تحریر : عبدالواسع ملک تاریخ اشاعت     21-10-2026

معدنی وسائل، سیاسی پوائنٹ سکورنگ یا معاشی بقا؟

خیبر پختونخوا ایک ایسا خطہ ہے جسے قدرت نے خوبصورت مناظر کے ساتھ ساتھ لامتناہی اور گرانقدر قدرتی خزانوں سے بھی نوازا ہے۔ سونے‘ تانبے‘ ماربل‘ قیمتی پتھروں اور نایاب معدنیات سے مالا مال یہ سرزمین اگر اپنے وسائل کو صحیح معنوں میں استعمال میں لائے تو نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ پورا پاکستان معاشی خودکفالت کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ان دنوں میڈیا‘ سیاسی راہداریوں اور عوامی حلقوں میں خیبر پختونخوا کے معدنیات کی تلاش و دریافت کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ یوں تو کسی بھی جمہوری اور زندہ معاشرے میں قومی اور معاشی حکمت عملیوں پر بحث و تمحیص ایک مثبت روایت سمجھی جاتی ہے‘ لیکن انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر یہ ہے کہ بعض سیاسی رہنما اور مخصوص عناصر محض اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کی آڑ میں اس قومی و معاشی اہمیت کے حامل موضوع کو متنازع بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے سیاسی اور انتظامی پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صوبے میں حکومت کی حالیہ تبدیلی کی بنیادی وجہ دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے ناسور کے خلاف ناکافی اقدامات‘ امن و امان کی بحالی اور تباہ حال گورننس کے مسائل تھے۔ صوبے کے عوام ایک ایسی قیادت اور انتظامی ساخت کے خواہش مند تھے جو اُن کے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کی حفاظت کر سکے اور انہیں امن و امان کی ضمانت فراہم کرے۔ لیکن بدقسمتی سے آج چند سیاسی عناصر عوام کی توجہ ان بنیادی اور اصل درپیش چیلنجز سے ہٹا کر اپنے مخصوص اور ذاتی ایجنڈے کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ معاشی منصوبوں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نذر کرنا نہ صرف صوبے کی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔
عالمی معاشی حقیقتوں‘ جدید دنیا کی ٹیکنالوجیکل پیش رفت اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اگر ہم آج اپنے ان قدرتی اور معدنی وسائل کو بروئے کار نہ لائے اور انہیں زمین کی تہہ سے باہر نہ نکالا تو آنے والے چند برسوں اور دہائیوں میں یہ اپنی تمام تر قدر و قیمت اور افادیت کھو دیں گے۔ اس کی سب سے بڑی اور روشن مثال عرب ممالک (خلیجی ریاستوں) کی ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ اگر عرب ممالک نے بروقت اپنی زمین سے تیل (Fossil Fuel) نہ نکالا ہوتا تو آج اس تیل کی کیا معاشی اور تجارتی قیمت رہ جاتی؟ آج جب دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے گرین انرجی اور الیکٹرک پاور کی طرف منتقل ہو رہی ہے‘ تیل کی روایتی طلب میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ اگر خلیجی ممالک اُس دور میں تیل نہ نکالتے تو وہ کبھی اتنے امیر اور خودکفیل نہ بن پاتے اور آج ان کا تیل زمین کے نیچے ایک بے سود مائع بن کر رہ جاتا۔ یہی عالمگیر معاشی اصول دیگر تمام تر معدنیات‘ دھاتوں اور قیمتی پتھروں پر بھی من وعن لاگو ہوتا ہے۔ دنیا میں سائنسی ایجادات کی رفتار اتنی تیز ہے کہ جو معدنیات آج صنعتی اور معاشی دنیا کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں‘ ممکن ہے کل کوئی متبادل ٹیکنالوجی یا مصنوعی ترکیب ان کی جگہ لے لے۔ اگر آج ہم نے سیاسی نا اتفاقی‘ پراپیگنڈے اور ہٹ دھرمی کے باعث اپنے ان خزانوں کو زمین کے اندر ہی دبے رہنے دیا اور وقت پر ان کی تلاش و دریافت نہ کی تو بدلتی ہوئی دنیا کی نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ بے بہا خزانوں کی جگہ محض بے سود اور لاحاصل پتھر بن کر رہ جائیں گے‘ جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں کوئی قدر نہیں ہو گی۔
دنیا بھر کی معاشی تاریخ اور تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جہاں بھی حکومتیں اپنے محدود مالی‘ تکنیکی اور فنی وسائل کے باعث انفرادی طور پر بڑے اور بھاری سرمائے کے حامل منصوبوں کو چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں‘ وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کو دعوت دی جاتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کا مطلب ملک یا صوبے کے وسائل کو فروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا معاشی اشتراکِ کار ہوتا ہے جس کے تحت عالمی کمپنیاں نہ صرف اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ اور سرمایہ لاتی ہیں بلکہ جدید ترین سائنسی ٹیکنالوجی‘ جدید آلات اور عالمی تجربہ بھی ساتھ لاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ‘ ایسی بین الاقوامی کمپنیاں کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی (CSR) کے طے شدہ قوانین کے تحت مقامی آبادی کی معاشی‘ سماجی اور بنیادی فلاح و بہبود کے لیے بھاری فنڈز فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ اس کی ایک انتہائی واضح اور کامیاب مثال بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک کاپر اور گولڈ پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن (Barrick Gold Corporation /RDMC) ہے۔ اس کمپنی نے اپنے منصوبے کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی مقامی آبادی اور علاقے کی ترقی کے لیے کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی کے تحت انتہائی شاندار اقدامات کیے۔ کمپنی نے اپنے منصوبے کے پہلے ہی سال تین ملین ڈالر اور دوسرے سال سات ملین ڈالر کا ابتدائی سی ایس آر بجٹ مختص کیا‘ جس کا بڑا حصہ مقامی کمیونٹی ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کے سپرد کیا گیا۔ اس فنڈنگ سے چاغی‘ گوادر اور گردونواح کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی‘ سکولوں‘ ہسپتالوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔ یہی ماڈل خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور معدنیات سے مالا مال اضلاع میں بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔
دوسری طرف‘ سیاسی حلقوں میں اس بے بنیاد پراپیگنڈے کو ہوا دینا بھی سراسر لاعلمی‘ سیاسی بدنیتی اور تکنیکی نااہلی پر مبنی ہے کہ خیبر پختونخوا میں نیاانتظامی یا حکومتی سیٹ اَپ محض معدنیات کی فوری تلاش یا ان کی تقسیم و فروخت کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ جو لوگ معدنیات اور مائننگ کی صنعت سے معمولی واقفیت بھی رکھتے ہیں‘ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معدنیات کی تلاش‘ ان کی لاگت کا تخمینہ (Cost Evaluation) اور ان کے معیار اور مقدار (Quality & Quantity) کا سائنسی اور جیو فزیکل جائزہ لینا کوئی چند ماہ کا کھیل نہیں ہے۔ اس پیچیدہ سائنسی عمل کے لیے دہائیوں کی جامع تحقیق‘ نقشہ نگاری‘ ڈرلنگ اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی کمپنی چھ ماہ میں نہ تو کاپر یا سونا نکال سکتی ہے اور نہ ہی حکومت راتوں رات اسے بیچ سکتی ہے۔ آج وقت کی سب سے اہم ضرورت اور ملکی بقا کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں‘ مقامی رہنما اور اربابِ اختیار سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ افواہ سازی اور ذاتی مفاد پرستی کو بالائے طاق رکھیں۔ ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے معاشی مستقبل‘ امن اور پائیدار ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔ بدلتی دنیا اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل کو متنازع بنانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ اگر آج ان خزانوں کو بروئے کار نہ لایا گیا تو آنے والے ادوار میں یہ بے سود پتھر بن کر اپنی تمام تر معاشی قدر کھو دیں گے لیکن اگر ان قدرتی خزانوں کو شفافیت‘ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور جدید سائنسی اصولوں کے تحت بر وقت دریافت کر لیا جائے تو یہ وسائل نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کی آنے والی نسلوں کی خوشحالی‘ روزگار‘ معاشی استحکام اور خودکفالت کا سب سے بڑا اور پائیدار ذریعہ بن سکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved