وہ جسے حافظ شیرازی ''دورِ قمر‘‘ کہتے ہیں‘ کیا آج کل پاکستان اسی ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے؟
پہلے یہ سن لیجیے کہ حافظ شیرازی‘ جن کے دیوان کو قسّام ازل نے وہ شہرتِ دوام بخشی جو شاید ہی کسی اور شعری مجموعے کو ملی ہو، ''دورِ قمر‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کیسا شور و غوغا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں‘ اُفق تا اُفق فتنہ اور شر نظر آرہا ہے۔ آرزو یہ ہے کہ اچھے دن آئیں مگر پہلے سے بھی بدتر آ رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ احمقوں کو شربت دیے جا رہے ہیں اور دانا خونِ جگر پی رہے ہیں۔ بہترین گھوڑا کاٹھی کی وجہ سے زخمی ہو گیا ہے۔ دوسری طرف گدھے کے گلے میں قیمتی ہار ڈالے گئے ہیں۔ بیٹیاں ماؤں سے لڑائیاں کر رہی ہیں اور بیٹے باپ کا بُرا سوچ رہے ہیں۔ بھائی بھائی کے ساتھ رحم سے نہیں پیش آ رہا اور باپ بیٹے کے ساتھ شفقت نہیں کر رہا۔ یہ ہے وہ صورتحال جو حافظ نے بیان کی ہے اور اسے ''دورِ قمر‘‘ سے منسوب کیا ہے۔ ''دورِ قمر‘‘ کیا ہے؟ اس کی تشریح جو سکالرز نے کی ہے اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد زمانہ بھی ہے اور گردشِ روزگار بھی! کچھ نے کہا ہے کہ اجرامِ فلکی کے اپنے اپنے دور ہیں جو ایک ایک ہزار سال پر مشتمل ہیں اور ہم اب چاند کے دور (دورِ قمر) میں رہ رہے ہیں! اور چاند کا یہ دور فتنوں پر مشتمل ہے۔ بہر طور یہ طے ہے کہ ''دورِ قمر‘‘ فتنوں‘ جھگڑوں‘ زبوں حالی‘ مسائل اور مشکلات کا گڑھ ہے۔
آج کے پاکستان کو دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے۔ ہر نیا دن پہلے سے بد تر آرہا ہے۔ خاندانی سطح پر دیکھیے تو بھائی بھائی کو عدالتوں میں گھسیٹ رہا ہے۔ قتل کر رہا ہے۔ قطع کلامی عام ہے۔ نوجوان لڑکیاں ''میری اپنی زندگی‘‘ کے فارمولے کو اپنا رہی ہیں اور ماں باپ کو‘ خاندان کو‘ خاندانی اقدار کو جوتے کی نوک پر لکھ رہی ہیں۔ باپ گھر میں داخل ہو تو فرزند آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ مائیں سوشل میڈیا میں ڈوبی ہوئی ہیں اور جان چھڑانے کیلئے معصوم بچوں کو سکرین کے نشے پر لگا رہی ہیں۔ اجتماعی سطح پر دیکھیے تو ہم بطور ِقوم ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں۔ کہیں فاقے ہیں تو کہیں دعوتوں میں تیس تیس‘ چالیس چالیس پکوان پیش کیے جا رہے ہیں۔ عوام ہوشربا گرانی کا شکار ہیں اور حکمران انہی عوام کے ٹیکسوں سے ایسی عیاشانہ زندگی گزار رہے ہیں جس کا جمہوری‘ ترقی یافتہ ملکوں کے سربراہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جس سیاسی جماعت کی حکومت ہے اس کے قائد ہر روز لندن کے لیے پا بہ رکاب ہیں۔ زندگی ان کے لیے پکنک ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اس ملک کا دارالحکومت ایک گریڈ بیس کے افسر کے رحم و کرم پر ہے۔ کوئی میئر ہے نہ انتخابات۔ کوئی سٹی کونسل ہے نہ اپوزیشن! جو کمشنر ہے وہی ترقیاتی ادارے کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے ملاقات کرنا تو دور کی بات ہے‘ بات تک کوئی نہیں کر سکتا۔ آدھے شہر کے درخت اور جنگلات اس کے پیشرو نے کٹوا دیے۔ جو رہ گئے تھے وہ موجودہ حاکم کٹوا رہا ہے۔ کوئی چوں بھی نہیں کر رہا ‘نہ کر سکتا ہے۔ اسلام آباد سے باہر رہنے والوں کو ان دنوں اسلام آباد آنے سے پہلے سو بار سوچ لینا چاہیے۔ پورا شہر کُھدا پڑا ہے۔ جہاں ضرورت نہیں وہاں بھی کھدائی کر کے کچھ نہ کچھ نیا بنانے کا چکر چل رہا ہے۔ کسی مارکیٹ میں جائیں تو وہاں کی پارکنگ اکھیڑی اور ادھیڑی ہوئی ملتی ہے۔ جگہ جگہ کھدائیوں سے گرد کی دبیز چادر نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے! گھمنڈ اور خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ چودہ بچوں کے مرنے پر بھی والیٔ شہر سوٹ اور ٹائی میں ملبوس آتا ہے۔
امن و امان کی ریٹنگ صفر سے نیچے ہی سمجھیے۔ دو صوبے مکمل افرا تفری‘ بدنظمی‘ ابتری اور آشوب کا شکار ہیں۔ بلوچستان عملی طور پر باقی ملک سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ کیا آپ صوبے کے اندر سفر کر سکتے ہیں؟ نہیں! رہے باقی صوبے تو وہاں جرائم سکہ رائج الوقت بن چکے ہیں۔ کسی دن کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ڈاکے‘ اغوا‘ چوریاں عام ہیں۔ گاڑیاں‘ موٹر سائیکل‘ زیورات سب کچھ لوٹا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پولیس فورس پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ افسروں کی مراعات کا کوئی کنارہ نہیں۔ ان کے محلات پر چوبیس گھنٹے پولیس کے جوانوں کے پہرے ہیں۔ نوکر شاہی عوام کے سامنے شاہی بگھیوں سے اترتی ہے۔ عین اسلام آباد میں‘ ایف بی آر کی ناک کے عین نیچے‘ شہر کا سب سے بڑا ماہرِ امراضِ چشم‘ مریضوں سے ایک ایک آپریشن کے لاکھوں روپے لیتا ہے مگر صرف اور صرف کیش کی صورت میں! کریڈٹ کارڈ لیتا ہے نہ چیک۔ یہاں تک کہ آن لائن بھی رقم ٹرانسفر کرنے کی اجازت نہیں! نوٹوں کی گٹھڑی سر پر اٹھائیے اور موتیے کا آپریشن کرائیے۔
دہشت گردی کا جن بوتل سے نکلا ہے تو بوتل میں واپس جا ہی نہیں رہا۔ جوان اور افسر روزانہ کی بنیاد پر شہید ہو رہے ہیں‘ اور ہوئے جا رہے ہیں۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں‘ خواتین بیوہ ہو رہی ہیں۔ جو علاج کار گر نہیں ہو رہا‘ اسے ہی جاری رکھا جا رہا ہے۔ کوئی اَنت نہیں نظر آ رہا! عالمی بساط پر ہم اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ پیچیدہ مرض کے لیے پینا ڈول دیے جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو قومی مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ سب کچھ اس سے باہر باہر ہی ہو رہا ہے۔ ایسے میں معزز ارکانِ پارلیمنٹ کو کچھ تو کرنا ہے۔ آخر وقت تو کاٹنا ہے۔ بیکار مباش کچھ کیا کر۔ چنانچہ ارکانِ پارلیمنٹ اپنی مراعات زیادہ کرنے اور کرانے میں لگے ہوئے ہیں! اپنا موازنہ سول بیورو کریسی سے کرتے ہیں اور صرف سول بیورو کریسی سے ہی کرتے ہیں۔ ایک ایک اجلاس کروڑوں میں پڑتا ہے۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس اٹینڈ کرنے کے معاوضے الگ۔ کیفے ٹیریا ارزاں ترین! یومیہ الاؤنس الگ۔ علاج یہاں نہیں تو باہر سے کرا آئیے۔ مشہورِ عالم کتاب Gulliver's Travels کے مصنف جونا تھن سوئفٹ نے اس علامتی ناول میں اپنے زمانے کی پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا تھا کہ اور تو کام کوئی نہیں‘ بس اس پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ انڈہ کس طرف سے توڑا جائے! شاید چراغ حسن حسرت نے تجویز کیا تھا کہ کرنے کو کچھ نہ ہو تو پورچ یا صحن میں گملوں کی ترتیب بار بار بدلیے! قومی ریلوے‘ قومی ایئر لائن اور سٹیل مل کا ماتم تو عرصے سے ہو رہا ہے۔ سوائے چند ایئر لائنوں کے‘ باقی تمام ہمارے ملک سے پرہیز کر رہی ہیں۔ جیسے ہم اچھوت ہوں! کرنسی ہماری دمڑیوں اور دھجیوں جیسی ہے۔ افغانستان کے ''افغانی‘‘ سے بھی کمتر! جس ملک میں جائیں ہمیں بھکاری‘ چور اور نوسر باز سمجھا جاتا ہے۔ دوست ممالک بھی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں!
آپ کا کیا خیال ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ ہم ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں تو کیا مستقبل بعیدمیں بھی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ صرف ایک چیز کا یقینی علم ہے کہ دونوں خاندان باری باری ہم پر حکومت کریں گے۔ ہمارے مستقبل کے حکمران کچھ تو یہیں ہیں‘ کچھ لندن سے آئیں گے مگر ابھی نہیں! جب ان کی باری آئے گی تو سپیشل جہاز سے آ جائیں گے! ہماری سیاسی جماعتوں کے ارکان سفید ریش اور سفید سر ہو جائیں گے۔ بڑھاپے کی شدت سے چلنا محال ہو جائے گا۔ مگر حکمران خاندانوں کی تیسری چوتھی نسل کے سامنے بھی سر جھکا کر‘ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں گے!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved