ایرانیوں اور ان کے اتحادیوں نے اتنا تو بتلا دیا کہ بقا اور آزادی کیلئے کیسے لڑا جاتا ہے۔ دشمن کئی گنا زیادہ طاقتور‘ وسائل اور ہتھیار سے مالا مال‘ لیکن کیا ایران اور کیا یمن کے حریت پسند مقابلہ کرنے کا انداز تو دکھا دیا۔ ہم جو اہلِ ایمان اپنے آپ کو کہتے ہیں حالانکہ حرکتوں سے گمان اکثر ہوتا ہے کہ ایماں کہیں کھو گیا‘ کن راہوں پر چل رہے تھے۔ اپنے وجود کا دفاع اوروں پر چھوڑ دیا۔ تکیہ کس پر‘ دنیا کی سب سے بڑی سامراجی قوت پر۔ اُسی سے ناطے جوڑنا‘ اُسی کی طرف دیکھنا‘ اُسی کی طرف ہاتھ پھیلانا۔ اور پھر یہ سمجھنا کہ کمال کر دیا‘ سب ضمانتیں حاصل ہو گئیں۔ میلی آنکھ سے کوئی نہ دیکھ سکے گا۔ چند دنوں کی لڑائی نے ان سب مفروضوں کو فنا کر دیا۔ جن پر تکیہ تھا وہ اپنے فوجی اڈے بچا نہ سکے۔
تیل کی دولت نعمت خداوندی تو تھی لیکن دولت کچھ اتنی آئی اور اتنی جلدی کہ آنکھوں پر پردے پڑ گئے۔ رویوں میں غرور آ بیٹھا اور خیال ہونے لگا کہ تیل کی دولت کے ساتھ عقلِ کُل بھی ہو گئے ہیں۔ ترقی کے ایسے خواب دِکھنے لگے کہ وہ سادگی جو عرب صحرا کی ایک خصوصیت تھی دور کہیں صحرا میں ہی گُم ہو گئی۔ ودیشی تصورِ ترقی سالم کا سالم اُٹھا کر صحراؤں میں پیوست کیا جانے لگا۔ کہاں جزیرۃ العرب کی پرانی طرزِ زندگی اور کہاں مغرب سے لائے گئے ترقی کے خاکے۔ شہروں کا حلیہ بدل گیا۔ رہن سہن کے طریقے بدل گئے۔ طرزِ زندگی ایسی اُبھری جس سے صحرا کا دور کا واسطہ نہ تھا۔ ہر چیز باہر کی۔ سائنس و ٹیکنالوجی دور ملکوں کی۔ تصوراتِ زندگی اُن کی۔ ہتھیار وہاں سے‘ جدید ترین لڑاکا طیارے باہر کے۔ لیکن ہتھیاروں کے ساتھ جو ترکیبِ جنگ آنی چاہیے تھی وہ ہاتھ نہ آئی۔ اور جب وقتِ امتحاں آیا تو جدید ترین ہتھیار ناکافی ٹھہرے۔
ہم پاکستان والے تیل کی غنیمت سے ناآشنا رہے۔ پھر بھی گزر اوقات ایسی اپنائی کہ پاؤں چادر سے ہمیشہ زیادہ پھیلائے۔ اس لیے قوم کی زندگی میں جلد ہی گزر اوقات کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ہاتھ پھیلانے کی ادائیں سیکھنی پڑیں۔ اس میں ماہر بھی ہو گئے اور پھر دستورِ ریاست ایسا بنا کہ مانگے تانگے پر ہی گزارا کرنا پڑا۔ صحراؤں میں تیل کے نخلستان پھوٹے تو ہمارے لیے بھی مواقع پیدا ہوئے۔ نظریۂ ترقی کے تصورات اگر مغرب سے آئے تو ہم جیسی قوموں نے مزدوری اور اس سے ملتے جلتے لوازمات کے تقاضے پورے کیے۔ انتھک محنت سے حاصل پیسوں کی وجہ سے ہماری گاڑی چلتی رہی۔ آج تک چل رہی ہے۔ باہر سے بھیجے پیسے رک جائیں تو معیشت کا پہیہ چل نہ سکے۔ اپنے حالات کو دیکھ کر قسمت کو روتے اور صحراؤں کی دولت پر رشک کرتے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کی ہوئی جنگ نے سب کچھ الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ صحراؤں کے باسی بہت کچھ سمجھ گئے ہوں گے۔ غیروں پر تکیہ کرنے کا شاخسانہ دیکھ چکے۔ ہمیں کچھ سمجھ آئی ہے یا نہیں اس کا کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ یہاں رائج نظام اور اُس سے پیدا شدہ اقدار و عادات منفرد نوعیت کی ہیں۔ اس دور سے نکلیں‘ نکلنا اگر تقدیر میں لکھا ہو‘ تو پھر دیکھیں کہ اس شورش کے زمانے سے قومی سوچ پر کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں۔
البتہ اتنا ہم کم فہموں کو کوئی سمجھائے کہ بے پناہ دولت سے اتنا بھی کیا سوچ سے عار ی ہو جانا کہ فضول خرچیوں کی کوئی حد نہ رہے۔ صحرا میں نئے شہروں کے ایسے نقشے تیار کروائے گئے جن کا کوئی سر نہ پیر۔ ذاتی استعمال کیلئے ایسے بحری جہاز (Yacht)خریدنا جن کی قیمت سُن کر انسان دنگ رہ جائے۔ فرانس میں مہنگے محل‘ انگلستان اور امریکہ میں مہنگی جائیدادوں کا حصول۔ نایاب پینٹنگز کا خریدا جانا‘ عوام کے دیکھنے کیلئے نہیں بلکہ کسی ذاتی محل کی نمائش کیلئے۔ امریکہ کے صدر کا آنا اور حیران کن تحائف سے اُنہیں لاد دینا۔ مقصد خوشدلی حاصل کرنا‘ ایسی خوشدلی جو آڑے وقت کسی کام نہ آئی۔ حوثیوں کو تو کچھ سمجھا نہیں جاتا تھا۔ سالہا سال اُن پر بمباری ہوتی رہی۔ زمینی اور سمندری محاصرہ قائم ہوا جس کی وجہ سے قحط کے حالات یمن میں پیدا ہوئے۔ لیکن جب اس بار جنگ چھڑی اور اپنے سے کچھ نہ ہو سکا تو جن کی خوشدلی حاصل کرنے کیلئے اتنے پاپڑ بیلے گئے تھے اُن سے مدد کی اپیل ہوئی اور وہاں سے جواب نفی میں ملا۔ صحراؤں کے شہنشاہ سوچتے تو ہوں گے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
ہم جیسے گناہگاروں کا فہمِ اسلام ناقص ہے یا کم از کم نامکمل۔ زاہد نہیں‘ عالم نہیں‘ فقیہ نہیں۔ لاعلمی کے اندھیروں میں بس اتنی سمجھ آتی ہے کہ فہمِ اسلام دو اقوال میں سمو سکتا ہے۔ ایک حضرت عمر فاروقؓ کا‘ جب اُنہوں نے کہا کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھوکا ہو تو روز محشر اُن سے سوال کیا جائے گا۔ اور دوسرا جو حیدرِ کرارؓ سے منسوب ہے کہ غیر اسلامی حکومت تو قائم رہ سکے پر ظلم پر مبنی نظام نہ رہ سکے۔ کیا مکمل احاطہ اسلام کا یہ دونوں اقوال کرتے ہیں۔ کال مارکس کا سارا فلسفہ پہلے میں آ جائے اور جمہوریت کا تمام درس دوسرے قول میں ضم ہو جائے۔ جب ایسی سوچ اور ایسے خیالات صحرا سے ابھرتے تھے تو وہاں کا رہن سہن کیسا تھا؟ نمایاں اقدار کیا تھیں؟ کیا سادگی اور کفایت شعاری اس طرزِ زندگی کا ایک اہم جزو نہ تھا؟ اور اگر تھا تو اُس زندگی میں اور تیل کی دولت سے پیدا ہونے والے تصورِ زندگی میں مماثلت کیا تھی؟
پورے جزیرۃ العرب میں وہ پرانی والی سادگی کہاں نظر آتی ہے؟ جواب سے چونک نہ جانا۔ صرف یمن میں۔ خاص طور پر یمن کے پہاڑوں کے محافظوں میں۔ کیا اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سادہ چپلیں پہنے ٹیوٹا ٹرکوں پر بیٹھ کر حملے کرنے والے۔ تحقیر آمیز لہجے میں اُن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے۔ چپلیں تو پہنی ہوں گی اور ہر آسائش سے محروم بھی ہیں لیکن لڑنا تو اُنہیں آتا ہے۔ جذبہ بھی اُن کے پاس ہے‘ اس لیے اُن سے کہیں طاقتور افواج اُن کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں۔ ویسے بھی اسلام کی جو پہلی جنگیں تھیں عرب فوجوں کی حالت کیا ہوتی تھی؟ دوسرے خلیفۂ راشدؓ ایک اونٹ پر یروشلم آ رہے تھے تو غلام اونٹ کے اوپر تھا اور امیرالمومنین نے اونٹ کو آگے سے پکڑا ہوا تھا۔ استقبال کیلئے آنے والوں نے سمجھا اوپر بیٹھا خلیفہ ہے۔ موجودہ یہود کی مسلط کی ہوئی جنگ میں اُن گزرے وقتوں سے مشابہت کون رکھتا ہے؟
اس جنگ سے رونما ہونے والی تبدیلیاں عارضی نہیں۔ اس خطے کا نقشہ ہمیشہ کیلئے بدل چکا ہے۔ امریکہ جو بھی ہاتھ پیر مارے یہاں سے گیا۔ کم از کم اُس کے اڈے گئے۔ کوئی فرمانروا حالات سے اب اتنا نابلد نہ ہوگا کہ ان بیکار کے اڈوں کو اپنی سرزمین پر رہنے دے۔ ان اڈوں کی افادیت تو دنیا نے دیکھ لی۔ اور دونوں طرف کے سمندری راستوں پر جو نہتے سمجھے جاتے تھے اُن کا کنٹرول قائم ہے۔ اس بڑی لڑائی میں جو کہ یہود اور امریکی سامراج کی مسلط کی ہوئی ہے کئی لاچار خواہ مخواہ کے پھنس گئے ہیں۔کچھ کریں تو نقصان پیچھے مڑیں تو تہمت۔ مجبوری کے سودے ہیں جب بغیر سوچے کچھ کرنا پڑ جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved