پارلیمنٹ میں جنرل ضیا الحق کے برخوردار‘ اعجاز الحق اور بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بدھ کے روز جو تلخی ہوئی‘ اس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ نئی نسلوں کو اپنی پرانی نسلوں کے فیصلوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے‘ چاہے اس میں ان کا کچھ کردار نہ ہو۔ تاریخ کا بوجھ انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر جینا پڑتا ہے اور اس بوجھ سے وہ چاہیں بھی تو چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ آپ چاہیں تو اعجاز الحق کے ساتھ ہمدردی کر سکتے ہیں جنہیں اپنے والد کے گیارہ سالہ دورِ حکمرانی کا جواب دینا پڑتا ہے۔ جب جنرل ضیا مارشل لاء لگانے کا فیصلہ کر رہے تھے‘ بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہو رہا تھا یا بعد میں سیاست اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا‘ اعجاز الحق تو شاید اس وقت پاکستان میں بھی نہیں تھے لیکن ان گیارہ برسوں کا بوجھ اب وہی اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔
دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری جنرل ضیا کی جانب سے اپنے خاندان پر لگائے گئے زخموں سے چور ہیں‘ اور ان کیلئے بھی یہ آسان نہیں کہ وہ اپنے نانا کی پھانسی اور اپنی ماں کے قتل کو محض اس لیے بھول جائیں کہ اعجاز الحق اس وقت ایوان کے رکن ہیں اور انہیں تکلیف ہو گی۔ پیپلز پارٹی اس لیے بھی زیادہ دلگرفتہ محسوس کرتی ہے کہ جو آخری دو مارشل لاء لگے ان دونوں میں اس کی قیادت ماری گئی۔ ضیا دور میں بھٹو کو پھانسی دی گئی اور پرویز مشرف دور میں بینظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ لہٰذا مارشل لاء میں بھٹو خاندان نے جانی نقصان اٹھایا۔ اگرچہ بھٹو صاحب نے اپنے دورِ حکومت میں ایسے فیصلے کیے جو اُن کے زوال کا سبب بنے‘ خصوصاً انہوں نے جو اپوزیشن کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا‘ اس کا نتیجہ ملک کیلئے برا نکلا سو نکلا‘ خود انہیں بھی پھانسی پر لٹکنا پڑا۔
گزشتہ روز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بھٹو ایک سال قید رہے اور بارہ سو بندے بھی اکٹھے نہیں ہوئے جو اُن کی قید کے خلاف مظاہرہ کرتے۔ انہیں پھانسی دی گئی تو بھٹو قوم کے قلندر بن گئے۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ عمران خان کو بھی دوسرا قلندر بنانا چاہتے ہیں؟ لیکن کیا کریں! جب بھٹو وزیراعظم تھے تو انہیں کبھی یہ نہیں لگا کہ ایک دن ان سے کرسی چھن جائے گی۔ نہ ہی وزیراعظم عمران خان کو کبھی یہ لگا کہ وہ 2028ء سے پہلے ہٹا دیے جائیں گے۔ ان کے وزرا چینلز پر کھلے عام کہتے تھے کہ وہ یہاں اگلے دس برس کے لیے حکومت کرنے آئے ہیں۔ یہ عجیب دنیا ہے کہ جو ایک دفعہ وزیراعظم بن گیا‘ اب وہ ساری عمر وزیراعظم رہنا چاہتا ہے‘ چاہے اس کی بقیہ عمر جیل میں ہی کیوں نہ گزرے۔
اعجاز الحق اور بلاول بھٹو کے درمیان اسمبلی میں زبانی جھڑپ کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ جہاں آپ کو اپنے والدین کی جائیداد اور دیگر وراثت ملتی ہے‘ وہیں ان کی دشمنیاں اور دوستیاں بھی وراثت میں ملتی ہیں اور آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں نبھانا پڑتا ہے۔ بزرگوں کی دوستیاں نبھانا آپ کا اپنا انتخاب ہوتا ہے لیکن خاندانی دشمنیاں آپ چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکتے اور آپ کو ہر دفعہ ان کا دفاع کرنا پڑتا ہے‘ چاہے آپ کو کتنا بھی یقین ہو کہ آپ کے بزرگ غلط تھے۔ اگر آپ اسے ماضی کا قصہ سمجھ کر بھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو بھی ایسا نہیں کر سکتے‘ کیونکہ پھر سب کہتے ہیں کہ دیکھا! والد کی جائیداد تو لے لی لیکن اس کی باقی وراثت اچھی نہیں لگتی۔ لہٰذا آپ کو ہر فورم پر کھڑے ہو کر بزرگوں کا‘ اپنے والد کا دفاع کرنا پڑتا ہے جیسے اعجاز الحق کرتے آئے ہیں۔ اس سے پہلے یحییٰ خان کا بیٹا علی یحییٰ بھی اپنے والد کا دفاع کرتا تھا اور لڑنے پر تل جاتا تھا۔ اس کے نزدیک اس کا باپ ہیرو تھا‘ چاہے قوم اس کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھتی ہو۔ وہ چینلز پر جا کر بحث کرتا کہ اس کے باپ کا کوئی قصور نہ تھا۔ اخبارات میں اس کے باپ کے خلاف کچھ چھپتا تو ضرور اپنا جواب بھیج کر اپنے باپ کا دفاع کرتا۔ اندازہ کریں کہ اکیلا بیٹا پوری قوم کے خلاف کھڑا ہو کر اپنے باپ کی عزت کے نام پر برسوں تک لڑتا رہا۔ ایک بیٹے سے یہی توقع کی جا سکتی ہے جو علی یحییٰ نے کیا۔
ایک دفعہ ایک چینل پر علی یحییٰ کو اپنے مرحوم باپ‘ جنرل یحییٰ خان کا دفاع کرتے دیکھ کر میرے اندر ایک عجیب سی تکلیف ابھری۔ خیال آیا کہ کیا ایک باپ کو اپنے بچے کیلئے ایسی وراثت چھوڑ کر جانا چاہیے؟ ہم یحییٰ خان کو لاکھ برا کہیں لیکن اس کے بیٹے کیلئے وہ ہیرو تھا‘ جس کی عزت اور ساکھ پر وہ کوئی داغ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں کم از کم اپنے بچوں کو کہہ کر جاؤں گا کہ میرے مرنے کے بعد انہیں کسی فورم پر میرا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں بھی چھوٹی موٹی سہی مگر پبلک لائف گزارتا ہوں۔ میرے بھی دوست اور دشمن ہوں گے۔ کچھ کو میں اچھا تو شاید ہزاروں کو برا لگتا ہوں گا۔ وہ سب میرے بارے میں اچھی بری رائے رکھتے ہوں گے۔ آپ کہاں کہاں اور کس کس سے بحث کرتے پھریں گے کہ نہیں! ہمارا باپ فرشتہ تھا۔ ہو سکتا ہے میں اپنے بچوں کیلئے فرشتہ ہوں لیکن باقی دنیا مجھے شیطان سمجھتی ہو۔ ہر بیٹے کی فلم میں اس کا باپ اس کا ہیرو ہوتا ہے جبکہ دوسرے کی فلموں میں وہ وِلن ہوتا ہے۔ میرے بچے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا باپ بہت اچھا تھا لیکن وہ اس بات کو ہر جگہ لاگو نہیں کر سکتے کیونکہ ہر ایک کے ساتھ میرا تعلق مختلف رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر‘ میں نے زندگی بھر جو بھی فیصلے کیے‘ رپورٹنگ کی‘ کالم لکھے یا پروگرام کیے وہ اپنے بچوں کے مشورے سے نہیں کیے۔ جب وہ میرے مشوروں اور فیصلوں میں شریک ہی نہیں تو پھر میرے طرزِ عمل کا دفاع کیوں کریں؟ وہ اپنی آزاد زندگی گزاریں‘ ماضی سے جان چھڑا کر۔ باپ کی منفی وراثت کا بوجھ لے کر زندگی مت گزاریں۔ یہ ان کی زندگی ہے اور اس پر ان کا حق ہے۔ جیسے میرا اپنی زندگی پر حق تھا اور میں نے ان سے پوچھے بغیر سب کچھ کیا۔ لیکن یہ بات شاید بلاول بھٹو اور اعجاز الحق نہیں کہہ سکتے‘ یا شاید وہ ماضی کو دفن کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان دونوں کی سیاسی وراثت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ اسمبلی کے فلور پر ایک دوسرے سے ٹکراتے رہیں کیونکہ وہ اپنے اپنے بزرگوں کو اپنی اپنی جگہ درست سمجھتے ہیں۔ وہ خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم سمجھتے ہیں۔ شاید بلاول بھٹو اور اعجاز الحق‘ دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ دونوں ماضی کے ان مزاروں میں قید ہیں جن میں سے ایک کی دیواریں بلاول کی پیدائش سے پہلے تعمیر کی گئی تھیں جبکہ دوسرے کے وقت‘ جب ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر انہیں پھانسی دینے کا فیصلہ کیا‘ اس وقت اعجاز الحق شاید پاکستان میں بھی نہیں تھے۔
اعجاز الحق شاید وہ سب نہیں کر سکیں گے جو خواجہ آصف نے کیا تھا۔ مشرف دور میں ایک دن وہ اسمبلی میں کھڑے دھواں دھار تقریر کر رہے تھے کہ کسی نے طعنہ مارا کہ آپ فوجی آمریت کے خلاف کیا بات کرتے ہیں‘ آپ کے تو اپنے والد خواجہ صفدر جنرل ضیا کی شوریٰ کے رکن اور سپیکر قومی اسمبلی تھے۔ اس پر خواجہ آصف نے فوراً اپنی تقریر میں ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میں قوم سے اپنے باپ کی طرف سے معافی مانگتا ہوں کہ انہوں نے ایک فوجی آمر کا ساتھ دیا۔ میرے لیے یہ پہلا منظر تھا کہ ایک بیٹے نے اپنے مرحوم باپ کی غلطی مان کر سرعام معافی مانگی۔ اعجاز الحق یقینا خواجہ آصف والا راستہ نہیں اپنا سکیں گے کہ وہ اپنے باپ کے اقدامات سے اعلانِ لاتعلقی کر کے معافی مانگیں۔ نہ ہی بلاول بھٹو سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اعجاز الحق کی موجودگی میں ایسی بات نہ کہیں جس سے ایک بیٹے کو تکلیف ہو‘ جیسے علی یحییٰ کو ہوتی تھی۔ اعجاز الحق اور بلاول بھٹو‘ دونوں ماضی کے اُن مزاروں میں قید ہیں جہاں سے رہائی ممکن نہیں۔ آپ ان دونوں سے ہمدردی تو کر سکتے ہیں لیکن اس تاریخی بوجھ سے انہیں آزادی نہیں دلا سکتے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved