ملک بھر میں جاری سیاسی سرکس کا اچھوتا آئٹم دلچسپ ہونے سے کہیں زیادہ تشویشناک ہو چلا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بازیگروں کے درمیان تُوڑی کے ڈھیر پر سگریٹ نوشی کا کڑا مقابلہ زوروں پر ہے‘ لمبے لمبے کش لگانے والے سبھی احتیاطوں سے بے نیاز ایک دوسرے پر دھواں نکال رہے ہیں۔ خدا خیر کرے میرے آشیانے کی! ایک معمولی سی چنگاری بھی تُوڑی کے ڈھیر کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔ نتائج کی سنگینی سے بے پروا بازیگر ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی دھن میں معاملات اُس نہج پر لے جا چکے ہیں جہاں سے واپسی روزبروز‘ لمحہ بہ لمحہ کہیں مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ لانگ مارچ کی ضد کو سیاسی خودکشی قرار دینے والے اپنے جواز پیش کر رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی شہادت کی توجیہات بھی خوب گھڑی جا رہی ہیں۔ فیصل واوڈا کی دھماکے دار انٹری کے بعد ماضی بعید و قریب سے جڑے بیانات کے تانے بانے ملائیں تو گورنر راج طے شدہ آپشن اور سکرپٹڈ ہی دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی سے کوسوں دور سہیل آفریدی کی اُچھل کود سے عوام کے جم غفیر کے ساتھ لانگ مارچ کا دعویٰ تو پورا نہیں ہو سکا لیکن وفاقی حکومت محفوظ آپشن سے استفادہ کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کریڈٹ پر چھٹا گورنر راج جاری ہے‘ زرداری صاحب کی بھی ہیٹ ٹرک ہو چکی۔ یہ راج کتنے دن چلتا ہے اس کا فیصلہ تو تُوڑی کا ڈھیر ہی کرے گا‘ یعنی کسی کو خاک بنا دے تو کسی کو زر کر دے۔
خیبرپختونخوا میں صدارتی فرمان سے گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیپلز پارٹی کے صوبائی راج واڑوں کی تعداد تین ہو چکی ہے۔ لانگ مارچ کی کال سے لے کر گورنر راج تک نقطے ملائیں تو قیادت کے فقدان سے لے کر فیصلہ سازی اور حکمتِ عملی سمیت سبھی محاذوں پر جہاں پی ٹی آئی کو کڑے سوالات کا سامنا ہے وہاں یہ عقدے برابر کھلتے دکھائی دیتے ہیں کہ گورنر راج کی راہ ہموار کرنے کیلئے کھیرکی پکوائی میں کس کا کتنا حصہ ہے؟ لانگ مارچ کے حوالے سے سبھی مان اور گمان سے لے کر شہرِ اقتدار پر فیصلہ کن چڑھائی کے بلند بانگ دعوے سہیل آفریدی کے قد سے کہیں بڑے نکلے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی علامتی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن گنجائش سے زیادہ ہوا بھرنے والے شاید یہ بھول گئے کہ ہوا زیادہ بھرنے سے بڑے حجم کے ساتھ پھٹنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
خاطر جمع رکھیے! خطرات تو کم و بیش سبھی کے لیے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی بدعت میں روز بروز شدت کا سارا بوجھ جہاں سرکار کے کاندھوں پر آ گیا ہے وہاں دلدل کا سفر بھی شروع ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کو دلدل میں دھنسے رہنا شاید راس آجائے لیکن حکومت کے لیے یہ سفر آئے روز نئی افتاد اور نئے چیلنجز کا باعث ہو گا۔ وفاقی حکومت دلدل سے نکلنے کی کوشش کرے گی اور پی ٹی آئی اس سفر کو طویل بنانے کی‘ ویسے بھی دلدل سے باہر نکلنے کی کوششیں اُلٹی ہی پڑتی ہیں‘ باہر نکلنے کی کوشش مزید دھنسنے کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ دلدلی اکھاڑہ حکومت کی اپنی چوائس ہے‘ فیصل کریم کنڈی اس دلدل میں اتر چکے ہیں‘ شاہ کا مصاحب ہونے کا زعم اور یہ عاشقی عزتِ سادات کو دائو پر لگائے ہوئے ہیں۔ گورنر ہاؤس کے مکین کی تبدیلی کی افواہیں بھی برابر چل رہی ہیں۔
دوسری طرف فیصل واوڈا رِی بُوٹ کے سلوگن کے ساتھ ایک بار پھر کھڑکی توڑ رش لے رہے ہیں۔ مستقبل کے منظرناموں سمیت نظام کی آئندہ شکل پر خبر سازی کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ گورنر راج کی 10ماہ پرانی پیش گوئی پوری ہونے کے بعد اب وہ فُل فارم میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس اُدھم میں حکومت وقت کے عرصۂ اقتدار کی جمع تفریق کریں تو پی ٹی آئی کے ہوّے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ جتنی محنت اور کوششیں پی ٹی آئی کو مٹانے کے لیے کی گئی ہیں اس سے کہیں کم توجہ گورننس اور ڈلیوری پر دے لیتے تو پی ٹی آئی کا بھوت آج ان کے سروں پر نہ ناچ رہا ہوتا‘ حواسوں پہ سوار اس بھوت نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ عوام کے حالاتِ پریشاں دن بدن نت نئے عذابوں سے دوچار ہیں‘ کہیں دو وقت کی روٹی کے لالے ہیں تو کہیں ننھے منے ہاتھوں میں اوزار پکڑے چھوٹے بچے گھر کا بڑا بننے کے لیے زمانے کی ٹھوکروں پر ہیں‘ کسی کو دن میں رسوائی کا سامنا ہے تو کسی کو رات میں بے چینی کا۔ بھلے چنگے اور کھاتے پیتے بھی گورننس کے روپ بہروپ اور پالیسیوں کے سبب متفکر اور پریشان ہیں۔ بے روزگاری کی دیمک پڑھے لکھے اور ہنرمندوں کو بری طرح چاٹ رہی ہے۔ وزرا کی کارکردگی کا رونا ایک طرف نامعلوم اہلیت اور کارکردگی کے حامل مشیران بھی سرکاری وسائل پر دورے کرتے اور فوٹو سیشن کرواتے نہیں تھکتے۔ کچھ سر چڑھے سرکاری بابو بیوروکریٹک مارشل لاء کا سماں باندھے ہوئے ہیں۔ عوام کے مسائل تو درکنار وزرا ترلوں پر مجبور ہیں۔ انتظامی مشینری میں لابنگ اور دھڑے میرٹ بن چکے ہیں‘ بڑے منصب پر چھوٹے گریڈ والے اترائے پھرتے ہیں۔ تھانہ‘ پٹوار اور ہسپتال میں دھتکار اور پھٹکار کے مناظر ناقابلِ بیان ہیں۔ ریفارمز کے نام پر ڈیفارمز کے ڈھیر لگانے والوں نے نمائشی اقدامات اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کو طرزِ حکمرانی بنا ڈالا ہے۔
ابھی حالات کا ماتم جاری تھا کہ ایک اور ماتمی خبر نے دل کا کام تمام کرنے کے ساتھ ساتھ کالم کا دھارا ہی موڑ ڈالا۔ دھن راج اور گورنر راج سمیت راج واڑوں کے موضوع پر جاری کالم کا بقیہ کسی اگلے کالم پر اُدھار رکھتے ہیں‘ ابھی تو ہمیں اُن پھول جیسے معصوم بچوں کا نوحہ لکھنا ہے جو گھر سے پڑھنے کے لیے سکول گئے تھے۔ ماؤں نے کس چاؤ سے اپنے جگر گوشوں کو اُجلا یونیفارم پہنا کر سکول روانہ کیا ہو گا۔ اس باپ پر کیا گزری ہو گی جس نے اپنے بچے کا ملبے میں کچلا لاشہ اٹھایا ہو گا؟ اُف خدایا! پشاور میں سکول کی چھت نہیں گری اس نظام کی چھت گری ہے۔ یہ چھت متاثرہ خاندانوں کے بختوں پہ گری ہے۔ یہ کیسے سکول ہیں؟ یہ کیسی درسگاہیں ہیں؟ کبھی آوارہ کتے سکول میں گھس کر معصوم بچوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں‘ کہیں دیوار گر جاتی ہے تو کہیں چھت۔ کسے معلوم تھا کہ اسمبلی کے بعد لگنے والی کلاس یکایک اجتماعی قبر بن جائے گی؟ معصوم بچوں پر گرنے والی چھت کا ملبہ بھی رو پڑا ہو گا‘ وہ اینٹیں‘ سیمنٹ اور سریے بھی دہائی دیتے ہوں گے۔ یہ چھتیں مخصوص طبقے کے بچوں پر ہی کیوں گرتی ہیں؟ ریگولیٹر‘ انتظامیہ‘ مانیٹرنگ وغیرہ وغیرہ سمیت یہ سارے ڈھونگ کس کنوئیں میں ڈوب گئے ہیں؟ ماؤں نے اپنے اپنے لعل کا لاشہ کس طرح وصول کیا ہو گا؟ درد ناک موت سے دوچار ہونے والے معصوموں کی روحیں یقینا عرشِ معلی پر بارگاہِ الٰہی میں سراپا احتجاج ہوں گی کہ اے پروردگار! ربّ زدنی علما کی طلب میں ہم تو گھر سے سکول گئے تھے۔ ہمارا گود سے گور کا سفر اتنا مختصر کیوں؟ ابھی تو ہم نے تعلیم حاصل کر کے اپنے والدین کا سہارا بننا تھا۔ ہمارے ماں باپ کو عمر بھر کا روگ کیوں؟ کبھی بچوں سے بھری وین سرپٹ دوڑتی ٹرین تلے کچلی جاتی ہے تو کبھی رکشہ ڈمپر تلے دب جاتا ہے۔ جب تک یہ سانحات‘ المیے اور حادثات یونہی ہوتے رہیں گے‘ قدرت کی مدعیت میں ان کے مقدمات آسمانوں پر درج ہوتے رہیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved