تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ماضی کے واقعات سے سیکھ کر ہم اپنے حال اور مستقبل کے فیصلوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقتور حکمران اور عظیم سلطنتیں بھی عوامی اعتمادکے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور جو لوگ عوامی حمایت کھو دیتے ہیں وہ کسی بیرونی مدد کے باوجود زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان‘ ایران اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی۔ مظفر رزمی نے بالکل ٹھیک کہا تھا:
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
میں تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں‘ دنیا کی تاریخ پڑھتے پڑھتے میری عمر گزری ہے اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کبھی کسی نے سبق حاصل نہیں کیا۔ اور اسی طرح ہم نے بھی بطور قوم تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ احمد فراز نے اپنی نظم ''محاصرہ‘‘ میں نامہ بر کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا:
یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا؍ اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
لیکن بدقسمتی سے تاریخ ہماری ''تاریخی شہادت‘‘ کے باوجود ہمارے لیے کوئی نیا سورج تراش کر نہیں لائی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور جو قوم تاریخ سے سبق نہ سیکھے تاریخ اُس کو اپنے قبرستان میں دفن کر دیتی ہے۔ چند افراد کا گناہ تو معاف کیا جا سکتا ہے لیکن کسی قوم کی بے حمیتی کا کوئی حل نہیں ہے‘ یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔ بقول اقبال:
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
1960ء کے اوائل تک پاکستان‘ ایران اور افغانستان تینوں ممالک سیکولرازم کے آئیڈیاز پر چل رہے تھے اور تینوں ملکوں میں بہت ترقی ہو رہی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں بھی گورے گوریاں پڑھنے آتے تھے‘ تہران یونیورسٹی میں بھی اور اسی طرح کابل یونیورسٹی میں بھی گورے گوریاں پڑھتے تھے۔ آپ کوآج بھی انٹرنیٹ پراُس دور کی تصویریں مل جائیں گی۔ اس کے بعد ایک منظم طریقے سے ان کو بنیاد پرستی کے حوالے کر دیا گیا جس کے لیے کتابوں کے حوالے بھی موجود ہیں۔ اب تو کوئی چیز چھپی نہیں رہی‘ سب کچھ چھپ کر سامنے آ چکا ہے کہ امریکہ اور انگلینڈ سے مواد چھپ کے آتا تھا اور اس میں اپنے مطلب کی روایتیں شامل کی جاتی تھیں اور ان کو کتابوں کی صورت میں مذہبی لوگوں کے حوالے کر دیا گیا اور جو انتہا پسندانہ رویہ تھا وہ جہاد کے نام پر 1979ء تک عروج پر پہنچ گیا اور اس دوران افغانستان میں روس آ دھمکا۔ روس کو نکالنے کے لیے امریکہ بہادر آ گیا۔ پھر جو ساری صورتحال ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔
1979ء کے بعدان کو دوبارہ منظم کیا گیا۔ ایران سے شاہ کو بھگا دیا گیا اور امام خمینی آ گئے۔ ادھر پاکستان میں جناب ضیا الحق کو لایاجا چکا تھا اور افغانستان کو مجاہدین کے سپرد کر دیا گیا۔ آج افغانستان کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک اور وہاں رہنے والوں کی قسمت میں چین نہیں لکھا گیا۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے افغانستان کو مسائل میں گھرا پایا ہے۔ افغانستان سے زیادہ بدقسمت کون سا ملک یا لوگ ہوں گے جن کو چالیس برس سے سکون نہیں۔ جو گھر ڈھونڈ رہے ہیں‘ پناہ ڈھونڈ رہے ہیں جو انہیں نہیں مل رہی۔ 1979ء میں روس کے ساتھ جنگ کے دوران افغانستان کے لاکھوں باشندے بے گھر ہوئے اور ان کو پناہ کیلئے پاکستان اور ایران ہجرت کرنا پڑی۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں پناہ گزیں کیمپ قائم ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ افغان مہاجرین کیمپوں سے نکل کر ملک بھر میں پھیل گئے۔ پاکستان میں تو افغان مہاجرین کے ساتھ منشیات اور کلاشنکوف کلچر بھی آیا جس نے پاکستان کے امن اور نوجوانوں نسل کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ پاکستان نے چالیس سال تک ان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ اسی طر ح ایران میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نے پناہ لی اور ایک وقت آیا کہ یہ لوگ ایران پر بھی بوجھ بن گئے۔ پچھلے چند سالوں میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالا گیا ہے یا وہ اس ملک کی زمین اپنے اوپر تنگ ہونے پر خود ہی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔
میں افغانستان کے پرانے وار لارڈ حکمت یار پر لکھی گئی کتاب پڑھ کر حیران ہوا ہوں کہ کبھی کابل اتنا خوبصورت شہر بھی ہوتا تھا۔ افغانستان ایسا بھی تھا۔ پھر خالد حسینی کا ناول The Kite Runner پڑھا تو دل مچل گیا کہ اگر اس ملک میں جنگ نہ ہوتی تو اس خوبصورت ملک کی سیر کو جاتا‘ اس کابل شہر کو دیکھتا جس کا نقشہ خالد حسینی نے اس غیر معمولی ناول میں کھینچا ہے‘ لیکن ان چالیس برسوں میں آگ اور خون کا جو کھیل افغانستان میں کھیلا گیا اور جتنی قتل وغارت وہاں ہوئی‘ اس کے بعد وہاں دیکھنے کو کیا رہ گیا ہے؟ جس خطے میں چالیس سال سے آگ بھڑک رہی ہو اور انسان گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہوں وہاں دیکھنے کو کیا بچا ہو گا؟ مجاہد حسین نے ''پنجابی طالبان‘‘ پر ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کی کتاب میں تفصیل سے پاکستان میں مختلف طرح کی بنیاد پرستی کا تذکرہ ہے اور جہادی تنظیموں کے بارے میں ایسی تفصیلات ہیں جو مجھے کسی اور کتاب میں نظر نہیں آئیں۔ افغانستان میں اب بھی باقاعدہ کوئی حکومت نہیں ہے‘ جو حکومت ہے وہ ایک طرح سے وار لارڈز کی حکومت ہے‘ انہوں نے وہاں سسٹم کو مکمل طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ 80 فیصد لوگ اس حکومت کے ساتھ نہیں اور اس کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ڈر کے مارے چپ ہیں۔ ایران اور پاکستان کے اندر بھی اکثر لوگ حکومت کو پسند نہیں کرتے لیکن خوفزدہ ہیں اور حکومت کے خلاف حرفِ اختلاف زبان پر نہیں لاتے۔ یہ ایک لاوا ہے جو بہت بڑی سطح پر پک رہا ہے۔ اب اس کے نیچے سے کیا نکلتا یا برآمد ہوتا ہے‘ اس کا ابھی کسی کو کچھ پتا نہیں لیکن لگتا یہ ہے کہ اس پورے علاقے کو ری سیٹ کرنے کا کہیں نہ کہیں پہ پروگرام بن چکا ہے۔ اب یہ پروگرام جب منظر عام پہ آئے گا تو پھر ہی پتا چلے گا لیکن خطرات یہ ہیں کہ اب اس ریجن کو نئے طریقے سے سیٹ کیا جا رہا ہے۔ پہلے جو جہاد کا فلسفہ دیا گیا اور اس کو ملاازم کے حوالے کیا گیا‘ لیکن اب لگتا ہے کہ اس کو کسی اور طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو کس طرف دھکیلا جاتا ہے۔
اب مجھے یہ لگتا ہے کہ جیسے کہیں دور‘ افق کے اُس پار کوئی نیا سیٹ اَپ بن رہا ہے اور ان تینوں ممالک کو نئے طریقے سے ''ری سیٹ‘‘ کیا جا رہا ہے اور ان تینوں ملکوں کے پیچھے کوئی نئی حکمت عملی بن رہی ہے۔ اب وہ چین کے خلاف بن رہی ہے‘ امریکہ بنوا رہا ہے یا پھر چین امریکہ کے خلاف بنوا رہا ہے یا دونوں مل کر بنا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہیں لیکن ایجنڈا دونوں کا ایک ہے۔ اس طرح کے کئی معاملات ہیں جو ابھی نامعلوم ہیں اور جلد سمجھ میں آنے والے نہیں۔ لیکن اس پر ریسرچ ورک کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تعلق بھی اس خطے کو ''ری سیٹ‘‘ کرنے کے ساتھ ہے۔ پسِ چلمن کچھ نہ کچھ ضرور بلکہ بہت کچھ ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ اگلے کالم میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved