نیند خواہ چند گھنٹوں کی ہو لیکن گہری اور پُرسکون ہو تو جسم سے روح تک شانتی بھر دیتی ہے۔ 28 ستمبر کو ساکاریا کے خوبصورت پُرسکون ہوٹل کی سہ پہر وہ ایسی ہی نیند تھی۔ ایسی گہری نیند‘ جیسے میں برسوں سے نہیں سویا تھا۔ جاگا تو پہلا خیال یہ تھا کہ ساکاریا چھوٹا سا شہر ہے‘ یہاں ریسٹورنٹس اور دکانیں بہت جلد بند ہو جاتی ہوں گی۔ لہٰذا سوچا فوراً اٹھا جائے اور رات کے کھانے کیلئے چلا جائے‘ ورنہ رات میں کھانے کیلئے پچھتاتا رہ جائوں گا۔
باہر ہلکی اور تیز بارش ابھی جاری تھی۔ میں نے گوگل میپ پر کچھ طعام گاہیں ڈھونڈ لی تھیں‘ جو بیس منٹ کے پیدل فاصلے پر تھیں۔ بارش میں چلنا مشکل تھا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ تھا بھی نہیں۔ نگر نگر گھومنے کے شوق اور اَن دیکھی بستیوں کا دانہ پانی چکھنے کی خواہش میں بادیہ پیمائی تو لازمی ہے۔ میں دور تک چلتا گیا یہاں تک کہ کچھ ریسٹورنٹس کے سائن بورڈ دکھائی دینے لگے۔ یہ چھوٹے بڑے ریسٹورنٹس ترکی کے روایتی کھانوں کے تھے لیکن اپنے مطلب کا کوئی ریسٹورنٹ نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ بھوک چمک اٹھی تھی اور جو بھی کچھ میسر تھا‘ اس پر ہی گزارہ کرنا تھا۔ پھر خدا نے مدد کی اور سی فوڈ کا ایک ریسٹورنٹ دیکھتے ہی میری آنکھیں چمک اٹھیں۔ ترکی میں مچھلی کی بے شمار اقسام اور بے شمار ڈشز ہیں۔ برصغیر سے ذائقوں سے کافی مختلف‘ مرچ مسالوں کے بغیر لیکن بہت لذیذ۔ کسی سالن کے بغیر یا باربی کیو سے الگ‘ صرف ابلی ہوئی مچھلی بھی بہت ذائقے دار ہوتی ہے۔ اکثر ڈشز کے ساتھ لذیذ سلاد لازمی ہے۔ سوختہ ٹماٹر یعنی آدھ جلے ہوئے ٹماٹر ان سلادوں کا حصہ ہیں۔ ترکی کی طرح ایران میں بھی اکثر کوئلوں پر بھنے ہوئے ٹماٹر کھانے کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں بلکہ اس کا چلن ایران میں زیادہ ہے۔
بچپن سے ایک پہیلی کبھی سلجھائی نہیں جا سکی۔ لگ بھگ پورے ہندوستان‘ پاکستان میں عقیدے کی حد تک یہ بات معروف ہے کہ مچھلی کے ساتھ دودھ یا دودھ سے بنی ہوئی اشیا استعمال نہیں کرنی چاہئیں‘ اس سے برص کا مرض ہو جاتا ہے۔ بچپن سے بہت سے لوگ یہ بات سمجھاتے آئے تھے لیکن ملکوں ملکوں گھومنے کا موقع ملا تو یہ بات کسی اور جگہ نہیں سنی۔ حتیٰ کہ وہ ممالک جہاں مچھلی بہت زیادہ کھائی جاتی ہے‘ وہاں بھی یہ نہیں سنا۔ مثلاً بنگلہ دیش میں بیسیوں طرح کی مچھلی دسترخوان پر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ دودھ سے بنی مٹھائیاں بھی۔ بلکہ وہاں تو مچھلی کو دہی کے ساتھ پکانا عام ہے‘ اسے دوئی ماچھ کہتے ہیں۔ جاپان‘ یورپ اور امریکہ میں تو کئی ڈشز ہیں جن میں مچھلی دودھ کے ساتھ بنائی جاتی ہے‘ فش پائی‘ کریمی فش سوپ اور ٹونا میلٹ سینڈوچ‘ جس میں ٹونا مچھلی کے ساتھ پنیر ہوتا ہے۔ یہ محض چند مثالیں ہیں۔ جدید تحقیق کہتی ہے کہ یہ محض دیسی قسم کا وہم ہے کہ مچھلی اور دودھ ملانے سے برص یا جسم پر سفید داغ پڑ جاتے ہیں۔ اور اس وہم کی جڑ آیور ویدک نظریے میں ہے کہ مچھلی گرم اور دودھ خاصیت میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور ٹھنڈا گرم ملانے سے نقصان ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ میرے ذہن میں یہ بات پختہ ہوتی گئی کہ یا تو کسی خاص قسم کی مچھلی سے مسئلہ ہوتا ہو گا یا پھر یہ محض وہم ہے۔ لیکن اس دن ساکاریا ریسٹورنٹ میں اپنے لیے ابلی مچھلی اور ترکی لسی آئران کا آرڈر دیا تو انگریزی میں شدبدھ رکھنے والے ویٹر نے منع کر دیا۔ اس نے کہا کہ مچھلی کے ساتھ لسی نہیں پیتے۔ میں اتنی مد ت کے بعد یہ بات ترکی میں سن کر حیران سا ہو گیا۔ ویٹر اپنی بات پر مُصر رہا اور اس کے مشورے کے احترام میں لسی کے بجائے ترکی کا مقامی کولا منگوا لیا۔ یہ محض ایک ہوٹل اور ایک ویٹرکی بات نہیں۔ اسی سفر میں بعد میں کئی جگہ ایسا ہوا کہ آرڈر لینے والے نے ٹرائوٹ مچھلی کے ساتھ آئران سے منع کر دیا۔ گویا ترکی میں بھی یہ بات معروف ہے! اور لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔ کیا یہ بھی مقامی وہم ہے؟ بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔ سعود صاحب! اس وقت تحقیق میں مت پڑو۔ سخت بھوک لگ رہی ہے۔ مچھلی‘ سلاد‘ روٹی اور کولا سے انصاف کرو۔ اور شیشے سے باہر گرتی مسلسل بارش کا لطف اٹھائو۔
بند دکانوں‘ گرتی بارش اور سنسان سڑکوں سے ہوتا ہوا واپس ہوٹل پہنچا تو پورا بھیگ چکا تھا۔ اب مجھے فکر ہونے لگی تھی۔ خوبصورت شہر بارش میں مزید خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ لیکن سیاح اور مسافر کو یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ مسلسل بارش میں دیکھنے کی جگہیں کیسے دیکھی جائیں گی۔ میں جب سے ترکی پہنچا تھا‘ بارش میرے ساتھ ساتھ ہر شہر میں چلی آ رہی تھی اور دھوپ دیکھنے کا اتفاق کم ہی ہوا تھا۔ (اس وقت بھی جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں‘ استنبول سے مسلسل خوفناک بارشوں کی خبریں اور وڈیوز سامنے آرہی ہیں۔ 1985ء کے بعد سے اتنی زیادہ بارشیں نہیں ہوئی تھیں۔ استنبول میں شہری نظام درہم برہم ہے۔ گاڑیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور کئی اموات کی بھی اطلاعات ہیں۔ خدا کرے کہ جلد سب معمول پر آ جائے)۔ سوچا کل کی کل دیکھی جائے گی‘ اس وقت خنک ہوا اور پانی کے چھینٹوں سے بھیگے جھونکوں میں‘ کھلے دریچے کے ساتھ بستر پر بیٹھ کر وہ ناول دوبارہ شروع کرتے ہیں جو کل سنسنی خیز موڑ پر چھوڑا تھا۔ معلوم نہیں کس وقت کھلی کتاب میرے سینے پر سر رکھ کر سو گئی۔ صبح آنکھ کھلی تو میں تازہ دم تھا۔ رم جھم ابھی جاری تھی۔ ناشتے سے فارغ ہو کر کچھ وقت اگلا پروگرام بنانے کیلئے مل گیا تھا۔ میزبان مجھے لینے آئے تو یہ طے ہوا کہ پہلے سکاریا یونیورسٹی کے وہ شعبے دیکھنے ہیں جو کل نہیں دیکھ سکے تھے۔ ہم الٰہیات کی فیکلٹی میں پہنچے‘ یعنی دینیات اور متعلقہ علوم کی فیکلٹی میں‘ تو اس کے غیر معمولی انتظام اور خوبصورتی نے دل خوش کر دیا۔ بتایا گیا کہ یہاں ہزاروں طلبہ مختلف درجات میں پڑھتے ہیں جن میں طالبات کی اکثریت ہے۔ ڈاکٹر محمود نے اپنے مختلف پروجیکٹس کے بارے میں بتایا۔ یہاں ایک مختلف سا شعبہ موسیقی کے ان آلات سے متعلق بھی تھا جو ہمارے روایتی ذخیرے میں معروف ہیں مثلاً 'نے‘ یعنی بانسری اور دف وغیرہ۔ ہم تادیر کتب خانے‘ آڈیٹوریم وغیرہ میں گھومتے رہے۔ مخطوطات کا حصہ خاص طور پر منفرد تھا جہاں ہم نے کافی وقت گزارا۔
سکاریا یونیورسٹی کی ڈھلانوں سے اترتے ہوئے ساپانجا جھیل اپنی وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے تھی اور اب ہم جھیل سے قریبی ملاقات کیلئے ہی جا رہے تھے۔ ساپانجا جھیل سے ہمیں تیس کلومیٹر دور ایک دوسرے پہاڑی شہر معشوقیے جانا تھا۔ میں نے وہاں ایک ہوٹل میں بکنگ پہلے سے کرا رکھی تھی۔ ڈاکٹر محمود اور ڈاکٹر خلیل کچھ پریشان لگتے تھے۔ معلوم ہوا کہ مسلسل بارشوں سے پہاڑی بستیوں میں سیلاب آئے ہوئے ہیں‘ کئی جگہ سڑکوں پر پانی ہے اور راستے بند ہیں۔ ریڈیو پر بھی مسلسل اعلانات ہو رہے تھے کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔ جھیل تک پہنچتے پہنچتے یہ سیلاب سامنے نظر آنے لگے۔ کئی جگہ گھوم کر جانا پڑا اور بالآخر ہم جھیل کے سامنے بنے خوبصورت ریسٹورنٹس تک پہنچ گئے۔ حسنِ ذوق ترکوں پر ختم ہے۔ خوبصورت باغ‘ پھولوں سے بھرے پودے اور بیلیں‘ درمیان میں بنی روشیں‘ باغ کے ایک گوشے میں بنا ریسٹورنٹ جس کی شیشے کی دیوار جھیل کے رخ پر تھی اور سامنے دور تک جھیل کا حسن بارش اور دھند کے پردوں سے رہ رہ کر جھانکتا تھا۔ اس وقت کافی یا چائے کسی چیز کی طلب نہیں تھی‘ طلب تھی تو جھیل کنارے کرسیوں پر بیٹھ کر اس منظر کو دل میں محفوظ کرنے کی۔ ہم رم جھم میں کتنی دیر وہاں بیٹھے‘ کتنا وقت شیشے کی دیوار کے ساتھ میز پر گزارا‘ یہ تفصیلات چھوڑتے ہیں۔ یہ دن دل میں محفوظ ہے‘ اور ہمیشہ رہے گا۔ لیکن اب مزید رکنا ممکن نہیں تھا کہ ہمیں دور جانا تھا۔ گاڑی میں بیٹھے تو نکلنے کے سبھی راستے پانی سے بھرے ہوئے تھے اور وہاں جانا محفوظ نہیں تھا۔ اب ہمیں اس راستے کی تلاش تھی جو ہمیں تیس کلومیٹر دور پہنچا سکے۔ یہی زندگی ہے حضور! ساری زندگی محفوظ راستے کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved