عبدالمنان خانیوال سے تعلق رکھنے والا ایک صالح نوجوان ہے جو کئی برس سے مختلف کاموں میں میرا معاون ہے۔ سفروں کے دوران گاڑی چلانے کے ساتھ ساتھ گھر بار کے بہت سے چھوٹے موٹے کاموں میں بھی وہ ہاتھ بٹاتا رہتا ہے۔ ان دنوں وہ اس بات سے خوش تھا کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں اس کے نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی اور اس کے لیے وہ اپنی بساط کے مطابق تیاری کرنے میں مشغول تھا۔ پرسوں شام کو اس نے مجھے بتایا کہ اس کے والد کی طبیعت خراب ہے‘ انہیں سانس کا دیرینہ مسئلہ ہے‘ اس وقت ان کو سانس رک رک کر آ رہا ہے اور وہ ان کی خبرگیری کے لیے اپنے گھر جانا چاہتا ہے۔ عبدالمنان ابھی اپنے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس بات کی اطلاع ملی کہ اس کے والد اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ گھر سے دور انسان کو جب اس بات کی اطلاع موصول ہوتی ہے کہ اس کے والد یا کوئی قریبی عزیز دنیا سے رخصت ہو گیا ہے تو یہ بات اسے بہت زیادہ تشویش اور صدمے میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس دوران ہر شخص کے لیے اپنی منزل پر پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ عبدالمنان کی رندھی ہوئی آواز سے اس کے دکھ کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہ تھا۔ عبدالمنان اپنے گائوں روانہ ہو گیا۔ اگلے دن اڑھائی بجے خانیوال کے نواحی گائوں میں اس کے والد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ان کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔
زندگی اسی طرح کے اتار چڑھائو کا نام ہے۔ اس واقعہ کے بعد ماضی کے بہت سے واقعات میرے دماغ کی سکرین پر چلنا شروع ہو گئے۔ معین اختر ایک ملنسار‘ خوش گو‘ خوش مزاج اور صاحبِ حیثیت نوجوان تھا۔ ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں اکٹھے پڑھتے رہے۔ اس کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی شگفتگی پائی جاتی تھی اور وہ اپنی زندہ دلی کی وجہ سے جس مجلس میں بھی موجود ہوتا‘ اس مجلس کی نگاہوں اور توجہات کا مرکز بن جاتا تھا۔ آج سے کچھ برس پہلے اچانک اطلاع ملی کہ معین اختر گاڑی چلاتے ہوئے ہارٹ اٹیک کا شکار ہوا اور ہسپتال پہنچنے کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا اور اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔ جوانی میں معین اختر کی اس دنیائے فانی سے رحلت نے مجھے بہت زیادہ صدمے سے دوچار کر دیا اور مجھے ماضی کے بہت سے واقعات یاد آنے لگے کہ وہ کتنے جوش اور جذبے سے زندگی کے معمولات میں حصہ لیا کرتا تھا اور اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ کتنی خوش دلی سے وقت گزارا کرتا تھا۔ اس بات کو دل تسلیم نہیں کرتا تھا کہ وہ زندہ دل انسان کس طرح آناً فاناً زندگی کی بازی ہار گیا۔
محمد عمران میرے بچپن کے دوست ہیں۔ ان کے والد ایک کامیاب تاجر تھے اور اپنے امور پر مکمل گرفت رکھتے تھے۔ محمد عمران کچھ برس پہلے چین کے ایک تجارتی سفر کے لیے گھر سے دور تھے کہ اچانک مجھے ان کی کال موصول ہوئی کہ ان کے والدِ ماجد اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ محمد عمران کی خواہش تھی کہ میں ان کے والد کا جنازہ پڑھائوں۔ ان کے لیے والد کی اچانک رحلت یقینا بہت بڑے صدمے کا باعث تھی۔ میں جب ان کا جنازہ پڑھانے کیلئے پہنچا تو دیکھا کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر شخص ایک سرپرست اور محبت کرنے والے انسان کی رخصتی کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کر رہا تھا۔
اسی طرح میرے دماغ کی سکرین پر والد مرحوم علامہ احسان الٰہی ظہیر کی جدائی کا واقعہ بھی چلنا شروع ہو گیا۔ میں بورڈ کا میٹرک کا امتحان دے رہا تھا کہ اچانک اطلاع ملی کہ مینارِ پاکستان سے ملحق راوی روڈ پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے والدصاحب ایک دھماکے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ ان کو علاج کیلئے میو ہسپتال لے جایا گیا۔ اس دوران ان کے قریبی ساتھی اور رفیق حبیب الرحمن یزدانی‘ عبدالخالق قدوسی اور محمد خان نجیب اس دنیا ئے فانی سے کوچ کر گئے۔ بعد ازاں علاج کیلئے والد صاحب کو سعودی عرب میں ریاض کے ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ والد صاحب جواں ہمت‘ پُرعزم اور زندگی سے بھرپور شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطابت اور تحریر کی بہت سی صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔ ملک کے دینی اور سیاسی طبقات میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کی اچانک رحلت یقینا معتقدین اور اہلِ خانہ کیلئے بہت بڑے صدمے کا باعث تھی۔ میں برسہا برس تک ہر خوشی اور غمی کے موقع پر والد صاحب کی جدائی کے صدمے کو محسوس کرتا رہا۔ آپ کی رحلت کو ابھی پانچ برس بھی نہیں گزرے تھے کہ والدہ مرحومہ بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔ والد اور والدہ کی جدائی کے بعد زندگی کے کئی سال نہایت مشکل میں گزرے۔ اس عرصے میں بہت سے دوست احباب اور واقف کار اس دنیائے فانی سے رخصت ہوتے رہے۔ گزشتہ برس عزیز بھائی‘ دوست اور ہم زلف عبدالرئوف اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ یہ فقط میرا معاملہ نہیں بلکہ اس دنیا میں جو بھی آیا ہے‘ اس کو اس دنیائے فانی سے جانا پڑے گا۔ لیکن نجانے کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جنازوں کو اٹھتا اور میتوں کو قبر میں اترتا دیکھ کر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے۔
دنیا کی کشش اور مال و دولت کی محبت انسان کو موت سے غافل کیے رکھتی ہے‘ لیکن موت کے لمحات اور اس کا وقت ہر انسان پر آ کر رہتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ التکاثر میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں! تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں! پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں! اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔ اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا‘‘۔
انسان تو یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کا حسن‘ رعنائیاں اور نعمتیں بہت دلآویز اور دل نشین ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی اور فانی جبکہ آخرت بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعلیٰ کی آیات: 15 تا 19 میں اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔ لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے۔ یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں۔ (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں‘‘۔
موت سے فرار ممکن نہیں اور موت کے بعد کامیابی اسی شخص کو حاصل ہو گی جو آخرت کے لیے اپنے آپ کو تیار کیے رکھے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کو سورۂ آلِ عمران کی آیت: 185 میں کچھ یوں بیان فرمایا: ''ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیے جائو گے؛ پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے‘‘۔
ہر انسان کو زمین پر ایک وقت گزار کر تہہ خاک جانا ہوگا۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں آیا جسے اس زمین پر دوام حاصل ہوا ہو۔ چنانچہ انسانوں کو زندگانی کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنی سمت کو درست کرنا چاہیے اور اس زندگی میں ہی آخرت کی تیاری کر لینی چاہیے۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور کسی لمحے بھی انسان کو اس دنیائے فانی سے جانا پڑ سکتا ہے اور موت کے بعد انسان کا منصب‘ مال اور عہدہ اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔ موت کے بعد انسان کے کام اس کا ایمان اور عمل صالح ہی آئیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں زندگی کی حقیقت کو سمجھنے اور ابھی سے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved