تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     19-10-2026

ایران تجارت، چینی سرمایہ کاری اور معیشت

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد ایک مرتبہ پھر بند کر دی گئی ہے۔ تمام راستے بند نہیں ہیں لیکن تفتان‘ گبد ریمدان بارڈر بند ہیں جو کہ ایران پاکستان تجارت کے لیے اہم راستے ہیں۔ اس بندش کا سب سے اہم معاشی اثر ایل پی جی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران کے راستے روزانہ 4000 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی پاکستان درآمد کی جاتی تھی۔ اگر یہ ترسیل طویل عرصے تک معطل رہتی ہے تو متبادل ذرائع سے درآمدات کی لاگت بڑھنے اور مقامی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔ یکم سے 8 جون 2026ء کے دوران اسی سرحدی راستے سے تقریباً 17 ہزار 353 میٹرک ٹن ایل پی جی کی 748 گڈز ڈیکلریشنز کلیئر کی گئی تھیں۔ اگر سرحدی بندش طوالت اختیار کر جاتی ہے تو ایل پی جی کی ترسیل‘ ذخیرہ اندوزی کے خدشات اور مقامی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم قیمتوں میں اضافے کی اصل شدت کا انحصار ملکی ذخائر‘ مقامی پیداوار اور متبادل درآمدات کی دستیابی پر ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان آفیشل تجارت کا حجم تین ارب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غیر رسمی تجارت تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ تقریباً 99 فیصد تجارت سڑک کے راستے ہوتی ہے۔ پاکستان ایران کو چاول‘ تل‘ آم‘ کیلا‘ کینو اور دیگر پھلوں کے علاوہ گوشت‘ زندہ جانور‘ کپڑا‘ جراحی اور دندان سازی کے آلات برآمد کرتا ہے۔ چاول پاکستان کی اہم برآمدی اجناس میں شامل ہیں جبکہ پاکستان ایران سے بڑی مقدار میں فوسل فیول‘ ایل پی جی‘ صنعتی خام مال‘ لوہا اور سٹیل‘ پلاسٹک‘ پھل‘ سبزیاں اور دیگر غذائی اجناس درآمد کرتا ہے۔ بارڈر بند ہونے سے ٹیکس آمدن میں کمی ہو سکتی ہے۔ افغانستان بارڈر پہلے ہی بند ہے‘ انڈیا بارڈر بھی بند ہے اور اب ایران بارڈر کی بندش سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلے ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھنے کے خدشے کا اظہار کر چکے ہیں۔
حکومت ہر سال سڑکوں‘ پلوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں‘ عمارتوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کھربوں روپے خرچ کرتی ہے۔ یہ رقم عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتی ہے۔ جب سرکاری ٹھیکوں میں کمپنیاں آپس میں مل کر قیمتیں طے کرتی ہیں یا پہلے سے فیصلہ کر لیتی ہیں کہ ٹھیکا کس کو ملنا ہے تو معاملات خرابی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ شاید اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسابقتی کمیشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا نظام تیار کیا ہے جسے بڈ رِگنگ ڈیٹیکشن سسٹم (BRDS) کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد سرکاری ٹھیکوں کا ریکارڈ جانچنا اور ایسے معاملات کی نشاندہی کرنا ہے جہاں کمپنیوں کے درمیان ممکنہ ملی بھگت کے آثار نظر آئیں۔ یہ ایک بہتر قدم ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے سے زیادہ سیکنڈلز سامنے آ جائیں لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے کہ مسابقتی کمیشن ماضی میں بھی بڑے بڑے سکینڈل سامنے لاتا رہا ہے‘ ان کا کیا نتیجہ نکلا؟ چینی کی صنعت میں مبینہ ملی بھگت کے خلاف 44 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے‘ لیکن مقدمات عدالتوں میں چلے گئے اور جرمانوں کی وصولی طویل عرصے تک رکی رہی۔ پولٹری کے شعبے میں بھی قیمتوں کے تعین کے خلاف کارروائی کا معاملہ 2010ء سے قانونی مراحل میں ہے۔ اگر نئے اے آئی نظام سے کسی بڑے ٹھیکے میں ملی بھگت سامنے آتی ہے تو آگے کیا ہو گا؟ کیا تحقیقات مقررہ وقت میں مکمل ہوں گی؟ کیا ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی؟ کیا عائد کیے گئے جرمانے حقیقت میں وصول ہوں گے؟ اور کیا قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن ہو گا؟ شاید ملک کو اب سکینڈل سامنے لانے سے آگے بڑھ کر ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں تحقیقات‘ فیصلوں اور جرمانوں کی وصولی کا واضح حساب موجود ہو۔ مصنوعی ذہانت مشتبہ معاملات پکڑ سکتی ہے‘ لیکن احتساب اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب قانون کے مطابق کارروائی بھی نظر آئے اور عوام کے پیسے کے تحفظ کے قابلِ تصدیق نتائج بھی سامنے آئیں۔ اگر سکینڈل سامنے آنے کے بعد ریکوری اور سزائیں نہ ہوں تو بے ضابطگیاں کم ہونے کے بجائے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
چین کی الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے والی ایک کمپنی کی جانب سے پنجاب میں پیداواری پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے‘ جو عوامی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ پاکستان سے برآمدات کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ یہ ایک اہم صنعتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ مالی سال 2024-25ء کے دوران ملک میں موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی مجموعی فروخت 15 لاکھ 18 ہزار 752 یونٹس تھی جبکہ مالی سال 2023-24ء میں11 لاکھ 50 ہزار 112۔ ایک سال میں فروخت میں تقریباً 32 فیصد اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے نو ماہ‘ یعنی جولائی سے مارچ تک‘ موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت 14 لاکھ 29 ہزار 501 یونٹس رہی۔ پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ وسیع پیداواری صلاحیت رکھتی ہے۔ ستمبر 2026ء میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے تحت تقریباً 37 لاکھ ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں جو اگست میں تقریباً 24 لاکھ ڈالر تھیں۔ بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع ہو سکتا ہے۔ اگر موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ کا ایک حصہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی طرف منتقل ہوتا ہے تو مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کو اصل فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب مقامی صنعت کو اس کی ٹیکنالوجی‘ سپلائی چین اور عالمی مارکیٹ تک رسائی مل سکے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے 57 سے زیادہ مقامی مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں مقامی سطح پر پرزہ سازی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ مزید لائسنس جاری کرنے کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
حکومت نے اسلام آباد کو 31 دسمبر 2026ء تک پلاسٹک فری بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور متبادل کے طور پر شیشے کی بوتلوں کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماحول کی بہتری‘ فضائی آلودگی اور صحت کی بہتری کے لیے یہ بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن تقریباً دو ماہ میں اس پر عمل درآمد کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ معاشی لحاظ سے اس معاملے کی اہمیت کافی زیادہ ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً چار ارب سے زیادہ پی ای ٹی بوتلیں استعمال ہوتی ہیں اور پی ای ٹی بوتلوں پر پابندی سے وفاقی حکومت کو کم از کم 10 ارب روپے کی ٹیکس آمدن کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت کو بھی معلوم کرنا چاہیے کہ مشروبات کی صنعت‘ بوتلیں تیار کرنے والے ادارے‘ پیکیجنگ سپلائرز اور ری سائیکلنگ کے کاروبار قومی خزانے میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں اور مجوزہ پابندی سے ٹیکس محصولات میں کمی کا متبادل کیا تیار کیا گیا ہے؟ ملک میں پی ای ٹی بوتلوں کا کاروبار زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں۔ پہلے ہی بیرونی سرمایہ کاری ایک چیلنج بنی ہوئی ہے‘ اگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو بداعتمادی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اتنے مختصر عرصے میں نئی مشینری امپورٹ کرنا‘ اسے انسٹال کرنا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved