تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     15-10-2026

کشمیر کا مسئلہ !

اس وقت پاکستان سنگین مسائل سے دوچار ہے‘ ان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی کشیدہ صورتحال بھی شامل ہے؛ اگرچہ مقتدرہ کا دعویٰ ہے کہ حالات اُس کے کنٹرول میں ہیں‘ علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو کچل دیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلامتی کے ادارے قربانیاں دے رہے ہیں‘ شہادتیں ہو رہی ہیں‘ لیکن صورتحال بظاہر قابو میں آتی ہوئی نظر نہیں آ رہی اور کبھی ایسا لمبا وقفہ بھی نہیں آتا کہ کوئی تخریبی کارروائی نہ ہو۔ کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اُسے معطل بھی کرنا پڑتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عام لوگ جو بلوچستان کے تنازع کا حصہ نہیں ہیں اور محض روزگار کیلئے بلوچستان یا وہاں سے گزر کر ایران جاتے ہیں‘ انہیں شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی اذیتناک کارروائی ہے۔ تخریب کار اور علیحدگی پسند عناصر کو ہماری مقتدرہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے تعبیر کرتی ہے‘ اُن کے جانی نقصانات کے مصدّقہ اعداد وشمار اور شناختیں دستیاب نہیں ہیں‘ بلکہ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں لاپتا افراد کی بابت اشارۃً کہا کہ وہ وطن دشمن عناصر کی صفوں میں موجود ہیں اور ہم انہیں مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن فوج سمیت سلامتی کے اداروں کے نقصانات بھی کم ہونے کو نہیں آ رہے‘ جبکہ ایک ایک افسر اور جوان کی تیار ی پر ریاست کے گراں قدر وسائل صرف ہوتے ہیں اور شہدا کے خاندانوں کی کفالت بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہر ناخوشگوار واقعے کے بعد حکمرانوں کا بیان آتا ہے کہ ان شہادتوں اور قربانیوں سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور ہم ان وطن دشمن عناصر کا خاتمہ کر کے دم لیں گے‘ لیکن بظاہر اُن کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ یہ بھی مسلّم ہے کہ پاکستان کے اندر سارے فساد کے پیچھے بھارت کی ایجنسی ''را‘‘ کا کثیر سرمایہ‘ تخریب کاری کی تربیت اور جدید اسلحے کی فراہمی بھی شامل ہے۔ بعض تجزیہ کار اس میں ایک خلیجی ریاست کے غیر مَرئی کردار کی بھی نشاندہی کرتے ہیں‘ لیکن ایک تو اس کے شواہد پیش کرنا دشوار ہے‘ مزید یہ کہ عَلانیہ اُن کا ذکر کرنا بھی یقینا ہماری ریاست کے مفاد میں نہیں ہے‘ اس لیے اس حوالے سے صبر وتحمل اور برداشت سے کام لیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین مسئلہ آزاد کشمیر کا ہے‘ جو سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں 2023ء میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قائم ہوئی‘ اس نے بظاہر جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو اپنے منشور کا حصہ بنایا‘ عوامی مظاہرے شروع کیے‘ ان کے ساتھ ابتدائی معاہدہ مئی 2024ء میں ہوا اور پھر معاہدۂ مظفر آباد 4 اکتوبر 2025ء کو ہوا۔ اس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کے نمائندے شامل تھے۔ آزاد کشمیر کو آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں وہ رعایت دی گئی‘ جس کاپاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر ہے اس سے ان کا اعتماد حد درجے بڑھا اور چونکہ عوام کو غیرمعمولی مادّی فوائد حاصل ہوئے‘ اس لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ اُن کا وابستہ ہونا فطری امر تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم معمول کے حالات میں مسائل کو حل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور دبائو کے حالات میں بہت کچھ دے بیٹھتے ہیں‘ پھر اس لہر کو سنبھالنا اور قابو میں لانا انتظامیہ اور مقتدرہ کے بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں آئی پی پیز کو تقریباً 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں‘ ان میں سے بجلی کی اصل پیداوار کے عوض صرف7 ہزار 275 ارب روپے تھے‘ جبکہ باقی رقم استعدادی پیداواری گنجائش کی مد میں دی گئی‘ حالانکہ اس رقم کے عوض بجلی پیدا کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدات‘ ادائیگیوں اور واجبات کے صحیح اور قطعی اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں‘ حکومت کو چاہیے کہ یہ تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائے تاکہ انہیں پتا چلے کہ اُن کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ کارکے رینٹل‘ رکوڈک‘ پی ٹی سی ایل کی نجکاری اور اتصالات کی تحویل میں دینے‘ نیز ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے کے حوالے سے ہمارے بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان معاہدات کے وقت پاکستان کے مفادات کو پوری طرح پیشِ نظر نہیں رکھا گیا اور یہ بھی طے نہ ہوا کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
کشمیر میں سلامتی کے اداروں اور سول افراد کا نقصان انتہائی اذیتناک اور تکلیف دہ ہے‘ اس کے مِن جملہ اسباب میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین کا غیر لچک دار رویہ ہے‘ حالانکہ انہیں اتنا دیا جا چکا ہے جس کا پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے اندر اور باہر سے ہمارے بہت سے احباب فرمائش کرتے رہے ہیں کہ ہم اس پر بات کریں یا ثالثی کریں‘ ہم نے ابتدا میں اپنا متوازن مؤقف دے دیا تھا۔ لیکن من حیثُ القوم ہمارے مزاج میں اعتدال نہیں ہے اور ہم انتہا پسندی کی طرف جا رہے ہیں جو تباہی کا راستہ ہے۔ کوئی فریق یہ نہیں چاہتا کہ کوئی اصلاح کی بات کرکے درمیانی راستہ نکالے‘ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے اُن کی حمایت کی جائے اور اُن کے حق میں آواز بلند کی جائے۔ یہ عملاً ممکن نہیں ہے‘ کیونکہ ہم جس کے حق میں بھی بات کریں‘ لازم ہے کہ آئین وقانون اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں گے۔ حقوق کا مطالبہ عوام کا حق ہے‘ لیکن اُسے آئین وقانون اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا ہوگا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اکثر مطالبات عوامی مفاد میں تھے اور کافی حد تک حل بھی ہو گئے تھے۔ ہم بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ سول حکمرانوں اور اعلیٰ بیورو کریسی کو حاصل غیر معمولی مراعات اور وزارتوں کی تعداد میں کمی کی جائے۔ مہاجرین کے منتخب نمائندوں کو آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں شامل نہ کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر میں حکومت پر وہی لوگ فائز ہوں جنہیں وہاں کے لوگ منتخب کریں۔ بلکہ سینیٹ کی طرز کا ایک ایسا ادارہ بنایا جائے کہ جس میں بلا امتیاز آزاد کشمیر کے مقامی اور مہاجرین کے منتخب نمائندے مل بیٹھیں اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کیلئے پروگرام بناکر اس پر عملدرآمد کریں۔ مقبوضہ کشمیر سے میر واعظ عمر فاروق نے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر اسمبلی میں مہاجرین کو نمائندگی سے محروم نہ کیا جائے۔
کسی بھی احتجاجی تحریک کا مقصد پُرامن طور پر اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے‘ اگر مطالبات کی منظوری یا ان پر عملدرآمد میں تاخیر ہو جائے تو حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انتظامیہ کو کچھ وقت دیا جائے اور وقتی طور پر تحریک کو مؤخر کر دیا جائے تاکہ فریقین دبائو سے نکل کر اس کا کوئی قابلِ قبول حل نکال سکیں۔ ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جن سے یہ شبہات جنم لیں کہ آیا یہ تحریک حقوق حاصل کرنے کیلئے ہے یا ریاست کے خلاف بغاوت کیلئے‘ نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ احتجاج میں مطالبات رکھے جاتے ہیں‘ قابلِ عمل مطالبات مان لیے جاتے ہیں اور ناقابلِ عمل مطالبات ردّ بھی ہوتے ہیں‘ اگر ایسا نہ ہو تو بزورِ طاقت مطالبات منوانے سے ٹکرائو کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جوکہ ریاست اور عوام دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ عقلمندی یہ ہے کہ جتنا ملے‘ اس کو لے لیں اور مزید کیلئے پُرامن کوشش جاری رکھیں‘ لیکن ایک حق کیلئے دس حقوق کو قربان کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ سیاسی مکالمے میں ایک ''گرے ایریا‘‘ ہوتا ہے‘ جس میں فریقین ''کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر مذاکرات کرتے ہیں‘ ریاست کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوتا ہے‘ ریاست اس حد تک بے بس ہرگز نہیں ہوتی کہ آپ جو چاہیں‘ بزورِ قوت اس سے منوا لیں۔ ہمارے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات اور طرزِ عمل کی غیر مشروط حمایت کرنا اس لیے دشوار تھا اور ہے کہ ان کے سٹیج سے بعض ایسے خطابات کیے گئے جو ملک کی سا لمیت کے خلاف تھے‘ سوشل میڈیا پر اسی طرح کی باتیں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ اس بات کو ایکشن کمیٹی کے سینئر رکن عمر نذیر نے خود تسلیم کیا ہے کہ ہمارے سٹیج کا غلط استعمال کیا گیا ہے‘ ہم پاکستان کے وفادار ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved