تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     16-10-2026

خواہشوں کے مدار

جس طرح کائنات میں ہر شے ایک مدار میں قید ہے‘ اسی طرح انسان بھی اپنی خواہشوں کے ایک غیر مرئی مدار میں زندگی بھر گردش کرتا رہتا ہے۔ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے‘ ستارے چاند کے گرد جھرمٹ بنائے رکھتے ہیں‘ اور کہکشائیں اپنے مرکز کے گرد رقص کرتی ہیں۔ کائنات کا یہ سارا حسن و جمال ایک توازن اور ایک مدار کا پابند ہے۔ اگر کوئی ستارہ اپنے مدار سے ذرا سا بھی ہٹ جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ بالکل اسی طرح انسانی زندگی بھی خواہشوں کے مدار کی پابند ہے‘ فرق صرف اتنا ہے کہ فلکیاتی مدار فطرت نے متعین کیے ہیں اور انسانی خواہشوں کے مدار انسان خود بناتا ہے اور خود ہی ان کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان کبھی بھی حالتِ سکون میں نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ حالتِ سفر میں رہا ہے۔ کبھی صحراؤں میں پانی کی تلاش میں‘ کبھی پہاڑوں میں سکون کی تلاش میں تو کبھی سمندروں کے پار نئی دنیا کی تلاش میں۔ لیکن اصل سفر اس کے باہر کا نہیں‘ اس کے اندر کا ہے۔ باہر کا سفر تو ختم ہو جاتا ہے‘ ایک منزل آ جاتی ہے‘ ایک ساحل مل جاتا ہے لیکن اندر کا سفر‘ خواہشوں کا سفر دائروں کا سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان ایک خواہش کے پیچھے بھاگتا ہے‘ اسے حاصل کر لیتا ہے‘ تو چند لمحوں کیلئے اسے لگتا ہے جیسے منزل مل گئی‘ سکون مل گیا‘ مگر جلد ہی اس منزل سے اکتاہٹ پیدا ہونے لگتی ہے اور ایک نئی خواہش جنم لیتی ہے۔ یوں وہ پھر سے مسافر بن جاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ انسانی خواہشات لا محدود ہیں۔ معاشیات کا تو سارا ڈھانچہ ہی اسی ایک اصول پر کھڑا ہے کہ وسائل محدود ہیں اور خواہشات لا محدود۔ ایک بچہ پہلے پہل کھلونا مانگتا ہے‘ جوانی میں یہی بچہ ڈگری چاہتا ہے‘ پھر نوکری‘ گاڑی‘ گھر اور پھر شہرت۔ ہر خواہش ایک نئی خواہش کو جنم دیتی ہے۔ بڑھاپے میں بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ ہاں مگر تب خواہشات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اب وہ صحت چاہتا ہے‘ اپنے بچوں کی کامیابی چاہتا ہے‘ لوگوں کی توجہ چاہتا ہے۔
خواہشوں کے اس مدار کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کبھی یکساں نہیں رہتا بلکہ آئے روز بدلتا رہتا ہے۔ آج جو چیز زندگی اور موت کا مسئلہ لگتی ہے‘ کل وہ بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ہم جس انسان کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘ کل اسی کے بغیر جینا سیکھ لیتے ہیں۔ آج جس عہدے کیلئے ہم راتوں کی نیند حرام کر دیتے ہیں‘ کل اسی عہدے پر بیٹھ کر ہم کسی اور مقام و مرتبہ کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی تغیر پذیری اس مدار کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ فلکیاتی مدار تو صدیوں تک ویسے کے ویسے رہتے ہیں‘ لیکن انسانی خواہشوں کے مدار ہر صبح نئے ہوتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ انسانی فطرت میں پوشیدہ ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے اندر تجسس اور تشنگی کا ایک ایسا مادہ رکھ دیا جو کبھی سیر نہیں ہوتا۔ اگر انسان کی ہر خواہش پوری ہو جائے اور اسے مزید کچھ نہ چاہیے ہو تو اس کی زندگی میں جمود آ جائے گا اور ترقی کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ یوں تہذیبیں ختم ہو جائیں گی۔ اس لحاظ سے خواہشات کا ہونا بذاتِ خود برا نہیں ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب خواہش ضرورت سے بڑھ کر ہوس بن جائے۔ خواہش اور ہوس میں ایک باریک سا فرق ہے۔ خواہش وہ ہے جو آپ کو بہتر بنائے‘ آپ کو حرکت دے۔ جبکہ ہوس وہ ہے جو آپ کو گھیر لے‘ آپ کو اپنا اسیر بنا ڈالے۔ خواہش کے مدار میں انسان مرکز میں ہوتا ہے اور خواہش اس کے گرد گھومتی ہے‘ وہ اسے کنٹرول کرتا ہے۔ ہوس کے مدار میں ہوس مرکز میں ہوتی ہے اور انسان اس کے گرد دیوانہ وار گھومتا رہتا ہے۔ ہمارے آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم خواہشوں کے مدار سے نکل کر ہوس کے بھنور میں پھنس چکے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس مدار کو بھنور بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پہلے انسان کی خواہشات اس کے اپنے ماحول‘ اس کے گاؤں‘ اس کے شہر تک محدود ہوتی تھیں۔ اب ایک کلک پر وہ دنیا بھر کی آسائشیں دیکھتا ہے۔ کسی کی گاڑی‘ کسی کا گھر‘ کسی کا لباس‘ کسی کی مسکراہٹ۔ ہر تصویر ایک نئی خواہش کو جنم دیتی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی سے مایوس ہوتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو تصویر ہم دیکھ رہے ہیں‘ وہ کسی کی پوری زندگی نہیں صرف ایک لمحہ ہے۔ اس دوڑ میں ہم اپنے اصل مرکز سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ صوفیاء کرام نے خواہشوں کے اس مدار کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ انسان کی روح ایک پرندے کی مانند ہے جو پنجرے میں قید ہے اور یہ خواہشات اس پنجرے کی سلاخیں ہیں۔ جب تک انسان ان خواہشات سے نجات حاصل نہیں کرے گا‘ وہ حقیقی پرواز نہیں کر سکتا۔ لیکن نجات کا مطلب خواہشات کو مارنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا ہے۔ خواہش کو مارنا ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ زندگی کی علامت ہے۔ اصل کمال اسے سمت دینا ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مدار سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ کیا ہم اس مدار سے نکل سکتے ہیں؟ میرا جواب یہ ہے کہ مکمل طور پر نکلنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ جس طرح زمین سورج کے مدار سے نکل جائے تو فنا ہو جائے گی‘ اسی طرح انسان اگر خواہش سے یکسر بے نیاز ہو جائے تو وہ زندہ لاش بن جائے گا۔ اصل حکمت اس مدار کو پہچاننے ‘ اسے وسیع کرنے اور اس کے مرکز کو درست کرنے میں ہے۔
ہمارے مدار کا مرکز کیا ہے؟ سب سے اہم سوال یہی ہے۔ اگر ہمارے مدار کا مرکز صرف مادی خواہشات‘ دولت‘ شہرت اور طاقت ہیں تو پھر یہ مدار بہت تنگ اور گھٹن زدہ ہوگا۔ اس میں گھومتے گھومتے ہم تھک جائیں گے کیونکہ مادی چیزوں میں سکون نہیں ہے۔ ایک گاڑی کے بعد دوسری گاڑی‘ ایک گھر کے بعد دوسرا گھر۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی بھوک ہے۔ لیکن اگر ہمارے مدار کا مرکز کوئی اعلیٰ مقصد ہو جیسے علم‘ خدمت‘ محبت‘ خالق سے قربت تو پھر یہی مدار عبادت بن جاتا ہے۔ تب ہر گردش میں ایک معنی پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی خواہشات کی درجہ بندی کرنا ہو گی۔ کون سی خواہش ضرورت ہے‘ کون سی آسائش ہے‘ اور کون سی محض دکھاوا ہے۔ ضرورت کو پورا کرنا فرض ہے۔ آسائش کیلئے کوشش کرنا جائز ہے‘ لیکن دکھاوے کی خواہش وہ زہر ہے جو ہمارے سکون کو کھا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایسی چیزوں کیلئے پریشان ہیں جن کی انہیں ضرورت ہی نہیں‘ پریشانی کا سبب یہ ہے کہ وہ دوسروں کے پاس ہیں۔ خواہشوں کے مدار کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو حال سے غافل کر دیتا ہے۔ ہم ہمیشہ مستقبل میں جیتے ہیں۔ جب نوکری ملے گی تو خوش ہوں گے‘ جب شادی ہو گی تو خوش ہوں گے‘ جب بچے بڑے ہوں گے تو خوش ہوں گے۔ اس 'جب‘ کے چکر میں ہم 'اب‘ کو کھو دیتے ہیں۔ حال وہ واحد حقیقت ہے جو ہمارے پاس ہے۔ مستقبل ایک وہم ہے اور ماضی محض ایک یاد۔ جو شخص حال میں جینا سیکھ لے‘ وہی اس مدار کی تھکن سے بچ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کی جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے انتظار میں حال کو قربان نہ کیا جائے۔
خواہشوں کے مدار کو اگر ہم ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی مدار ہماری آزمائش بھی ہے اور ہماری پہچان بھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ آزمائش اور کچھ نہیں‘ انہی خواہشوں کے مدار میں اپنے مرکز کو درست رکھنے کا نام ہے۔ جس نے اپنے مدار کا مرکز درست کر لیا‘ اس نے اپنی زندگی کو معنی دے دیا۔ جس کا مرکز بگڑ گیا‘ وہ ساری زندگی گردش میں تو رہا مگر کسی طے شدہ منزل پر نہیں پہنچ سکا۔ تو آئیے‘ ذرا رک کر اپنی خواہشوں کے مدار پر غور کریں کہ ہم کس کے گرد گھوم رہے ہیں؟ ہماری خواہشیں ہمیں کہاں لے جا رہی ہیں؟ کیا ہم مسافر ہیں یا محض بھٹکے ہوئے راہی؟ یہ سوال ہی اس مدار سے نکلنے کی پہلی سیڑھی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved