تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     18-10-2026

رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبریں

رونگٹے کھڑے کر دینے والی کئی طرح کی خبروں سے روزانہ کی بنیاد پر سامنا ہوتا ہے۔ کچھ پڑھتے ہیں‘ کچھ ٹیلی وژن پر دیکھتے ہیں اور کچھ سماجی رابطوں کے حوالوں سے سننے میں آتی ہیں‘ لیکن زمانہ اتنا مصروف ہو چکا ہے اور روزگار کمانے کی دوڑ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ اب کوئی بھی ان خبروں کو خاطر میں نہیں لاتا‘ دھیان نہیں دیتا‘ حتیٰ کہ حکومت بھی نہیں جس کی ذمہ داری ہی عوام کی بہبود اور ملک کی ترقی کیلئے پالیسیاں بنانا اور ان پر عملدرآمد کرانا ہے۔
ساحر لدھیانوی نے کہا تھا:
کل کوئی مجھ کو یاد کرے، کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لیے ،کیوں وقت اپنا برباد کرے
تو اب بڑی بڑی دھماکا خیز خبریں بھی روٹین کا معاملہ بنتی جا رہی ہیں۔ پہلے چند خبروں کے خلاصوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں‘ پھر آگے بات کریں گے۔ کوئی ان خبروں پر غور کر کے اپنا وقت برباد کرنے کو تیار نہیں۔
پہلی خبر: 2024ء میں 45830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک گئے۔ 2025ء میں 28726 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں نے بیرون ملک روزگار حاصل کیا۔ 2026ء میں اب تک یعنی 16 اکتوبر تک 15850 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک چلے گئے جبکہ ہزاروں ہیں جو بیرون ملک جانے کیلئے بیتاب ہیں۔ بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹرز‘ انجینئرز‘ آئی ٹی پروفیشنلز اور ماہرین تعلیم شامل ہیں۔
دوسری خبر: اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP)کے 2026ء کے غربت کے اشاریوں کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 38.3 فیصد ہے جبکہ بھارت میں 16.4 فیصد اور بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد۔ رپورٹ کے مطابق 21.5 فیصد پاکستانی شدید غربت کا شکار ہیں جو کم و بیش 10کروڑ افراد بنتے ہیں۔ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں یہ ایک خاصی بڑی تعداد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کثیر جہتی غربت کا شکار افراد میں محرومی کی شدت 51.7 فیصد ہے‘ جبکہ مزید 12.9 فیصد آبادی غربت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔
تیسری خبر: گلوبل ہنگر انڈیکس 2026ء کی رپورٹ میں پاکستان میں بھوک‘ غذائی قلت اور غذائی تحفظ کی ابتر صورت حال کا انکشاف ہوا ہے۔ 2026ء کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان کا سکور 25.5 ہے جو ملک میں بھوک کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا کا علاقائی سکور 23.5 جبکہ عالمی سکور 18.1 ہے۔ پاکستان کی 122 ممالک میں مجموعی درجہ بندی 106 ہے جو بھارت‘ بنگلہ دیش اور ایران سے نیچے ہے۔ غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی‘ آئی پی سی کی امسال فروری میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 75 لاکھ افراد انتہائی درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت‘ معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی‘ غربت‘ قرضوں کے بوجھ اور سماجی تنہائی کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی صحت عامہ کیلئے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔
چوتھی خبر: وفاقی سیکرٹری خزانہ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف پاکستان کیلئے 37 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت 174 قانون سازی کی ترامیم چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی منظوری کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ پھر خبر آئی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ سیاسی تعطل کے خاتمے کے بعد دونوں جماعتوں نے آئی ایم ایف کی شرائط اور ملکی معیشت سے منسلک قوانین سمیت 30سے زائد اہم مسودۂ قانون یعنی بلزکی فوری اور باہم متفقہ منظوری پر اتفاق کر لیا ہے۔
خبریں اور بھی ہیں لیکن مشتے نمونہ از خروارے والا فارمولا اختیار کرتے ہیں۔ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے افراد ہوتے ہیں کیونکہ افراد سے ہی قوم بنتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کسی قوم کا ایک ایک فرد بے مثل اہمیت کا حامل ہوتا ہے‘ وہ جو علامہ اقبال نے کہا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
برین ڈرین کا سُن کر منہ دوسری طرف کر لینے والوں کو یہ شعر بار بار پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔ جب کسی قوم کے افراد اپنے مستقبل سے مایوس ہونے لگیں‘ نوجوان ملک چھوڑنے کو ترجیح دیں‘ غریب خاندان دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہوں اور بھوک و ذہنی دبائو عام زندگی کا حصہ بن جائیں تو یہ محض معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی ترجیحات پر نظرثانی کا تقاضا بن جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ صورتحال پیدا ہونے کی کئی وجوہ ہیں۔ سب سے پہلی وجہ معاشی عدم استحکام ہے۔ مہنگائی‘ محدود ہوتے روزگار کے وسائل‘ کم ہوتی قوتِ خرید اور آمدنی و اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق جیسے عوامل عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا رہے ہیں۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت‘ مناسب تنخواہ اور ترقی کے مواقع میسر نہ ہوں تو بیرونِ ملک بہتر مستقبل کی تلاش اس کیلئے فطری انتخاب بن جاتی ہے۔دوسری بڑی وجہ میرٹ پر عدم اعتماد‘ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا اور ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں۔ سرمایہ کاری کیلئے غیر یقینی ماحول‘ کاروبار کی بلند لاگت اور ہنرمند افراد کیلئے روزگار کے محدود مواقع رکاوٹ بنتے ہیں۔ غربت اور غذائی قلت اس وقت بڑھتی ہیں جب خاندانوں کی آمدنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہو‘ جبکہ تعلیم‘ علاج اور غذائیت کی سہولتیں بھی انکی پہنچ سے باہر ہوتی جائیں اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ معاشی محرومی جسمانی صحت کیساتھ ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اگرچہ حالات بہت دگرگوں ہو چکے ہیں اور سرنگ کی دوسری جانب روشنی کا کوئی سراغ نہیں ملتا پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصلاحِ احوال کیا جائے تو حالات اب بھی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کیلئے حکومت کو سب سے پہلے نمائشی منصوبوں کے بجائے انسانی ترقی کو ترجیح دینا ہو گی۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی حوصلہ افزائی‘ صنعتوں میں سرمایہ کاری‘ فنی تعلیم اور نوجوانوں کیلئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ سرکاری ملازمتوں اور ترقیاتی مواقع میں میرٹ یقینی بنایا جائے‘ جبکہ پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔
غربت کے خاتمے کیلئے مستحق خاندانوں کو مؤثر مالی معاونت‘ بچوں کیلئے غذائیت کے پروگرام‘ معیاری سرکاری تعلیم اور سستی طبی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ زرعی پیداوار اور خوراک کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنا کر غذائی عدم تحفظ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ٹیکس نظام میں منصفانہ اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں شفافیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ کامیابی کا معیار محض معاشی شرحِ نمو نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے خاندان غربت سے نکلے‘ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا اور کتنے شہریوں کو بہتر زندگی میسر آئی۔
پاکستان اور اس کے عوام کا مستقبل صرف وسائل بڑھانے سے نہیں‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور درست استعمال سے محفوظ ہو گا۔ اگر انسان ہی مایوس‘ محروم اور بھوکے رہیں تو ترقی کے بڑے بڑے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اب ضرورت وعدوں کی نہیں‘ ایسی عملی اصلاحات کی ہے جن کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں اور اسے اپنے ہی وطن میں باعزت زندگی گزارنے کی امید ملے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved