے جس کے کھلنے کا وہ انتظار کر سکتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved