تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     22-10-2026

بیٹیاں لاپتا‘ ریڈ لائن لاپتا

ذرا تصور کیجیے‘ ایک ماں رات کے دو بجے اپنی بیٹی کے بستر پر ہاتھ رکھتی ہے۔ بستر خالی ہے۔ بیٹی موجود نہیں۔ وہ تکیہ سینے سے لگاتی ہے‘ بیٹی کے کپڑے سونگھتی ہے‘ دروازے کی آہٹ پر چونک اٹھتی ہے۔ ہر گزرتی گاڑی کی آواز پر اسے لگتا ہے شاید اس کی بچی واپس آ گئی۔ صبح ہوتی ہے‘ باپ درخواست لے کر تھانے پہنچتا ہے‘ ماں ایک اور دن امید اور خوف کے درمیان گزار دیتی ہے۔ شام ڈھلتی ہے تو گھر میں سب کچھ موجود ہوتا ہے‘ سوائے اس بیٹی کے جس کی ہنسی سے گھر آباد تھا۔ یہ کسی مخصوص خاندان کا بیان کردہ واقعہ نہیں‘ اُن بے شمار گھروں کے کرب کی تصویر ہے جہاں کسی اپنے کی گمشدگی نے زندگی روک رکھی ہے۔ اب اس منظر کے سامنے حکومت کے دعوے رکھیے۔ وزیراعلیٰ کی ریڈ لائن رکھیے۔ سیف پنجاب کے نعرے رکھیے‘ اربوں روپے کی ٹیکنالوجی رکھیے اور خود فیصلہ کیجیے کہ اس ماں کو کس اعلان سے تسلی ملے گی؟ جس صوبے میں ایک ماں اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کی خبر کو ترس جائے‘ وہاں حکمرانوں کی کامیابیوں کے دعووں کا نہیں‘ ان کے ضمیر کا احتساب ہونا چاہیے۔ روسی ادیب دوستوفسکی کے ناول ''برادرز کرامازوف‘‘ میں معصوم بچے کی اذیت انسانی اخلاقیات کے سامنے ایک سوال رکھتی ہے کہ ایسی خوشحالی کی کیا حیثیت جس کی قیمت بے گناہ بچوں کے آنسو ہوں؟ آج کے حکمران بھی اس سوال سے نہیں بچ سکتے۔ منصوبے شاندار ہوں‘ بجٹ اربوں کا ہو‘ کیمرے جدید ہوں‘ چاہے سکیورٹی کیلئے ہوں یا دوروں کی کوریج کو خوبصورت بنانے کیلئے‘ لیکن کسی لاپتا بچی کی ماں انصاف مانگتے مانگتے بوڑھی ہو جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ حکمرانی کا اصل امتحان یہ ہے کہ عام شہری کتنا محفوظ ہے‘ یہ بڑے دعوئوں‘ اعلانات اور الفاظ کے گورکھ دھندوں میں نہیں‘ یا صرف چکاچوند میں نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم صاحبہ کے روبرو عدالتی کارروائی نے پنجاب میں بچیوں کے تحفظ کا معاملہ ایک مرتبہ پھر اُٹھا دیا۔ کارروائی کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے پوچھا کہ صوبے میں بچیوں کے اغوا کے کتنے مقدمات ہیں؟ آئی جی نے بتایا: 500 سے زائد کیسز ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 500 کا نمبر بہت بڑا ہے۔ جب پولیس کے انتظامی اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تو آئی جی نے کمیٹیوں کی تشکیل کا بتایا۔ چیف جسٹس کا جواب تھا کہ کمیٹیاں بنائی تھیں تو یہ حالت ہے؟ یہ جملہ پنجاب کے انتظامی نظام کیلئے سوال ہے۔ کمیٹیاں‘ محکمے‘ افسران اور وسائل موجود ہیں مگر نتائج کا حساب کون دے گا؟ ان مقدمات میں کتنی بچیاں بازیاب ہو چکیں؟ کتنے مقدمات زیر تفتیش ہیں اور کتنے حل طلب ہیں؟ حکومت کو مکمل تفصیلات پیش کرنی چاہئیں۔ اسی کارروائی میں دو سال سے لاپتا ایک 16سالہ لڑکی کی بازیابی کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس نے لڑکی بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے نوٹس کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔ سوال یہ ہے کہ جو کوشش عدالتی نوٹس کے بعد ہوئی‘ وہ پہلے کیوں نہ ہو سکی؟ ایک بچی کی بازیابی خوش آئند ہے مگر انتظار میں گزرنے والے دو سال کا حساب بھی ضروری ہے۔ کیا ہر خاندان کو اپنی بچی کی تلاش کیلئے ہائیکورٹ پہنچنا ہوگا؟ چیف جسٹس نے آئی جی سے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جن والدین کی بچیاں غائب ہیں‘ ان پر کیا گزرتی ہو گی؟ انہوں نے خواتین کے مقدمات میں پولیس کی لاپروائی اور گمشدہ لڑکیوں کے بارے میں قائم کیے جانے والے مفروضوں پر تشویش ظاہر کی۔ یہی ہمارے تفتیشی نظام کا ایک تکلیف دہ پہلو ہے۔ لڑکی غائب ہو تو بعض اوقات تلاش سے پہلے قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ بالغ خاتون کی آزادانہ مرضی اور قانونی حقوق اپنی جگہ‘ مگر قیاس آرائی کبھی تفتیش کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ نابالغ بچی کی سلامتی کے معاملے میں ریاست کی ذمہ داری کہیں زیادہ ہے۔ پولیس کا کام کردار پر فیصلہ سنانا نہیں‘ حقائق معلوم کرنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اب پنجاب پولیس کے رواں سال کے اعدادو شمار کو دیکھیے‘ جس میں انکشاف ہوا کہ یکم جنوری سے 31 اگست تک مجموعی طور پر اغوا کے 22 ہزار 650 مقدمات درج ہوئے جبکہ اغوا برائے تاوان کے 28 مقدمات الگ کیٹیگری میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ اسی عرصے میں زیادتی کے 3776 اور اجتماعی زیادتی کے 600 مقدمات رجسٹرڈ ہوئے۔ یہ تو وہ واقعات ہیں جو پولیس کے ریکارڈ تک پہنچ گئے۔ نجانے کتنے متاثرین خوف‘ بدنامی‘ دھمکیوں یا معاشرتی دباؤ کے باعث شکایت درج نہیں کروا سکے ہوں گے۔ حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ پولیس اصلاحات کا اصل امتحان نئی گاڑیاں‘ وردیاں اور عمارتیں نہیں بلکہ شہری کی شکایت کا فوری اندراج اور غیر جانبدار تفتیش ہے۔ پولیس کے ریکارڈ میں کڈنیپنگ اور ابڈکشن کے 22 ہزار 650 مقدمات میں سے 16 ہزار 98 منسوخ ظاہر کیے گئے‘ یعنی تقریباً 71 فیصد۔ مزید 3531 زیر تفتیش‘ 2845 کے چالان جمع اور 176 اَن ٹریسڈ یعنی پولیس کو پتا ہی کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کن بنیادوں پر منسوخ ہوئے؟ کتنے متاثرین بحفاظت واپس آئے؟ کتنی شکایات غلط ثابت ہوئیں؟کتنے مقدمات شواہد کی کمی کے باعث ختم ہوئے؟ کتنی منسوخیوں کو مجاز عدالت نے منظور کیا؟ فراہم کردہ چارٹس میں منسوخی کی وجوہات درج نہیں۔ ہر منسوخی کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اتنی بڑی تعداد کی شفاف وضاحت ضرور ہونی چاہیے۔ زیادتی کے 3776 مقدمات میں سے 632 اور اجتماعی زیادتی کے 600 مقدمات میں سے 70 منسوخ ظاہر ہوئے۔ ان کی وجوہات بھی واضح ہونی چاہئیں۔ حکومت کو مقدمات کے اندراج سے لے کر عدالتی انجام تک مکمل تفصیلات سامنے لانی چاہئیں۔ محض اعداد وشمار جاری کرنا کارکردگی نہیں‘ ان کے پیچھے موجود انسانی تکلیف اور انصاف کی صورتحال جاننا اصل ذمہ داری ہے۔ اور حکومت کو تمام ڈیٹا پبلک کرنا چاہیے۔ پنجاب میں پولیس‘ جدید سیفٹی کیمرے‘ چائلڈ پروٹیکشن کے ادارے اور خصوصی کمیٹیاں موجود ہیں‘ پھر طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کی نگرانی کون کرتا ہے؟ کیا وزیراعلیٰ آفس ہر ضلع سے رپورٹ لیتا ہے؟ اگر لیتا ہے تو نتائج کیا ہیں؟ کیا کسی افسر کو ثابت شدہ غفلت پر جوابدہ بنایا گیا؟ صرف اجلاسوں اور ہدایات سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا۔ کیمرے یقینا جرائم کی روک تھام اور تفتیش میں مدد دے سکتے ہیں‘ لیکن ٹیکنالوجی خود انصاف نہیں ہوتی۔ کیمرہ تصویر محفوظ کر سکتا ہے مگر تفتیش‘ گرفتاری‘ فرانزک شواہد اور عدالت میں مقدمہ ثابت کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔ جس ماں کو اپنی بچی کی تلاش کیلئے بار بار تھانے جانا پڑے‘ اسے کیمروں کی تعداد سے کیا تسلی ملے گی؟ سیف پنجاب وہ نہیں جہاں ہر چوراہے پر کیمرہ ہو‘ سیف پنجاب وہ ہے جہاں کیمروں کی مدد سے ہر بچی‘ بچے اور ہر شخص کے تحفظ کیلئے ریاست بروقت حرکت میں آئے۔ حکومتی کارکردگی کی پیمائش منصوبوں کی افتتاحی تختیوں سے نہیں شہریوں کی سلامتی سے ہونی چاہیے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی‘ آرٹیکل 14 انسانی وقار اور آرٹیکل 25 مساوات کے تحفظ کا اصول بیان کرتا ہے۔ بچوں کا تحفظ ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے۔ حکمرانوں سے سوال ہے کہ آپ کے پاس حکومت ہے‘ پولیس ہے‘ اختیار ہے‘ وسائل ہیں اور فیصلے کرنے کی طاقت ہے۔ اس ماں کے پاس صرف انتظار ہے۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہی ہے کہ طاقت رکھنے والے‘ طاقت سے محروم شہری کیلئے کیا کرتے ہیں۔ جس دن ایک لاپتا بچی کی ماں آپ سے پوچھے: میری بیٹی کہاں ہے؟ تو کیا حکومت کے پاس جواب ہوگا‘ یا اسے پھر یہی سننے کو ملے گا کہ خواتین اور بچے ہماری ریڈ لائن ہیں؟ جس ریڈ لائن کے باوجود ایک ماں برسوں اپنی بیٹی کی خبر کو ترسے‘ اس ریڈ لائن کی حفاظت کا حساب مانگنا پوری قوم کا حق ہے۔ کیونکہ بیٹیاں لاپتا ہوں تو ریاست کو ان کی تلاش میں ہمہ وقت موجود ہونا چاہیے‘ اس کی ریڈ لائن لاپتا نہیں ہونی چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved