اللہ کے آخری رسول حضور کریمﷺ مدینہ منورہ کے میقات ''ذوالحلیفہ‘‘ میں پہنچے۔ حضورﷺ کا یہ آخری حج ہے‘ جسے ''وداعی حج‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مدینہ منورہ اور مضافات سے لوگ نکلے۔ حضورﷺ کے سنگ حاجیوں کی چاروں جانب موجودگی نے اس وقت اک عجب سماں باندھا جب حضورﷺ کے ''لبیک‘‘ کہنے کے ساتھ ہی فضائوں میں ''لبیک اللھم لبیک‘‘ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ مدینہ منورہ سے لیکر مکہ مکرمہ تک یہ صدائیں متواتر اور مسلسل بلند ہوتی رہیں۔ یاد رہے! حرمین شریفین کا باہمی رشتہ جو ختم المرسلینﷺ کے مبارک اسفار سے قائم ہوا اس میں پہلا سفر ہجرت کا سفر ہے۔ دوسرا سفر عمرہ کا ہے۔ ایک سفر فتح مکہ کا ہے۔ آخری سفر حج کا سفر ہے۔ آج سعودی عرب کی حکمرانی کے پاس خدمتِ حرمین کا شرف ہے تو انہوں نے پاسبانی کا شرف پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ یہ وہ شرف ہے جو 25 کروڑ پاکستانیوں کا شرف ہے۔ حضورﷺ کے مبارک قدموں سے جو رشتہ قائم ہوا اس میں کوئی رخنہ نہ پڑے۔ جی ہاں! رخنہ اندازی کو روکنے کا نام پاسبانی ہے اور اس پاسبانی کا سہرا مکہ معاہدہ ہے۔ حرمین شریفین کی پاک سرزمین کی فضائوں میں‘ زمین پر اور پانیوں پر افواجِ پاکستان کے جوان‘ محبانِ حرمین اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں‘ الحمدللہ!
لوگو! حضورﷺ کے حج مبارک کا قافلہ چل پڑا تو ایک موقع آیا کہ لبیک کی پکار قدرے آہستہ ہو گئی‘ دھیمی پڑ گئی۔ حضورﷺ نے حجاج کرام کو آگاہ فرمایا کہ میرے پاس جناب جبرائیل علیہ السلام آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اپنے حاجی صحابہ کو حکم دیجئے کہ لبیک کی آوازوں کو بلند کریں۔ (بحوالہ ابن ماجہ، سندہٗ صحیح) ساتھ ہی فرمایا: جو شخص بھی تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک کہتا ہے اس کے دائیں بائیں کے تمام درخت اور پتھر بھی لبیک کہنے والے کے ساتھ لبیک کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ دائیں بائیں سے زمین ختم ہو جاتی ہے۔ (ابن خزیمہ‘ ابن ماجہ‘ سنداً صحیح)۔ ابن ماجہ کی دوسری روایت میں ''مدرٌ‘‘ کے لفظ کا اضافہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اینٹ کچی ہو یا پکی یا پتھر کی‘ وہ بھی لبیک کہتی ہے۔ درختوں‘ نباتات کی بات کریں تو سائنس کہتی ہے کہ نباتاتی خلیات آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی درخت کسی انسان کے ہاتھوں کٹتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے پڑوسی درختوں کو اطلاع کرتا ہے کہ اسے کاٹا جا رہا ہے۔ کوانٹم سائنس واضح کرتی ہے کہ جب بھی ذرات آپس میں ''انٹرایکٹ‘‘ کرتے ہیں‘ یعنی باہم بات چیت کرتے ہیں تو یہ الفاظ کے بجائے فوٹون کے ذریعے باہمی گفتگو اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ فوٹون روشنی کا وہ ذرہ یا لہر ہے جو لاتعداد ہوتی ہیں۔ یہ سورج اور دیگر ستاروں سے آتی ہیں۔ یہ لہریں یا ذرات معلومات کے ذرائع ہوتے ہیں۔ اللہ اللہ! وہ ذرات کس قدر مبارک ہوں گے‘ فضائوں کے ذرات‘ پانیوں کے ذرات (مالیکیولز)‘ زمینی ذرات‘ پہاڑوں اور پتھروں کے ذرات کہ جنہوں نے اللہ کے آخری رسولﷺ کے لبیک‘ اہل بیت کے لبیک‘ صحابہ کرام کے لبیک‘ عظیم ہستیوں کے لبیک پر لبیک کہا اور اس لبیک کو آگے پہنچایا۔
اللہ اللہ! حضور ختم المرسلینﷺ سے لے کر آج تک فضا میں لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ان مبارک صدائوں اور حمد کے ترانوں کے درمیان ڈرونز اور ہلاکت خیز میزائل گریں تو بتائیں اور ذرا سوچیں کہ کیا ہو گا؟ یمن کی طرف سے آنے والے حاجیوں کا میقات ''یَلَمْلَم‘‘ ہے۔ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت اور مشرقِ بعید کے لوگ اسی راستے سے آتے ہیں۔ ان کے راستے رک گئے۔ ان کا سفر غیر محفوظ ہو گیا۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے آنے والوں کا میقات ''قرن المنازل‘‘ ہے۔ اب ریاض میں میزائل گر رہے ہیں‘ لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ مغرب یعنی شام‘ مصر اور یورپ وغیرہ سے آنے والے ''جحفہ‘‘ سے آتے ہیں۔ عراق اور ایران کی سمتوں سے آنے والے ''ذات العِرق‘‘ کے میقات سے آتے ہیں۔ یہ سب میقات آج غیر محفوظ ہو چکے ہیں بلکہ فلائٹس بند ہو چکی ہیں۔ بیت اللہ یعنی کعبہ شریف کے چار کونے ہیں۔ ایک کونہ رکن اسود ہے جہاں ' حجرِ اسود‘ نصب ہے۔ اس کا بوسہ لیا جاتا ہے۔ یہ محبت اور پیار کا مقام ہے۔ ایک کونہ ''رکن شامی‘‘ ہے۔ تیسرا ''رکن عراقی‘‘ ہے۔ چوتھا ''رکن یمانی‘‘ ہے۔ اس رکن کو اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے مَس کیا ہے۔ ہر حاجی رکن یمانی کو چھوتا ہے۔ اہلِ یمن کے لیے لازم ہے کہ اپنے دیس یمن سے نسبت رکھنے والے کعبہ کے رکن کی عظمت کا خیال کریں۔ سب اپنی اپنی ذمہ داری کا خیال کریں۔
مکہ معاہدہ کے تینوں ارکان سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیہ یقینا یمن کو صلح و امن کی طرف لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کوششوں کو تیز ہونا چاہیے تاکہ غیروں کو رخنہ اندازی اور فالس فلیگ کا موقع نہ مل سکے۔ میرے پاک وطن کی قیادت تو ایران‘ امریکہ اور عرب دنیا کے درمیان امن کا لاجواب کردار ادا کر چکی ہے۔ موجودہ جنگ جو سعودیہ اور یمن کے درمیان ہے اس کیلئے وہ دہری ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ سرزمین حرمین کا تحفظ بھی کر رہی ہے۔ جنگ بھڑکانے والی قوتوں کی آگ پر پانی بھی ڈال رہی ہے اور امن کے لیے بھی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ جلیل القدر اور اولوالعزم نبی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا فرمائی۔ بنو اسرائیل کے تمام رسول اور نبی اپنے اپنے صحیفوں کے باوجود اسی تورات کے پابند تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تورات میں نازل شدہ شریعت کے پابند تھے۔ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ جب اپنے الوداعی حج کا سفر جاری رکھے ہوئے تھے تو (صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر کتب کی ایک روایت کے مطابق) راستے میں ایک وادی کے بارے صحابہ کرام سے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا: یہ ازرق ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ''مجھے لگ رہا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ٹیلے سے اتر رہے ہیں اور اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں دیے ہوئے ہیں۔ وہ تلبیہ (لبیک اللھم لبیک) کہتے ہوئے کعبۃ اللہ کی طرف جا رہے ہیں اور اس وادی (ازرق) سے گزرتے جا رہے ہیں‘‘۔ قارئین کرام! بہت سارے نبی اور رسول کعبہ اللہ کی زیارت اور حج و عمرے کے لیے آئے ہیں۔ اللہ نے اپنے آخری رسولﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حج کا منظر دکھلا کر بنو اسرائیل اور مسیحی برادری کو پیغام دیا ہے کہ تم لوگ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ بھڑکائو گے‘ فالس فلیگ جیسے ناپسندیدہ کام کرکے جلتی آگ پر پٹرول ڈالو گے‘ اپنے گھٹیا مقاصد کے لیے سرزمین حرمین‘ کہ جس کی پاک راہوں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی گزرے‘ ان راہوں کو مسدود کرنے کے پروگرام بنائو گے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ نہ سکو گے۔
اہلِ وطن سے گزارش ہے کہ پاک وطن کی قیادت حرمین شریفین کی مطہر و پاکیزہ زمین کے تحفظ کیلئے سہ جہتی کردار ادا کر رہی ہے‘ یہ پاک وطن کی تاریخ کا مشکل ترین مگر پاکیزہ ترین فریضہ ہے۔ ایسے نازک ترین موقع پر ہم اپنے اور حرمین کے پاسبانوں کے پشتیبان بن جائیں اور اپنی سیاست کو سڑکوں سے ہٹا لیں۔ اسے مثبت بنا لیں۔ مسلمانوں پر گزرتے ہوئے مشکل حالات کو فرقہ پرستی کے کڑوے کسیلے جملوں سے محفوظ رکھیں۔ آزمائشوں کے اس دور میں صبر‘ برداشت اور حوصلے کے دامن کو نہ چھوڑیں۔ پاکستان زندہ باد‘ پاسبانِ حرمین شریفین پائندہ باد۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved