تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     20-10-2026

مولانا صاحب پیپلز پارٹی کیلئے اہم کیوں؟

وفاقی حکومت کے لیے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اگر ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا میں پیپلز پارٹی وفاق کا ساتھ نہ دیتی تو اس آئینی اقدام کی صدارتی و پارلیمانی توثیق کرانا وفاقی حکومت کے لیے مشکل ہو جاتا۔ پیپلز پارٹی کی حمایت وفاقی حکومت کے لیے تو مددگار ثابت ہوئی مگر پیپلز پارٹی کو اب تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ناقدین یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے ادوارِ اقتدار میں مختلف صوبوں میں گورنر راج نافذ کرنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے۔ ایک ایسی جماعت کے لیے جو چھ دہائیوں سے آئین کی بالادستی‘ صوبائی خود مختاری اور جمہوریت کی بحالی کے نام پر سیاست کرتی آئی ‘ اس نوعیت کے سوالات کا سامنا کرنا نہ تو آسان ہے اور نہ ہی وہ اس ایمرجنسی کے نفاذ کو زیادہ عرصے تک طول دینے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تاثرکو زائل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت اب متحرک نظر آتی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں سانحہ کارساز کے شہدا کی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے اور وفاق کا ساتھ دے تو خیبر پختونخوا سے ایمرجنسی اور گورنر راج کا فوری خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی گفتگو کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس آئینی وسیاسی جمود کو توڑنے‘ ایمرجنسی کے خاتمے اور صوبے میں جمہوری نظام کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس میں دو رائے نہیں کہ کسی بھی انتظامی‘ آئینی یا سکیورٹی بحران کا پائیدار اور دیرپا حل جمہوری عمل اور سیاسی مذاکرات میں ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن کے سیاسی اثر و رسوخ اور مصالحتی کوششوں سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا خاتمہ اور عوامی حکومت کی بحالی ممکن ہوتی ہے تو اس پیش رفت میں ذرہ برابر تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخوا کی جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں‘ ان کی سیاسی بصیرت زبان زد عام ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ تصادم کے ماحول میں فریقین کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب مولانا صاحب خود اس آئینی اقدام اور گورنر راج کی شدید الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں‘ بلاول بھٹو نے صوبے سے ایمرجنسی کے خاتمے کیلئے آخر انہی کا نام کیوں لیا؟ مولانا صاحب کے علاوہ کوئی اور سیاسی رہنما کیوں نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے مولانا صاحب کا نام لے کر دہرے اور عمیق سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی بذاتِ خود ایمرجنسی یا غیر جمہوری اقدام کی حامی نہیں تھی بلکہ صوبے میں بدامنی اور پُرتشدد عناصر کی واپسی کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال نے ریاست کو یہ کٹھن قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف صوبے میں انتہا پسندی کو روکنے میں ناکام رہی بلکہ شدت پسند عناصر کی صوبے میں دوبارہ آمد کا ذمہ دار بھی پی ٹی آئی کی پالیسیوں ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔
اس تناظر میں بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن کو دو پیغامات دینے کی کوشش کی ہے۔ پہلا پیغام یہ ہے کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کی روک تھام اور قومی سلامتی کے معاملے پر وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ بلا مشروط کھڑی ہے۔ دوسرا پیغام یہ ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود وہ صوبے میں جمہوریت کی معطلی کے حق میں نہیں اور عوامی نمائندگی کی بحالی چاہتی ہے۔ صوبے میں کسی بھی پائیدار سیاسی تصفیے یا جمہوری بحالی کے لیے تحریک انصاف کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانا نہایت اہم ہے۔ اس وقت اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ جس سینئر رہنما کے گہرے اور قابلِ اعتماد سیاسی روابط ہیں وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت مختلف سیاسی و آئینی بحرانوں کے مواقع پر مولانا کی رہائش گاہ پر حاضری دیتی رہی ہے اور ان سے مشاورت کرتی آئی ہے۔ بلاول بھٹو صوبے میں جمہوری نظام کی بحالی کے تو خواہاں ہیں مگر وہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے پر تیار نہیں۔ تاہم اس سیاسی منظر نامے کا ایک اور پہلو بھی ہے‘ اور وہ ہے نئے صوبوں کی تشکیل کا ایجنڈا۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں پیپلز پارٹی موجودہ وفاقی سیٹ اَپ اور مقتدرہ سے ہٹ کر الگ مؤقف رکھتی ہے کیونکہ وہ کسی صورت سندھ کی تقسیم کی حامی نہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مستقبل میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے اور اس حساس معاملے پر پارلیمنٹ یا سیاسی میدان میں دیگر جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن جیسے اہم اتحادی کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ بوقتِ ضرورت وہ ان کا دست و بازو بن سکیں۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمن موجودہ سیاسی صورتحال کو بخوبی دیکھ رہے ہیں۔ وہ یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ماضی قریب میں دو بڑی سیاسی جماعتوں نے کس طرح اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ان کو استعمال کیا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکائونٹس کی بحالی اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ان سے جو وعدے کیے گئے تھے‘ اقتدار ملتے ہی ان وعدوں کو طاقِ نسیان پر رکھ دیا گیا۔ اس پس منظر کے بعد ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مولانا فضل الرحمن ملک کی سیاسی بساط پر ایک بار پھر انتہائی اہم اور مرکزی کردار بن کر ابھرنے والے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی قیمت‘ طاقت اور ساکھ سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ کس وقت‘ کس انداز میں اور کن شرائط پر اپنا سیاسی وزن کس پلڑے میں ڈالنا ہے۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال صرف ایک انتظامی یا سکیورٹی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے‘ آئینی توازن اور سیاسی جماعتوں کے باہمی اعتماد کا ایک کڑا امتحان ہے۔ طاقت یا غیر معمولی اقدامات کے ذریعے انتظامی کنٹرول حاصل کرنا وقتی طور پر تو کارآمد ہو سکتا ہے لیکن عوامی بے چینی کو ختم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے صرف سیاسی و جمہوری راستہ ہی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے جس عزم کا اظہار کیا ہے یہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے‘ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اقتدار کی اہم شراکت دار‘ پیپلز پارٹی ایمرجنسی کو طول نہیں دینا چاہتی۔ اگر بلاول بھٹو کی سیاسی حکمتِ عملی اور مولانا فضل الرحمان کے مصالحتی کردار کے نتیجے میں تمام سیاسی فریق کم از کم قومی ایجنڈے پر متفق ہو جاتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں آئینی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved