ہمارے ٹیکس نظام کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ بڑے سرمایہ داروں سے حکومت براہِ راست پورا ٹیکس وصول نہیں کر پاتی کیونکہ بالعموم حکمرانوں کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہوتا ہے‘ اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں‘ جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ پاکستان کا انکم ٹیکس کا نظام ساری دنیا سے منفرد ہے‘ یہاں بعض علاقوں کو انکم ٹیکس سے استثنا دے دیا جاتا ہے‘ مثلاً ماضی میں خیبر پختونخوا کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں یعنی سوات‘ اپر دیر‘ لوئر دیر‘ اپر اور لوئر چترال‘ بونیر‘ شانگلہ اور مالاکنڈ کو انکم ٹیکس سے استثنا دیا گیا تھا‘ جنہیں 'پاٹا‘ کہا جاتا ہے‘ جو موجودہ مالی سال سے واپس لے لیا گیا ہے‘ مگر صوبائی حکومت کی طرف سے اب بھی اس استثنا کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان‘ خیبر‘ کرم‘ باجوڑ‘ مہمند اور اورکزئی کی ایجنسیوں کو 'فاٹا‘ کہا جاتا تھا‘ انہیں 2018ء میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ ان ضم شدہ اضلاع کو انضمام سے پہلے بھی انکم ٹیکس سے استثنا حاصل تھا اور اب بھی ہے۔ یہ اصول سمجھ سے بالاتر ہے اور ہماری دانست میں دنیا میں کہیں اور انکم ٹیکس سے ایسے علاقائی استثنا کی مثالیں موجود نہیں ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ بعض جگہ آزاد تجارتی یا صنعتی خطے بنائے جاتے ہیں اور انہیں بعض ٹیکسوں سے مکمل یا جزوی استثنا دیا جاتا ہے تاکہ اُن پسماندہ علاقوں میں صنعتیں اور کاروباری ادارے قائم ہوں‘ مقامی لوگوں کو روزگار ملے اور لوگوں کو خطِ غربت سے نکالا جائے۔ بعض مقامات پر ایسی صنعتوں کیلئے ٹیکس کا جزوی یا کلی استثنا رکھا جاتا ہے کہ جن میں برآمدی مصنوعات تیار ہوتی ہوں تاکہ اس سے لوگوں کو روزگار بھی ملے اور ملک کو زرِمبادلہ بھی حاصل ہو۔ اگرچہ ہمارے ہاں اس سے بھی ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے‘ مثلاً: قبائلی علاقے میں علامتی طور پر کوئی صنعت قائم کر دی جاتی ہے اور اس کی مہریں لگا کر بندوبستی علاقوں میں قائم صنعتوں پر نوکر شاہی سے مل کر ٹیکس کی چھوٹ حاصل کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انکم ٹیکس کسی علاقے یا وہاں کی زمین پر عائد نہیں ہوتا‘ بلکہ افراد کی سالانہ آمدنی پر عائد کیا جاتا ہے‘ مثلاً: کراچی میں لانڈھی‘ کورنگی‘ اورنگی ٹائون‘ لیاری اور کیماڑی ٹائون وغیرہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً پسماندہ سمجھے جاتے ہیں‘ لیکن ان علاقوں میں بھی بڑے بڑے ارب پتی تھوک فروش اور ذخیرہ اندوز ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں گھریلو صنعتیں بھی قائم ہوتی ہیں‘ لہٰذا کراچی میں بحیثیتِ مجموعی پسماندگی کی بنیاد پر کسی علاقے کو انکم ٹیکس سے استثنا حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں وفاق یا صوبے کے زیرِ اہتمام ضم شدہ قبائلی اضلاع میں یقینا خطِ غربت سے نیچے آنے والے طبقات کی تعداد زیادہ ہو گی‘ لیکن انہی علاقوں میں ایسے کاروباری حضرات اور رُؤسا بھی بستے ہیں جو کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں‘ اُن کے پاکستان کے بڑے شہروں میں عالیشان بنگلے بھی ہیں‘ تو وہ بھی کسی علاقے کیلئے حاصل انکم ٹیکس استثنا سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہیں کرتے ۔ ہماری نظر میں یہ شرعاً اور قانوناً درست نہیں ہے۔
انکم ٹیکس کے حوالے سے صرف تنخواہ دار طبقہ ہی ایسا مظلوم طبقہ ہے کہ جن سے پورا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے‘ کیونکہ اُن کی ساری آمدنی قانونی اور دستاویزی ہوتی ہے‘ اس لیے ان سے تنخواہ کی وصولی سے پہلے ہی براہِ راست انکم ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔ لیکن ارب کھرب پتی لوگوں کے پاس اپنی آمدنی چھپانے اور انکم ٹیکس بچانے کے ہزاروں حربے ہوتے ہیں‘ اس میں محکمۂ ٹیکس کے عملے کا تعاون بھی اُنہیں حاصل ہوتا ہے‘ کیونکہ وہ بھی 'برکات‘ میں حصہ دار ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال جاگیردار طبقے کی ہے کہ زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس کی بات کی جائے تو وہ واویلا مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ کھاد مہنگی ہے‘ ٹیوب ویل اور ٹریکٹر وغیرہ چلانے کیلئے ایندھن مہنگا ہے‘ آبیانہ اس کے علاوہ ہے‘ لہٰذا زرعی آمدنی کو ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔ حالانکہ ٹیکس تو تمام مصارف کو نکالنے کے بعد 'صافی آمدنی‘ پر ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے قانون ساز اداروں میں جاگیرداروں اور دولتمندوں کا غلبہ ہے‘ اس لیے وہ قوانین ہی ایسے بناتے ہیں کہ انہیں مکمل تحفظ حاصل ہو ۔حتیٰ کہ جب مالاکنڈ سوات ڈویژن کو کے پی میں ضم کیا گیا اور ان علاقوں پر انکم ٹیکس عائد کرنے کی بات کی گئی تو اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی اورصوبائی وزیرِ خزانہ جناب سراج الحق نے بھی اس کی مخالفت کی‘ حالانکہ دینی سیاسی جماعت کے سربراہ کو تو عدل وانصاف پر مبنی بات کرنی چاہیے۔ مگر سیاسی رہنما اپنے حلقۂ انتخاب کے عوام کو خوش کرنے کیلئے بعض اوقات انصاف کے اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
شریعت کی رو سے حلال آمدن اور قانونی آمدن میں فرق ہوتا ہے۔ حلال سے مراد وہ آمدنی ہے جو اصل کے اعتبار سے حلال ہو اور حلال ذرائع سے کمائی جائے‘ جیسے تاجروں‘ صنعتکاروں‘ جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی مختلف ذرائع سے آمدنی۔ لیکن قانوناً آمدنی کو' زرِ سفید‘ اور 'زرِ سیاہ‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پس جس آمدنی پر عائد پورا ٹیکس شفاف طریقے سے ادا کر دیا گیا ہو‘ وہ 'زرِ سفید‘ ہے اور جس آمدنی پر عائد ٹیکس شفاف طریقے سے ادا نہ کیا گیا ہو‘ وہ کمائی کے اعتبار سے حلال ہونے کے باوجود قانونی اعتبار سے 'زرِ سیاہ‘ ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ جب کسی شخص نے حلال ذرائع سے مال کمایا ہو تو اُسے جرم کیوں سمجھا جاتا ہے‘ اس کی بابت ایک حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''یہ بات مومن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلّت سے دوچار کرے‘ صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کوئی اپنے آپ کو ذلّت سے کیونکر دوچار کرے گا‘ آپﷺ نے فرمایا: یوں کہ وہ اپنے آپ کو ایسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے کہ جس سے (باعزت طور پر) وہ نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا‘‘ (ترمذی: 2254)۔ پس لازم ہے کہ وہ اپنی عزت کا تحفظ کرے اور اسے دائو پر نہ لگائے۔ پس مسلمانوں پر لازم ہے کہ ملک کے وہ تمام قوانین جن کا تعلق شہری سہولتوں یا سول اور فوجداری قوانین سے ہے جو شریعت سے متصادم نہیں ہیں‘ اُن کی پابندی کریں تاکہ ان کی عزت وآبرو محفوظ رہے اور اسی ذیل میں انکم ٹیکس کے قوانین بھی آتے ہیں۔
ہمارے ہاں اہلِ ثروت بعض خیراتی اور رفاہی اداروں کو خوشدلی سے بھاری رقوم بھی دے دیتے ہیں‘ لیکن انکم ٹیکس پوری دیانتداری اور ذمہ داری سے ادا نہیں کرتے اور اس کیلئے وہ یہ عذرِ لنگ اختیار کرتے ہیں کہ جہاں لوگ حکومت کو پورا ٹیکس دیتے ہیں‘ وہاں حکومتیں انہیں سہولتیں بھی فراہم کرتی ہیں‘ تعلیم وصحت کے انتظامات کرتی ہیں اور جب وہ کمانے کے قابل نہ رہیں تو اُن کی کفالت بھی کرتی ہیں‘ جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ مزید یہ کہ فرض کریں: ایک شخص کا انکم ٹیکس ساڑھے نو لاکھ روپے بنتا ہے اور وہ دس لاکھ روپے ٹیکس دے دیتا ہے کہ چلو ہمارے ملک کے خزانے ہی میں جائے گا اور عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو گا‘ لیکن انکم ٹیکس کے عملے کو ان لوگوں کی دیانت وامانت پر اعتماد نہیں ہوتا اور وہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہیں اور مشتبہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس نے دس لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے تو لازماً اس کا ٹیکس اس سے دو تین گنا زائد بنتا ہوگا۔ لہٰذا وہ پیچیدہ قوانین کا سہارا لے کر ٹیکس دہندگان کو اتنا پریشان کرتے ہیں کہ وہ اپنی عزت بچانے کیلئے رشوت دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ الغرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جب عوام حکمرانوں اور حکومت کے نظام میں بدعنوانی اور کرپشن کی ہوشربا داستانیں سنتے اور پڑھتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں‘ تو وہ مزاحیہ شاعر دلاور فگارکے مشورے پر عمل کرتے ہیں: 'حاکمِ رشوت ستاں فکرِ گرفتاری نہ کر؍ کر رہائی کی کوئی آسان صورت‘ چھوٹ جا ٭میں بتاؤں تجھ کو‘ تدبیرِ رہائی مجھ سے پوچھ؍ لے کے رشوت پھنس گیا ہے‘ دے کے رشوت چھوٹ جا‘۔
تو پھر وہ ٹیکس سے گریز کے حیلے تلاش کرتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved