خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے یہی تاثرات ابھر رہے ہیں کہ معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی غیر دانشمندانہ حکمت عملی کی وجہ سے وفاقی حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ گورنر راج کی حد مدت چھ ماہ ہوتی ہے‘ تاہم ایمرجنسی غیر معینہ مدت کے لیے بھی لگائی جا سکتی ہے‘ جب تک کہ امن وامان قائم نہیں ہو جاتا اور دہشت گردی اور ریاست دشمنوں کی سرکوبی نہیں ہو جاتی۔ بادی النظر میں صوبے میں صدارتی راج نافذ العمل ہے‘ گورنر کو محض شیڈو کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ مشاورتی کونسل کے 11 ارکان کا تقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں وفاقی وزرا پر مشتمل کمیٹی صوبے کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ اگرچہ ماضی میں مختلف صوبوں میں گورنر راج نافذ ہوتے رہے ہیں لیکن ایسی دہری حکمت عملی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
14 اگست 1973ء کو جب نیا آئین نافذ کیا گیا تھا تو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسی رات ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈیفنس رولز آف پاکستان نافذ کر دیا تھا جس کے تحت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق معطل ہو گئے اور وزیراعظم بھٹو خود ہی تمام اختیارات کا سرچشمہ بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نافذ کردہ ایمرجنسی اکتوبر 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے ختم کی تھی اور پھر حیدرآباد ٹربیونل میں قید تمام رہنمائوں بشمول ولی خان‘ خیر بخش مری‘ عطا اللہ مینگل‘ غوث بخش بزنجو‘ سردار شیر مزاری کو رہا کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ وہ تمام سیاسی قیدی جو دلائی کیمپ میں رکھے گئے تھے‘ وہ بھی رہا کیے گئے ۔ جنرل ضیا الحق کے اس اقدام کا ملک بھر کی سول سوسائٹی‘ سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کے آزاد خیال رہنمائوں نے خیرمقدم کیا تھا۔ حیران کن طور پر غلام مصطفی کھر نے بھی جنرل ضیا کے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ اس سے پیشتر غلام مصطفی کھر نے جسٹس ذکی الدین پال کے روبرو اپنے چھ ساتھیوں کو دلائی کیمپ میں بھجوانے کے مسٹر بھٹو کے احکامات سامنے لا کر بھٹو کو چارج شیٹ بھی کر دیا تھا۔ لہٰذا اب جو ایمرجنسی صوبہ خیبر پختونخوا میں لگائی گئی ہے اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔ چھ ماہ بعد اگر گورنر راج اٹھایا جاتا ہے تب بھی ایمرجنسی اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبہ صدارتی گرفت میں رہے گا۔
اس وقت عوام کی یہ بھی خواہش ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے 18 سالہ دورِ حکومت‘ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کے 2008ء سے 2018ء تک کے دورِحکومت اور تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے بارہ‘ تیرہ سالہ دورِ حکومت کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے۔ ہر منصوبے کی لاگت‘ فنڈز اور کرپشن کے الزامات کی تحقیقات ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ عوام کی امانت کہاں خرچ ہوئی اور کہاں ضائع ہوئی۔ ان تحقیقات میں پنجاب حکومت کا مارچ 2024ء سے اب تک کا دور بھی شامل کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جو کام ضروری کرنے کا ہے وہ ملک کے 25 ہزار سول افسران کی دہری شہریت کا معاملہ ہے‘ ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔ ملک کو ترقیاتی طور پر صف اول میں لانے‘ معاشی حالات کو بہتر بنانے‘ روزگار کے مواقع اور عوام کی فلاح بہبود کے منصوبوں کو حقیقی رنگ دینے کے لیے اب خیبر پختونخوا کے بعد دیگر صوبوں میں بھی اسی طرز کا ماڈل سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ دس سے بارہ نئے صوبوں کی تشکیل‘ نہری نظام پر صوبوں کی دسترس کا خاتمہ اور زرعی اصلاحات اور شوگر و گندم مافیا کا خاتمہ کرنے کے لیے آہستہ آہستہ دیگر صوبوں میں بھی ایمرجنسی اور گورنر راج طرز کے اقدامات زیر غور ہیں۔
ادھر تحریک انصاف سے متعلق حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے کئی کارکنان بشمول سزایافتہ رہنما مراد سعید افغانستان میں ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مراد سعید افغانستان میں روپوش ہو کر خیبر پختونخوا کی حکومت کو کنٹرول کرتے تھے۔ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنائے جانے میں بھی مراد سعید کا ہاتھ بتایا جاتا ہے کیونکہ عمران خان تو سہیل آفریدی کو جانتے بھی نہیں تھے۔ مذاکرات کی ناکامی میں بھی بنیادی کردار سہیل آفریدی اور مراد سعید کا تھا۔ تاریخی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ جب کسی سیاسی تحریک کو دبانے کے لیے سخت ریاستی اقدامات کیے جاتے ہیں تو پارٹی کے جنونی اور مشتعل کارکن تشدد کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ 1979ء میں ہواجب بھٹو کی پھانسی کے بعد ''الذوالفقار‘‘ کے نام سے تشدد پسند تنظیم بنائی گئی۔ اسی طرح اکبر بگتی کی موت کے بعد براہمدغ بگتی اور نواب خیر بخش مری کے بیٹے بیرونِ ملک بیٹھ کر بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہے ہیں‘ لہٰذا ان امکانات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں تمام سیاسی مسائل کے حل کے لیے گرینڈ مذاکرات کے ذریعے ریاست کے مفاد میں باعزت قدم اٹھانا ناگزیر ہے۔ اس وقت عالمی حالات کے تناظر میں بھی داخلی سیاسی استحکام کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور یہ ملکی معیشت اور استحکام کے لیے بھی ازحد ضروری ہے۔
سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب کسی جماعت کے سربراہ کو قید کر دیا جائے‘ قیادت منتشر ہو‘ رہنما اور کارکن گرفتار ہوں اور عوام کو بھی خطرات محسوس ہو رہے ہوں تو تحریک ختم نہیں ہو جاتی۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے حالات میں تحریکیں زیر زمین چلی جاتی ہیں یا کسی نئی شکل میں سامنے آتی ہے۔ جیسا کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو سزائیں ملنے پر پارٹی کے کارکن زیر زمین چلے گئے تھے اور بعد ازاں ایم آر ڈی کی صورت میں بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں پارٹی متحرک ہوئی تھی‘ جس میں اس وقت نمایاں نام نوابزادہ نصراللہ خان کا تھا۔ کسی سیاسی جماعت کو دباؤ میں رکھ کر وقتی طور پر اس کی عوامی سرگرمی محدود کی جا سکتی ہے لیکن احتجاج کی کم ہوتی شدت دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی حمایت ختم ہو گئی ہے۔ اس طرح خاموش عوام کو پوشیدہ انقلابی طاقت سمجھنا بھی غلط ہو گا۔ اصل صورتحال جاننے کے لیے حمایت‘ خوف‘ تنظیمی صلاحیت اور سیاسی شرکت کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ آخری فیصلہ کن مرحلہ میں روایتی سیاستدانوں کا نظام میں کردار ختم یا محدود کر کے ایسا سیاسی و انتظامی ماڈل بنے جس میں ٹیکنو کریٹس‘ کامیاب کاروباری شخصیات اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے لا کر عوام کو معاشی ترقی اور بدلتے پاکستان کا خواب دکھایا جائے اور ریاستی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔
دوسری طرف یہ سنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کو گورنر مقرر کیا جا سکتا ہے۔ ان کا وسیع تجربہ ہے۔ صوبے کے سابق وزیراعلیٰ ہیں جبکہ مرکز میں وزیر دفاع کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ ان کا اثر و رسوخ پورے صوبے تک محیط ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا کے حالات پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطی کے کئی ممالک کی بھی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ روس نے بھی اپنے وسیع تر مفادات میں صوبے کے اندرونی معاملات پر نظریں ٹکا رکھی ہیں۔ افغانستان اور بھارت کا نیٹ ورک صوبے کے نوجوانوں کی صفوں میں داخل ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے حالات کو شدید عدم استحکام کی لپیٹ میں لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘ لہٰذا جتنی جلدی ہو سکے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ سول حکومت اپنی سیاسی مخاصمت میں مذاکرات کو سبوتاژ کرتی رہے گی‘ بہتر ہے کہ عسکری قیادت کی سربراہی میں گول میز کانفرنس طلب کر کے مسائل کا حل نکالا جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved