تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     19-10-2026

تہہِ محرابِ مسجد سو گیا کون؟

یہ وہ سوال ہے جو اقبال نے شیخِ حرم سے پوچھا تھا۔ سو سال گزر گئے مگر ابھی تک یہ سوال جواب طلب ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ مسجد کا ادارہ ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی کا مرکز و محور ہے۔ خلافت راشدہ کے چالیس برس نکال دیں تو ہمیں یہ بے حد المناک صورت نظر آتی ہے کہ یہ ادارہ قریباً ڈیڑھ ہزار سال سے مفلوج ہے۔ اس کا زندگی کے تمام مسائل (مسجد کی چار دیواری کے باہر کے مسائل) سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ اسلام نے ہمیں مسجد کی شکل میں جو بہترین تحفہ دیا ہم نے اُسے محض ایک عبادت گاہ بنا دیا۔ عبادت تو ہمہ وقت جاری رہتی ہے‘ مسجد کا مقام عبادت گاہ سے کہیں زیادہ بلند‘ متحرک‘ جاندار‘ Vibrant اور اعلیٰ و ارفع ہے۔ اگر ہم اپنے ٹوٹے پھوٹے سماج کی بہتری‘ اصلاح اور مرمت چاہتے ہیں تو ہمیں مسجد کو وہی مقام دینا ہوگا جو اس کا اصل اور بنیادی کردار ہے۔ اور یہ وہی کردار ہے جو جسم میں دل کا ہوتا ہے۔
جب مدینہ منورہ میں پہلی مسجد بنی تو وہ کمرۂ عدالت بھی تھی‘ ایوانِ اقتدار بھی تھی‘ جہاں سارے مسلمان اکٹھے ہو کر تمام فیصلے کرتے تھے اور وہ حکومت کا صدر مقام بھی تھی جہاں حضور کریمﷺ غیر ملکی سفیروں سے ملاقات فرماتے تھے۔ مدینہ میں قائم شدہ اسلامی ریاست کا سارا کاروبار مسجد نبوی کے گرد ہی گھومتا تھا۔ بعد ازاں خلفائے راشدین بھی اپنے آپ کو احتساب اور جوابدہی اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے خود کے مسجد میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ دینِ اسلام دنیا میں ایک قابلِ صد فخر عوامی انقلاب لے کر آیا مگر بعد ازاں اموی اور عباسی دورِ ملوکیت ردّ انقلاب کی صورت میں ہمارے اُوپر نازل ہوئے۔ ڈیڑھ ہزار برس ہونے کو ہیں مگر یہ Counter Revolution ہم پر آج بھی مسلط ہے۔ آئیے ہم مسجد کو وہی بلند اور مرکزی مقام دلوانے کی کوشش کریں جس کے لیے یہ ادارہ معرضِ وجود میں لایا گیا تھا۔ یہ وہ منفرد مقام ہے جو گرجا گھر‘ مندر یا یہودیوں کی عبادت گاہ (کنیسا) کو حاصل نہیں۔ وہ محض عبادت گاہیں ہیں‘ اُن عبادت گاہوں کا بیرونی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کے برعکس مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ یہ مسلم معاشرے کا مرکز و محور ہے۔ مساجد کے بارے میں صورت حال کو سدھارنے کے لیے میری گزارشات یہ ہیں:
ہم مسجد کے اندر نمازیوں کی چنی ہوئی 15 سے 20 افراد کی مجلس عاملہ (ایکشن کمیٹی) بنائیں جس کے ہفتہ وار اجلاس ہوں۔ امام صاحب اس کے سیکرٹری ہوں۔ یہ کمیٹی محلے کی صفائی کی ذمہ دار ہو۔ اہل محلہ کی حفاظت کی ذمہ دار ہو۔ پرانے ٹھیکری پہرہ کو پھر سے متعارف کرایا جائے۔ اہلِ محلہ کے درمیان جھگڑوں اور تنازعات کو (پنجایت بنا کر) خوش اسلوبی اور خیر سگالی سے حل کیا جائے۔ مسجد کو تعلیم بالغاں اور دیگر فنون (خصوصاً کمپیوٹر) سکھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ محلہ کی مساجد میں خواتین کے لیے ہفتہ میں ایک دن مختص کیا جائے‘ جب خواتین اور بچے مسجد میں عبادت کریں‘ مل کر کھانا پکائیں اور سماجی میل جول بڑھائیں۔ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے اہل محلہ مل کر حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ اُن بیماروں کے علاج کا بندوبست کیا جائے جو اپنا یا اہل خانہ کا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ محلے کا ہر بچہ سکول جاتا اور پڑھتا لکھتا ہو۔ جو والدین اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر سکتے اُن کی مدد کا انتظام کیا جائے۔ اہل محلہ ایک رفاہی فنڈ اکٹھا کریں‘ جو ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے کام آئے امام صاحب کو اس کا خزانچی بنایا جا سکتا ہے۔ ہر نمازی اگر اس فنڈ میں ہر روز پانچ دس روپے بھی چندہ دے تو ماہانہ اچھی خاصی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے۔ نکاح کی مقدس رسم کو مسجد میں ادا کرنے کا سلسلہ زندہ کیا جائے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان بھی اُنہیں مسجد میں لا کر دی جائے۔ (مسیحی مذہب کے تمام افراد اپنے بچوں کی Baptism کی رسم گرجا گھر میں ادا کرتے ہیں)۔ خوشی اور غمی کی تقریبات میں مسجد کمیٹی ایک دوسرے‘ خصوصاً غریب افراد کا ہاتھ بٹانے کا اہتمام کرے۔ عیدیں اور دیگر تہواروں پر مسجد میں دیگیں پکوا کر تقسیم کی جائیں اور مسجد تمام نمازیوں کی میزبان بنے۔ ہر نمازی ایک حلف اٹھائے اور عملاً اس حلف کی پاسداری کرے۔ اس حلف نامے میں یہ نکات شامل ہوں:
میں قانون پسند ہوں۔ قانون کا احترام کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا عہد۔ اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنے کا عہد۔
میں مساوات پسند ہوں۔ پاکستان میں رہنے والوں کا تعلق جس بھی مذہب‘ فرقہ‘ ذات‘ پات‘ قبیلہ‘ صنف‘ پیشہ اور فقہ سے ہو‘ ان کی آمدنی کم ہو یا زیادہ‘ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں‘ انسانی حقوق کے اعتبار سے وہ سب برابر ہیں۔ (ہر قسم کا امتیازی سلوک قابلِ مذمت ہے)۔ سب لوگوں سے مساویانہ سلوک کرنے کا عہد۔ خاص طور پر اقتدار اور دولت سے محروم طبقوں اور عورتوں کو برابری کے حقوق دلانے کا عہد۔
میں صفائی پسند ہوں۔ اپنے اردگرد کے علاقوں کو صاف رکھنے‘ آلودگی کو ختم کرنے‘ پاک سرزمین کو سرسبز بنانے‘ ہریالی بڑھانے‘ درختوں اور پھولوں کو اُگانے اور اُن کی حفاظت کرنے کا عہد۔
میں دیانت دار ہوں۔ رشوت‘ بدعنوانی‘ بددیانتی اور دھوکا دہی سے پرہیز کرنے کا عہد۔ (یہی برائیاں قوموں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہیں)۔
میں جمہوریت پسند ہوں۔ ہر سطح پر جمہور کی بالادستی قائم کرنے‘ دیہات‘ تحصیل اور ضلع کی سطح پر عوام کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے‘ اختیارات پر مرکزی اور صوبائی اجارہ داری ختم کرنے اور بڑے شہروں اور اضلاع کو خودمختار بنانے کا عہد۔
میں روشن خیال ہوں۔ جدید دور کے تقاضوں اور اپنی قدیم تہذیبی روایات کے مابین توازن قائم کرنے کا عہد۔ توہم پرستی‘ جادو جنات‘ جعلی پیروں اور نجومیوں سے دور رہنے کا عہد۔ علامہ اقبال اور عظیم صوفی شاعروں کا کلام باقاعدگی سے پڑھنے کا عہد۔
میں امن پسند ہوں۔ اپنے گھر کے اندر امن‘ اپنی بستی میں امن‘ اپنے ملک میں امن اور پڑوسی ممالک کے ساتھ امن قائم رکھنے کا عہد۔
میں انسان دوست ہوں۔ اپنے ذہن کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک کرنے‘ دوسرے فرقوں اور مذاہب کا احترام کرنے کا عہد۔ دوسرے مذاہب اور فرقوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولنے کا عہد۔ ان کا دل نہ دکھانے اور انہیں اپنے مسلک پر قائم رہنے کا حق دینے کا عہد۔ فرقہ پرستی اور فرقوں کے درمیان نفرت اور تشدد ختم کرنے کے لیے بلاتفریق تمام مساجد میں نماز پڑھنے کا عہد۔
میں انصاف پسند ہوں۔ اپنے گھر کے اندر انصاف‘ اپنی بستی میں انصاف‘ اپنے ملک میں انصاف‘ دنیا بھر میں انصاف قائم کرنے اور انصاف کی حمایت کا عہد۔
میں سادگی پسند ہوں۔ فضول خرچی اور دکھاوے اور دوسروں پر رعب ڈالنے کے لیے جعلی اور فرضی شان و شوکت کے اظہار سے پرہیز کا عہد۔
میں احتساب پسند ہوں۔ ہر بااختیار شخص‘ ہر قومی ادارے کا احتساب‘ بڑے سرکاری افسروں کے صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے کا عہد۔ خیر خواہوں‘ دوستوں اور عزیزوں کو اپنا احتساب کرنے کا حق دینے کا عہد۔ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے احتساب کا فرض دیانت داری سے ادا کرنے کا عہد۔
میں ترقی پسند ہوں۔ غربت‘ جہالت‘ بیروزگاری‘ کسانوں‘ مزدوروں اور نچلے و متوسط طبقے کے استحصال کے خلاف جدوجہد کرنے کا عہد۔ سامراج نواز معاشی پالیسیوں‘ اربوںکھربوں کی لوٹ کھسوٹ‘ مہنگائی میں مسلسل اضافے‘ بڑھتی غربت‘ گرتے ہوئے معیارِ زندگی‘ محصولات کے انتہائی ناقص اور عوام دشمن نظام کے خلاف جہدوجہد کرنے کا عہد۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved