تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     19-10-2026

تعلیمی مشیر یا فراڈیے

پہلے تو وضاحت کرتا چلوں کہ اُن مشیروں کی بات نہیں جو حکومت میں عہدوں کا حلف اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے محب وطن‘ دیانتداری اور قومی خدمت کے جذبے سے لبریز مخلص شرفا کو کون فراڈیے کہہ سکتا ہے۔ مبادا کسی کے ذہن کوئی غلط فہمی پیدا ہو‘ اسی لیے مشیر سے پہلے تعلیمی کا لفظ لکھ دیا ہے۔ افسوس‘ صد افسوس کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں بھی وہ لوگ آ گھسے ہیں جنہیں کہیں اور ہونا چاہیے تھا۔ جامعات میں پوری زندگی گزارنے کے بعد‘ اور آج بھی ایک سرکاری یونیورسٹی سے وابستہ ہونے کے باوجود‘ ان کے بارے میں کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ کئی وجوہات ہیں‘ مگر جب میں ان میں موجود ہوں تو خود بھی کسی کی تنقیدی گرفت سے اپنے آپ کو مبرا خیال نہیں کرتا۔ اساتذہ کی اب تقریباً تیسری‘ چوتھی نسل جامعات آتی دیکھ رہا ہوں۔ بہرحال مجموعی طور پر وہ سب ہم سے تو بہت بہتر ہیں۔ جامعات کے اقتصادی اور انتظامی معاملات اب اتنے سادہ نہیں رہے‘ نہ ہی اساتذہ خو د کو اُس طرح آزاد سمجھتے ہیں جس طرح ہم کسی زمانے میں تھے۔ انہیں زیادہ تر مشکلات اور مسائل میں گھرا دیکھتا ہوں۔ بیرونی مداخلت کہیں زیادہ ہے۔ طلبہ اور طالبات کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ تعلیم اور تربیت کے ساتھ اُن کی ذہنی نشوو نما کے لیے جامعات کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی تعلیمی مشیر‘ جو انہیں بیرونِ ملک خصوصاً یورپی اور امریکی جامعات میں داخلوں اور سکالرشپس کے بارے میں آگاہی اور معلومات فراہم کر سکیں۔ اس بات کا ادراک ایک عرصے سے تھا مگر جامعات سے متعلقہ مسائل کو ان صفحات پر زیرِ بحث لانے سے شعوری طور پر گریز کیا۔ البتہ جہاں سیمیناروں‘ کانفرنسوں اور باہمی ملاقاتوں کا موقع ملا‘ ان مسائل کو ضرور اٹھایا۔
لائبہ اعجاز کا سانحہ ایسے ہی نہیں ہوا‘ ایسے کتنے ہی ہیں‘ جو تعلیمی مشیروں سے لٹتے رہے ہیں انہوں نے ایسا قدم تو نہ اٹھایا‘ مگر نہ جانے کتنے ہوں گے جو مشاورت کی بھاری فیس ادا کرنے کے بعد کہیں دھکے کھا رہے ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طلبہ اور ان کے والدین ان مشیروں کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ جواب سادہ ہے: اکثر کے پاس دھن‘ دولت کی کمی نہیں‘ تو کیوں نہ بچوں کو امریکہ اور یورپی یونیورسٹی میں تعلیم دلائی جائے۔ ان میں اکثریت اُن بچوں اور اُن کے والدین کی ہے جو نجی انگریزی میڈیم سکولوں سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں باہر جا رہے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے مشیروں کا کاروبار پھیلتا چلا گیا۔ میرے نزدیک مشاورت کی ذمہ داری اُن تعلیمی اداروں کی ہے جہاں سے بچے اپنی ثانوی تعلیم کی سند حاصل کرتے ہیں۔ اچھی طرح اندازہ بھی ہے‘ اور اندر کی خبر بھی کہ مشیرانِ تعلیم کس طرح کی ہیرا پھیریاں کرتے ہیں کہ کسی طرح بھاری رقوم جو بٹوری ہیں‘ وہ کھری ہو جائیں۔ لائبہ اعجاز کا سانحہ اب تک میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ چکا ہے‘ جن کا جواب شاید تحقیق کے بعد ہی سامنے آئے۔ سرکاری اور نجی جامعات میں اساتذہ بیرونِ ملک جامعات میں داخلے کے لیے ہر طالب علم کی رہنمائی کرتے آئے ہیں‘ اور کر رہے ہیں۔ اکثر جامعات اس مقصد کے لیے سیمینارز کراتی ہیں اور باہر کی جامعات کا تعارف کئی حوالوں سے دورانِ تعلیم ہوتا رہتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ طلبہ کو خود بھی پتا ہوتا ہے کہ انہوں نے کن جامعات میں اپلائی کرنا ہے۔ ان کی اپنی تعلیمی استعداد انہیں کہاں زیادہ موقع فراہم کرے گی‘ اور کس فیلڈ میں انہیں جانے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی طالب علم کسی بھی جامعہ میں چار سال گزارنے کے بعد باہر کی جامعات کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکتا‘ جبکہ آج کے جدید دور میں تو یہ سب کچھ اپنی سکرینوں پر چند منٹوں سکینڈوں میں حاصل کر سکتے ہیں‘ تو میرے نزدیک وہ باہر کی جامعات میں تعلیم کے لیے ابھی تیار ہی نہیں۔
فراڈیے جس میدان میں بھی ہوں‘ اور ہمارا ملک تو ہر نوع کے فراڈیوں کے لیے ہمیشہ زرخیز رہا ہے‘ ان لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں جن کی اپنی اہلیت کچھ زیادہ نہیں ہوتی۔ اس لیے تو لائبہ اعجاز کیس کے بارے میں ذہن میں سوالات ہیں کہ وہ تو ایک سٹار طالبہ تھی‘ تو پھر کیسے فراڈیوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ پہلے کچھ ذاتی مشاہدے سامنے رکھ کر آپ کو ان فراڈیوں اور ان کے جامعات کے اندر رابطوں کے بارے میں بتا دوں۔ ایک دو سال پہلے کسی سرکاری یونیورسٹی کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس میں چند دن شرکت کی۔ آخری دن کا ایک سیشن طلبہ کی رہنمائی کے عنوان سے تھا۔ ایک بندہ سوٹ بوٹ کے ساتھ صدارت کر رہا تھا‘ اور کچھ پروفیسر حضرات جو اُسے مدعو کرکے لائے تھے اور تعلق دار تھے‘ تعلیمی مشاورت کی اہمیت کے بارے میں تقاریر فرماتے رہے۔ میری دلچسپی کا مرکز وہ معتبر دکھائی دینے والا شخص تھا۔ اُس نے اپنی کمپنی کے بارے میں بتایاکہ وہ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور یورپی ممالک میں طالب علموں کو داخلے اور باہنر لوگوں کو مستقل رہائش‘ ملازمت اور شہریت دلوانے کاکام کرتی ہے۔ بعد میں کچھ دیر ملاقات رہی تو اُس نے کئی پروفیسروں کے نام بتائے کہ کس طرح وہ ان کی مدد سے باہر کے ملکوں کی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ میں نے اُسے کہا کہ آپ کی جو کامیابیاں ہیں اس طرح تو ہماری جامعات اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سے بالکل خالی ہو جائیں گی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اُسے مزید کریدا جائے اوراس دھندے کے بارے میں کچھ مزید مفید معلومات اکٹھی کی جائیں۔ بس یوں سمجھیں کہ پیسہ کام کرتا ہے‘ اور حسبِ ضرورت مناسب کاغذات‘ مقالات کی تیاری اور اشاعت‘ اور وسیع تجربے کی سندوں کے حصول تک کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ جب ایسا کام کرنے اور کرانے والوں کی کوئی اخلاقیات ہی نہ ہو‘ تو ہم کون ہوتے ہیں ان کے دھندوں اور اُن سے فیضیاب ہونے والوں کے بارے میں بات کرنے والے۔
اُن صاحب نے میرا تعارفی کارڈ لیا اور اپنی کمپنی کا وزٹ کرنے کی دعوت دی۔ کچھ دن بعد اُن کا فون آیا کہ اُن کے ایک کلائنٹ کو کسی امریکی جامعہ میں داخلے کے لیے ریفرنس لیٹر لکھ دوں۔ یقین جانیں کہ مجھے یہ جان کر ایک زوردار جھٹکا لگا کہ ہمارے پروفیسر حضرات ایسا کرتے ہوں گے‘ تبھی تو اس نے ایک مختصر ملاقات کے بعد ہی یہ فرمائش کر ڈالی۔ اُسے مختصر جواب دیا کہ بھائی جان! یہ بندہ صرف اپنے طالب علموں کے لیے داخلے کے سفارشی خطوط لکھتا ہے۔ کسی اجنبی کے لیے ایسا لیٹر نہیں لکھتا‘ اور نہ ہی پیشہ ورانہ اخلاقیات ایسا کرنے کی کسی کو اجازت دیتی ہیں۔ یہاں وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ہر طالب علم دنیا کے کسی بھی کونے سے خود کسی بھی باہر کی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔ کسی نمائندے یا کسی مشیر یا ایسی کسی کمپنی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر طالب علم میں اتنی بنیادی اہلیت تو ہوتی ہے‘ اور ہونی چاہیے‘ کہ وہ داخلے کے لیے ضروری کاغذات اور ریفرنس لیٹر حاصل کر سکے۔ عجیب بات ہے کہ جنہوں نے کسی امریکی یا برطانوی یونیورسٹی میں کبھی داخلہ لیا نہ تعلیم حاصل کی‘ وہ داخلوں کے لیے تعلیمی مشیروں کا بزنس کر رہے ہیں۔ ہماری حکومتیں ہمیشہ کی طرح ان دھندوں کے بارے میں لاعلم ہیں۔ خوابِ غفلت سے اُس وقت جاگتی ہیں جب کوئی سانحہ ہو جاتا ہے‘ مگر کچھ دیر بعد سب دوبارہ سو جاتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved