ملکی آبادی کا تقریباً 66 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ اس کے باوجود نوجوان‘ ان کا مستقبل یا ان کے مسائل حکومتی ترجیحات میں نظر نہیں آتے۔ ملک میں چھوٹے بچے جنسی استحصال کا شکار ہیں اور نوجوان محرومیوں‘ کم تعلیمی وسائل‘ بیروزگاری‘ طبی سہولتوں کے فقدان اور اچھی تفریح اور کھیلوں کے مواقع سے محروم ہیں۔ جب نئی نسل یہ دیکھتی ہے کہ وہ بنیادی حقوق سے محروم ہے‘ اسے کھل کر بولنے کی آزادی نہیں‘ اسے اچھے نمبروں کے باوجود اپنی پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا‘ جیسے تیسے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نوکری نہیں ملتی تو نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ملک میں سوشل سروسز کا بھی رواج نہیں ہے۔ کیریئر اور ہیلتھ کونسلنگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں۔ بچے اپنی پریشانیوں میں غلط صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بدفطرت لوگ ان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا پر وہ فراڈ کا شکار ہو تے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آتا۔ جب وہ بچہ یا بچی خودکشی کر لیتا ہے‘ تب سب کو پتا چلتا ہے کہ وہ کس مشکل سے گزر رہا تھا۔ یہی مدد اس کو زندگی میں ملی ہوتی تو وہ لڑکا یا لڑکی شاید زندہ ہوتے۔ نوجوانوں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں‘ مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہو کر منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں اور غیر ملکی سفر کے لیے جعلی ایجنٹس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ جعلی ایجنٹس اور انسانی سمگلرز انہیں سبز باغ دکھا کر‘ لاکھوں روپے اینٹھنے کے بعد انہیں غیر قانونی سفر کے دوران سمندری لہروں یا صحراؤں میں مرنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک اور مافیا بھی سرگرم ہے جو طالب علموں کو تعلیم کے نام پر لوٹ رہا ہے۔ یہ سٹوڈنٹ ویزا کنسلٹنٹس ہیں جو طالب علموں سے لاکھوں روپے بٹور کر انہیں جعلی دستاویزات تھما دیتے ہیں‘ جس سے ان کے غریب والدین کی زندگی بھر کی کمائی جاتی رہتی ہے‘ جس پر اکثر بچے شدید ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ملک کا نوجوان سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھی پریشان ہے اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانا چاہتا ہے۔ اس کا فائدہ جعل ساز اٹھاتے ہیں۔ ابھی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا مجرم گرفتار ہوا۔ کاش کہ یہ سب اس کی زندگی میں ہوا ہوتا۔ ایک گولڈ میڈلسٹ بچی کی خواہش تھی کہ وہ بیرون ملک کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرے۔ یہ ایک جائز خواہش تھی۔ کاش کہ ہمارے ملک کی درسگاہیں عالمی رینکنگ میں ٹاپ پر ہوتیں تو ہمارے بچوں کو اچھی تعلیم کیلئے بیرون ملک کا رُخ نہ کرنا پڑتا۔ ہماری زیادہ تر جامعات میں سہولتوں کا فقدان ہے۔ اساتذہ کی تعداد کم ہے‘ نصاب پرانا ہے جو دورِ جدید کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ بہت سی درسگاہوں کی عمارتیں بوسیدہ ہیں۔ جدید کمپیوٹر لیبز نہیں۔ دوسرے شہروں سے آنے والے بچوں کیلئے ہاسٹلز کے اچھے انتظامات نہیں۔ اگر ان حالات میں نئی نسل باہر پڑھنے یا باہر جانے کی خواہشمند ہے تو ان کو یہ موقع قانونی طور پر ملنا چاہیے۔ پہلے نوجوانوں کو ویزا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا‘ اب ایئرپورٹ پر آف لوڈ ہونے کی داستانیں بھی سننے کو ملتی رہتی ہیں۔
میری طالب علموں سے گزارش ہے کہ آپ سب کی زندگی بہت قیمتی ہے۔ اگر کبھی نمبر کم آ جائیں‘ یا پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہ ہو‘ یا پسند کا رشتہ نہ ہو تو دل برداشتہ نہ ہوں۔ اپنے والدین کو اپنا دوست بنائیں‘ ان کو اپنے تمام مسائل سے آگاہ کریں۔ کسی باہر والے کو اپنا دوست یا مخلص نہ سمجھیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ہیں تو عالمی یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس پر اس کی تمام معلومات درج ہوتی ہیں۔ جعلی ایجنٹس اور انسانی سمگلرز سٹڈی ویزا‘ سکالرشپ اور ورک پرمٹ کا جھانسا دے کر صرف پیسہ لوٹتے ہیں۔ جب بھی ایڈمیشن لینا ہو‘ پہلے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جائیں‘ ان سے معلومات لیں اور براہِ راست اپلائی کریں۔ جن اداروں کو سفارت خانوں نے اپلائی اور ویزا کا کام دے رکھا ہے‘ ان کے علاوہ اپنا پاسپورٹ کبھی کسی کو مت دیں۔ یاد رکھیں‘ فیس ہمیشہ یونیورسٹی کے آفیشل اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے۔ جعلی ایجنٹ آپ سے فیس اپنے اکاؤنٹ میں یا نقد رقم کی صورت میں مانگے گا‘ یہ دھوکا ہوتا ہے۔ والدین خود اپنے بچوں کا داخلہ کرائیں اور ایمبیسی سے اس کی تصدیق کریں۔ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر بھی تمام معلومات موجود ہیں۔ وہاں سے بھی بچے معاونت لے سکتے ہیں۔ امریکی سفارت خانہ‘ کامن ویلتھ اور یورپی یونین بھی اپنی ویب سائٹس پر سکالرشپس کی معلومات دیتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ اپنے ویریفائیڈ (نیلے ٹک والے) سوشل میڈیا پیجز پر بھی وہ اس کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کو ویزا یا یونیورسٹی کا فارم بھرنے کے لیے مدد چاہیے تو ایسے کنسلٹنٹ سے کام کرائیں جو ایس ای سی پی اور ایف بی آر سے رجسٹرڈ ہو۔ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر ہر سکالرشپ اور فنڈز کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔ گوگل پر صرف یونیورسٹی کا نام لکھیں‘ سب تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ اس کے لیے کسی دوسرے تیسرے شخص پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کی بڑی جامعات اور ایچ ای سی بھی طالب علموں کو سکالرشپس دیتے ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کے ادارے پروفیشنلز کو فیلوشپ دیتے ہیں۔ اگر آپ کا داخلہ امریکہ یا برطانیہ میں نہیں ہوا تب بھی آپ کے پاس یورپ کے دیگر ملکوں‘ آسٹریلیا‘ کینیڈا اور چین میں بڑے پیمانے پر آپشنز موجود ہیں۔ یورپی یونین‘ چین اور ترکیہ طالب علموں کے لیے خصوصی داخلے فراہم کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک جانا اور وہاں پڑھنا ایک جائز خواب ہے‘ لیکن اس خواب کی تعبیر کے لیے غیر قانونی راستہ نہ اختیار کریں اور نہ ہی کسی فراڈ ایجنٹ کے جھانسے میں آئیں۔ ہمیں اس وقت اپنے ملک میں تعلیمی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ بچے وہ پڑھیں جس کے بعد ان کو نوکری بھی مل سکے۔ میرے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں کہ اے آئی کرنے والے‘ فزکس اور میتھس والے اور میڈیا سٹڈیز میں ڈگری کرنے والے بچوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ اگر یونیورسٹیاں کوئی کورس پڑھا رہی ہیں تو اس کی نوکریاں بھی تو ہونی چاہئیں۔ کتنے بچے امورِ فلکیات پڑھنا چاہتے ہیں‘ خلاباز بننا چاہتے ہیں اور کتنے سائنسدان بننا چاہتے ہیں‘ لیکن ان کے لیے نوکریاں ہی نہیں۔ شارٹ کٹ کا استعمال کرتے ہوئے لوگ ٹک ٹاکر بن جاتے ہیں یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے سکرپٹ پڑھنا شروع کر دیتا ہے‘ مگر سنجیدہ افراد کے لیے مطلوبہ اسامیاں نہیں۔ ان کے لیے جنہیں کام کرنا ہے‘ وہ بیرونی دوروں میں مصروف ہیں۔
میری اب بھی گزارش ہے کہ نوجوانوں کے لیے حالات ٹھیک کریں‘ ان کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع مہیا کریں۔ یونیورسٹی اور کالجوں میں ڈگری کے ساتھ فری لانسنگ‘ کوڈنگ یا کوئی اور ووکیشنل سکلز بھی دی جائیں۔ ان کے پاس ڈگری بھی ہو اور ہنر بھی۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو پڑھائی اور کاروبار کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں۔ بچوں پر سے فرسٹ آنے کا معاشرتی بوجھ ہٹانا چاہیے اور ہر تعلیمی ادارے میں کیریئر اور صحت سے متعلق کونسلنگ کا محکمہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے لیے طالب علموں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے فری پاسز جاری کیے جائیں۔ شاید یہ سب کرنے سے مایوسی میں کمی آئے اور طالب علموں میں خودکشی کی شرح کم ہو جائے۔ بچوں کو انسان سمجھیں‘ وہ مشین نہیں ہیں۔ ان سے غلطی بھی ہو سکتی ہے‘ ان کے نمبر کم بھی آ سکتے ہیں۔ ہر بچے کا ہنر اور ٹیلنٹ الگ ہوتا ہے۔ اپنے بچوں سے شفقت سے پیش آئیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved