ایک یتیم کو جب بے دردی کے ساتھ کچل ڈالا گیا تو شدید درد‘ غصے اور غم نے پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ہر کوئی ایک ہی مطالبہ کر رہا تھا: شام سے پہلے مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ اسی طرح کے جذبات اُس وقت بھی پیدا ہوئے جب لائبہ نے ایک نوسر باز کے ہاتھوں لٹنے کے بعد‘ خودکشی کر لی۔ سب کی خواہش تھی کہ ایسے سفاک مجرم کو سزا ملنی چاہیے اور بلاتاخیر ملنی چاہیے۔ دو تین ہفتے پہلے‘ پشاور میں لوگ ایک گھر میں گھس گئے اور ایک شادی شدہ خاتون کو بے آبرو کر دیا۔ چوبیس گھنٹے نہیں گزرے کہ یہ مجرم بھی پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ ایک اور مظلوم خاندان کو انصاف مل گیا۔ اگر ہماری یادداشت ساتھ دے تو ماضی میں اَن گنت واقعات ہوئے جب ایسی خواہشیں پیدا ہوئیں اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ اب معلوم ہوا کہ کم از کم‘ لائبہ اور وسیم عباس کے 'مجرم‘ اپنے انجام کو پہنچ چکے۔ کیا ہم یہی چاہتے تھے؟ کیا فوری انصاف سے ہماری مراد یہی تھی؟
اس فوری انصاف کی نوعیت کو بھی جان لینا چاہیے تاکہ ہمیں ان سوالات کے جوابات بہ آسانی مل سکیں۔ ایک واقعہ ہوا‘ چند شواہد بھی سامنے آ گئے جن سے معلوم ہو گیا کہ کون جرم میں ملوث ہے۔ جیسے سی سی ٹی وی فوٹیج! پولیس نے 'مجرموں‘ کو پکڑ لیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے یا بعد‘ پولیس نے اپنے طور پر مجرموں کی سزا دے ڈالی۔ یہ ماورائے عدالت سزا ہے۔ سزا کا فیصلہ عدالت نے نہیں سنایا۔ کسی عدالت کے سامنے شواہد پیش ہوئے نہ ملزم کو صفائی کا موقع ملا۔ یہ فیصلہ پولیس نے اپنے طور پر کیا۔ کیوں کیا؟ منطق یہ ہے کہ ایسے مجرم عدالتوں سے کم ہی سزا پاتے ہیں۔ انہیں وکیل میسر آ جاتے ہیں جو قانون کی دفعات کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ معاملہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔ قانون یہ کہتا ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔ اس طرح قانونی باریکیوں سے فائدہ اٹھا کر‘ اکثر مجرم بچ جاتے ہیں۔ مشاہدہ یہ ہے کہ قانون کی ان کمزوریوں سے‘ بااثر لوگ سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔ وہ مہنگا وکیل لے سکتے ہیں اور اس باب میں کچھ اور ناگفتہ باتیں بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق عمومی اخلاقیات سے ہے‘ جیسے رشوت۔
جب مجرم دندناتے پھرتے ہیں اور قانون ان کو گرفت میں نہیں لیتا تو معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے عدالتی اور حکومتی نظام سے عوام کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ ہمارا حکومتی نظم تقسیمِ اختیار کے اصول پر قائم ہے۔ انتظامیہ اور عدلیہ میں اختیارات منقسم ہیں۔ پولیس انتظامیہ کا حصہ ہے۔ عدالت کو شکایت ہوتی ہے کہ پولیس مقدمہ صحیح خطوط پر نہیں اٹھاتی۔ اس میں ایسے خلا ہوتے ہیں جن کا فائدہ مجرم کو پہنچتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پولیس‘ مبینہ طور پر‘ ایف آئی آر لکھتے وقت رشوت لے لیتی ہے۔ پولیس کو یہی شکایت عدالت سے ہے۔ وجہ جو بھی ہو‘ عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ مجرم کو سزا نہیں ملتی اور اس سے سماج میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ریاست وحکومت سے مایوس ہو کر معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ خود ہی عدالت بن جاتے ہیں اور حکومت بھی۔ گویا جس جواز کے تحت پولیس ماورائے عدالت سزا دیتی ہے‘ عوام بھی اسی دلیل کی بنیاد پر اپنے مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔
اس کی ایک مثال مذہبی الزامات ہیں۔ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ایسے مجرموں کے خلاف کارروائی نہیں ہو تی جن پر توہینِ مذہب کا الزام ہوتا ہے‘ حکومت مغرب یا لبرل طبقے کے دباؤ میں آ جاتی ہے‘ اس لیے وہ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس کے پیچھے مذہبی تعبیرات بھی کارفرما ہیں لیکن عمومی دلیل قانون کے غیر مؤثر نفاذ ہی کی ہے۔ گویا عوام اور پولیس‘ دونوں جب ماورائے عدالت سزا دیتے ہیں تو وجہ ایک ہی ہے۔ یہ وجہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عوام یہ حرکت کریں تو قابلِ تعزیر۔ پولیس کرے تو کیوں قابلِ سزا نہیں؟ سب جانتے ہیں کہ 'فرار کی کوشش‘ ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ اہم تر سوال یہ ہے کہ اگر پولیس یا عوام کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ خود ہی عدالت اور حکومت کا کردار ادا کریں تو کیا اس کے بعد وہ نظام قائم رہ سکتا ہے‘ جو اس وقت رائج ہے؟ کیا اس کے بعد قانون کا وجود بے معنی نہیں ہو جائے گا؟
اس تمام بحث کو جب ہم مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں تو تان عدالتی نظام پر ٹوٹتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہجوم یا پولیس کو اگر سزا کے نفاذ کا حق دے دیا جائے تو اس کا ناگزیر نتیجہ لاقانونیت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتی نظام اتنا غیر مؤثر ہو چکا ہے کہ اس سے کسی کو انصاف کی کوئی امید نہیں۔ یہ صورتحال ہمیں انارکی کے طرف لے جا رہی ہے۔ جب حکومتی نظام کے ایک اہم ستون‘ انتظامیہ کو عدالتی نظام پر اعتماد نہیں تو عام آد می کو کیسے ہو گا؟ عدالتی نظام کے غیر مؤثر ہونے کے اپنے اسباب ہیں۔ ایک سبب سماج کی اخلاقی حالت ہے۔ جہاں سچے گواہ میسر نہ ہوں وہاں عدالتیں کبھی درست نتیجے تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ان سب عوامل سے ہم چند نتائج اخذ کرتے ہیں جو معاملہ فہمی اور اصلاحِ احوال کے باب میں ہماری راہنمائی کر سکتے ہیں۔
1۔ یہ پولیس ہو یا عوام‘ کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ماورائے عدالت‘ کسی کو مجرم قرار دے اور پھر خود ہی سزا بھی نافذ کرے۔ اس کا ناگزیر نتیجہ انارکی ہے۔
2۔ عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی ہماری اولین ضرورت ہے۔ یہ مقدمہ غلط ثابت ہو چکا کہ جج حضرات کی تنخواہیں بڑھانے سے عدالتی نظام بہتر ہو جائے گا‘ بدعنوانی ختم ہو جائے گی اور لوگوں کو فوری انصاف ملے گا۔ اس وقت ججوں کی تنخواہیں اور مراعات دوسرے شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود‘ عوام تو ایک طرف‘ خود انتظامیہ ا ور حکومت کو اس پر اعتماد نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملہ کم تنخواہ کا نہیں‘ کوئی اور ہے اور یہ اخلاقی ہے۔ معاشی سے زیادہ‘ عدلیہ کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
3۔ ہمارے قوانین میں بھی سقم ہیں۔ مثال کے طور پر قتل کے مقدمات میں مقتول کے ورثا سے صلح کے معاملے میں ریاست کا کوئی کردار نہیں۔ اس سے ثروت مند مجرم ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح واقعاتی شہادت کو بھی حدود کے معاملات میں قبول نہیں کیا جاتا۔ پھر صدرِ مملکت کو سزا کی معافی کا اختیار دیا گیا ہے۔ نور مقدم کے قاتل کو عدالتِ عظمیٰ سزا سنا چکی۔ نظرِ ثانی کی اپیل مسترد ہو چکی۔ اب معاملہ ایوانِ صدر میں لٹکا ہوا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی دباؤ بھی ہے کہ آپ کسی کو موت کی سزا نہ دیں۔ اس معاملے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
4۔ عدالتیں فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر کرتی ہیں۔ اس تاخیر میں وکلا کا کردار بھی کم نہیں۔ ایسے قوانین اب ناگزیر ہیں جو عدالتوں اور وکلا کو پابند کریں کہ ایک مخصوص مدت میں فیصلہ سنایا جائے۔
ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کو اس وقت اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ اُن پر عوام کا اعتماد قائم ہونا چاہیے۔ حکومت یا ریاست‘ اگر ان کی اصلاح کے بجائے‘ پولیس اور دوسرے ریاستی اداروں کو یہ چھوٹ دے دے گی کہ وہ ماورائے عدالت فیصلے کریں تو پھر ملک میں انارکی پھیلے گی۔ لائبہ اور وسیم عباس کے مجرموں کو سزا ملنی چاہیے تھی‘ مگر ماورائے عدالت نہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved