یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب راولپنڈی میں گرمیوں کی شامیں طویل اور سحر انگیز ہوتی تھیں اور ہواؤں میں چنبیلی کے پھولوں کی مہک بسی ہوتی تھی۔ یا کم از کم مجھے ایسا لگتا تھا۔ یہ وہ دن تھے جب میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ تب ہم دوست کالج کے بعد اپنا وقت چائے خانوں میں گزارتے تھے۔ پچھلی قسط میں ٹینچ بھاٹا‘ لالکرتی اور صدر کے چائے خانوں کا ذکر ہوا تھا۔ صدر کے چائے خانوں کے ذکر کے بعد اب ہم راولپنڈی کی مری روڈ پر واقع چائے خانوں کو یاد کرتے ہیں جو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ کے سامنے سڑک کے پار واقع تھے۔ اُن سے میں ایک پارک ہوٹل تھا۔ دراصل یہ پرانی کوٹھی تھی جسے ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح کے کشادہ گھر اُن دنوں عام نظر آتے تھے۔ بعد میں اس کے برابر اور ریستوران بھی آ گئے جن میں کیفے ڈی ارشد اور الحیات ہوٹل شامل تھے۔ چونکہ ان ہوٹلوں کے سامنے ہی بس سٹاپ تھا لہٰذا یہاں پر ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہتا تھا۔ میرا الحیات ہوٹل اور کیفے ڈی ارشد کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ان تین ریستورانوں کے سامنے راولپنڈی کا تاریخی لیاقت باغ تھا۔ وہی لیاقت باغ جو کبھی کمپنی باغ کہلاتا تھا اور جو ایک جلسہ گاہ بھی تھا۔ اسی جگہ پاکستان کے دو وزرائے اعظم‘ لیاقت علی خان اور بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔
23مارچ 1973ء کو اسی لیاقت باغ میں حزبِ اختلاف کے اتحاد یو ڈی ایف (یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ) کے جلسے پر فائرنگ کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس فائرنگ کی منصوبہ بندی میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور اُس وقت کے گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر بھی شامل تھے‘ اور یہ منصوبہ بندی پارک ہوٹل میں کی گئی تھی۔ لیاقت باغ کے جلسے میں شریک نہتے شہریوں پر اچانک فائرنگ سے ہر طرف ہڑبونگ مچ گئی۔ یہ قیامتِ صغریٰ کا منظر تھا۔ لوگ جان بچانے کیلئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ اسی جلسہ گاہ میں ہمارا دوست اور اردو کا معروف شاعر شعیب بن عزیز بھی شامل تھا جس نے بھاگ کر پارک ہوٹل میں پناہ لی تھی۔ اس فائرنگ میں عوامی نیشنل پارٹی کے بارہ افراد شہید ہو گئے۔ وہ دن اور اُس دن سے جڑی تفصیلات آج بھی شعیب بن عزیز کے دل و دماغ میں محفوظ ہیں۔
لیاقت باغ سے ذرا آگے مری روڈ پر اگر ہم اسلام آباد کی طرف جا رہے ہوں تو دائیں ہاتھ کمیٹی چوک ہے۔ یہ راولپنڈی کا مرکزی چوک ہے جو کبھی کبھار جلسہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی چوک کے بالکل سامنے‘ بائیں ہاتھ مشتاق کیفے ہوا کرتا تھا۔ مری روڈ پر واقع یہ ایک مصروف کیفے تھا۔ میں کئی بار یہاں اپنے دوستوں کے ہمراہ چائے پینے گیا ۔
راولپنڈی کا مصروف ترین کاروباری مرکز راجہ بازار ہے جہاں ہزاروں لوگ ہر روز خرید و فروخت کیلئے آتے ہیں۔ راجہ بازار میں دو چائے خانے افضل ہوٹل اور مقبول ہوٹل ہوا کرتے تھے۔ ان ہوٹلوں پر ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی کیونکہ قریب و دور سے آنے والے خریدار یہیں پر کھانا کھاتے اور چائے پیتے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک ہوٹل چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا۔ راجہ بازار کے فوارہ چوک پر اکمل کیفے تھا جو چائے کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ وہی اکمل کیفے تھا جہاں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو ایک رات اچانک چائے پینے کیلئے پہنچ گئے تھے۔ اگلے روز اخبارات میں یہ خبر چھپی تو اکمل کیفے سب کی نظروں میں آ گیا۔ بھٹو کا یہی عوامی انداز لوگوں کو پسند آ گیا اور 70ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی سب سے مقبول جماعت بن کر ابھری۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے غیر معروف امیدواروں نے بڑے بڑے سیاسی برجوں کو اُلٹ دیا تھا۔ راولپنڈی کے جس حلقے میں ہم رہتے تھے وہاں قومی اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کے خورشید حسن میر اور ایئر مارشل (ر)اصغر خان کے مابین مقابلہ تھا۔ بھٹو کے گرفتار ہو جانے کے بعد ایئر مارشل (ر)اصغر خان نے اپوزیشن کے تاریخی جلوس کی قیادت کی تھی۔ کہتے ہیں کہ وہ کراچی کی تاریخ کا طویل ترین جلوس تھا۔ یوں اصغر خان بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن کے مقبول رہنما بن کر ابھرے لیکن حیرت انگیز طور پر انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ایک غیر معروف امیدوار خورشید حسن میر کے مقابلے میں ایئر مارشل (ر)اصغر خان کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ اسی حلقے میں پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ڈاکٹر عبدالخالق اور جاوید حکیم قریشی بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے تھے۔
ڈاکٹرعبدالخالق گوالمنڈی کے رہنے والے تھے۔ انتہائی شریف النفس آدمی تھے۔ راولپنڈی کے ہاتھی چوک میں ان کا کلینک تھا۔ ڈاکٹر خالق کے سگے بھائی کا نام منظور تھا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ ڈاکٹر خالق اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ان کا بھائی منظور سٹریٹ سمارٹ تھا۔ منظور گوالمنڈی کے مرکزی چوک پر ایگل ہوٹل کے نام سے ایک معروف چائے خانہ چلاتا تھا۔ چوک کے وسط میں واقع یہ گوالمنڈی کا مرکزی ہوٹل تھا جہاں چائے ادھار پر ملتی تھی اور منظور وقت پر ادھار نہ چکانے والوں کے ناموں کی فہرست نمایاں جگہ پر آویزاں کرتا تھا جہاں سے سڑک پر ہر آنے جانے والے کی نظر ان ناموں پر پڑتی تھی۔
اب میں اپنے دلبر گورڈن کالج کا رخ کرتا ہوں جس کے مین گیٹ کے بالکل سامنے‘ سڑک کے اُس پار مجید ہوٹل ہوا کرتا تھا‘ جو دراصل ایک ڈھابا تھا۔ جب میں گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کر رہا تھا تو ہم دوست اکثر مجید ہوٹل پر بیٹھا کرتے تھے۔ یہاں بیٹھ کر ہمیں گورڈن کالج کے جوبلی ہال کے اوپر والی منزل پر اپنا ایم اے انگلش کا کلاس روم صاف نظر آتا تھا۔ گورڈن کالج کے مین گیٹ سے کچھ ہی فاصلے پر میزبان ہوٹل تھا۔ یہ اُس زمانے کا ایک معروف ہوٹل تھا‘ جس کے سائن بورڈ پر ''میزبان‘‘ بڑے منفرد سٹائل میں لکھا ہوا تھا۔ اب ہم گورڈن کالج کے عقبی گیٹ کی طرف چلتے ہیں۔ عقبی گیٹ سے باہر قدم رکھیں تو ایک دلآویز دنیا ہمارا انتظار کر رہی ہوتی تھی۔ کالج روڈ پر چائے خانوں اور ریستورانوں کا ایک جھرمٹ تھا۔ کالج روڈ کے ایک سرے پر سٹار ہوٹل تھا جو ایک روشن اور صاف ستھرا ریستوران تھا۔ میں دوستوں کے ہمراہ کئی بار وہاں گیا۔ ایک اور ریستوران جہاں گورڈن کالج کے استاد اور شاگرد بیٹھا کرتے تھے‘ قیصر ہوٹل تھا۔ قیصر ہوٹل گورڈن کالج کے عقبی گیٹ کے بالمقابل سڑک کے دوسری طرف تھا۔ یہ ہوٹل کسی نواب فیملی کا تھا جنہیں شکار کا شوق تھا۔ اس ہوٹل کے در و بام سے مالکان کا شوق جھلکتا تھا۔ قیصر ہوٹل سے کچھ فاصلے پر شبنم ہوٹل تھا۔ یہ بھی محفل آرائی کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ کالج روڈ کے اُن چائے خانوں کا تذکرہ ہے‘ جو گورڈن کالج کے طالب علموں کے ٹھکانے ہوا کرتے تھے۔ لیکن یہ تذکرہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ابھی اس کے سب سے اہم باب کا ذ کر باقی ہے۔ یہ باب کالج روڈ پر واقع اُس چائے خانے کے بارے میں ہے جس کی چھب سب سے نرالی تھی۔ جہاں گورڈن کالج کے طلبہ اور اساتذہ پہروں بیٹھا کرتے تھے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ 70ء اور 80ء کی دہائی میں گورڈن کالج میں پڑھنے والا کوئی طالب علم چائے خانے کے اس مقناطیسی مرکز سے ناآشنا ہو۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved