رواں ہفتے ایوانِ بالا میں سینیٹرز کو ڈیڑھ گھنٹے تک اپنے‘ اپنے بیوی بچوں اور والدین کیلئے تاحیات بلیو؍سفارتی پاسپورٹ حاصل کرنے کی خاطر لڑتے دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ صحافی بننے سے پہلے کی سیاست اور سیاستدانوں کے بارے میں میری کیا سوچ اور رائے تھی۔ چند ماہ پہلے بھی سینیٹرز کے بلیو پاسپورٹ پر بہت بحث ہوئی تھی جو میڈیا کی چند روزہ تنقید کے بعد دب گئی تھی۔ سب نے سمجھا کہ شاید سینیٹرز میڈیا اور عوام کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ لیکن اب چند روز پہلے پھر سینیٹ میں سینیٹرز نے بل کی شکل میں یہ معاملہ پیش کیا اور ڈیڑھ گھنٹے تک اس پر لڑائی ہوتی رہی۔ ایک طرف وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت طلال چودھری تھے‘ جو اس کی مخالفت کر رہے تھے تو دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن کے تمام سینیٹرز اکٹھے تھے‘ جن میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز بھی پیش پیش تھے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب بات سینیٹرز یا ارکانِ اسمبلی کی مراعات کی آتی ہے تو محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر پی ٹی آئی‘ پیپلز پارٹی‘ نواز لیگ اور دیگر جماعتوں کے ارکان متحد ہو جاتے ہیں۔ تب ان کا بھائی چارہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک میں یہی پڑھتا اور سمجھتا رہا کہ سیاست کا مطلب عوام اور غریبوں کی خدمت ہوتا ہے۔ سیاست میں وہی لوگ آتے ہیں جو گھر سے رج چکے ہوتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ جس طرح ان کی اپنی زندگیاں بہت اچھی اور آسان ہیں‘ اسی طرح انہیں اس معاشرے کے دیگر طبقات کا طرزِ زندگی بہتر بنانے کیلئے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انکے ساتھ جو ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے‘ اسکے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ ان سب کو انصاف ملے‘ اچھی تعلیم ملے اور ان کے بچوں کا مستقبل اچھا ہو۔ میرے نزدیک یہی اس بندے کی تعریف تھی جو سیاستدان بنتا تھا۔ اس پوری سوچ میں کہیں یہ شامل نہ تھا کہ اسے اقتدار درکار تھا‘ یا اسے اپنے جیسے عام لوگوں پر حاکم بننا تھا‘ یا ان کے پیسے پر عیاشی کرنی تھی‘ یا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے بے تحاشا مراعات حاصل کرنی تھیں‘ یا اندھا دھند ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسہ کمانا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ سب اچھے لوگ کسی نظریے اور مقصد کیلئے سیاست کے میدان میں اترتے ہیں اور عام لوگوں کی زندگیاں بدلنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ تاہم جب کچھ ہوش سنبھالا تو میری رائے بدلنے لگی اور جب میں عملی صحافت میں آیا تو سوچ مزید بدل گئی۔ رہی سہی کسر اُس وقت پوری ہو گئی جب 2002ء کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی۔ اس کیلئے میں اپنے ایڈیٹر سلیم بخاری صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ جونیئر رپورٹر پر اتنا اعتماد کیا کہ پارلیمنٹ کَور کرنے کی اجازت اور پھر بھرپور سپورٹ بھی دی۔
یہ بات آج تو عجیب لگے گی مگر اس وقت تک پارلیمنٹ‘ سیاسی بیٹ‘ فارن آفس یا سپریم کورٹ کی رپورٹنگ بہت ہی سینئر صحافی کیا کرتے تھے۔ کم عمر یا نوجوان رپورٹرز کو یہ بِیٹس نہیں دی جاتی تھیں کیونکہ یہ بہت ذمہ داری کا کام تھا اور اس میں تجربہ کار ہی چل پاتا تھا۔ اب تو خیر بہت سارے نوجوان سیاسی بیٹ کر رہے ہیں۔ تاہم جب میں نے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ شروع کی تو بہت سارے معاملات کا پتا چلا اور اندازہ ہوا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں عوامی مفاد کے نام پر کوئی سیاست نہیں ہوتی۔ یہ سب ذاتی مفادات ہوتے ہیں‘ جنہیں عوام کا نام دے کر ان پر حقِ حکمرانی حاصل کیا جاتا ہے اور پھر انہی کے پیسے پر عیاشی کی جاتی ہے۔ مجھے ایک ایم این اے کی بات یاد آ رہی ہے کہ جب وہ پہلی دفعہ پارلیمنٹ پہنچے تو انہیں محسوس ہوا کہ یہاں سب سے اہم کام اپنے مفادات کا تحفظ اور مراعات حاصل کرنا ہے۔ عوام کے نام پر بس تقریریں کرنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو انہیں حیرانی ہوئی‘ پھر بتایا گیا کہ وہ‘ ان کی بیوی‘ بچے اور والدین تک تاحیات بلیو پاسپورٹ بنوا کر دنیا کے تیس چالیس ممالک کا بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ یہ وہ مراعات ہیں جو اَب انہیں اور ان کے خاندان کو تاحیات میسر رہیں گی‘ چاہے وہ ایم این اے رہیں یا نہ رہیں۔ وہ اپنے تئیں پورے جذبے سے عوام کی خدمت کے نام پر آئے تھے لہٰذا وہ حیران ہوئے کہ عوام کے پاس سبز پاسپورٹ ہے تو ان چار پانچ چھ سو لوگوں نے بلیو پاسپورٹ کیوں بنوا لیے ہیں؟ مطلب پچیس کروڑ لوگوں کے ووٹ تو لینے ہیں لیکن سبز پاسپورٹ لے کر انکے ساتھ ایئرپورٹ پر لائن میں نہیں کھڑا ہونا۔ عالمی ایئرپورٹس پر بھی کہیں سے نہ لگے کہ ہم پاکستانی گرین پاسپورٹ ہولڈرز ہیں۔ ہمارے پاسپورٹ کا رنگ مختلف ہونا چاہیے تاکہ ہمیں ایئرپورٹس پر اُس سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے جو عام پاکستان کو اکثر ایئرپورٹس پر برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اسی طرح سفارتی پاسپورٹ پر بھی پھڈا رہتا ہے۔ بعض ارکانِ اسمبلی نے نہ صرف سفارتی پاسپورٹ خود لے لیے بلکہ اپنے بچوں کو بھی دلا دیے‘ جو قانون کے خلاف ہے۔ اس کا انکشاف پچھلے دنوں ہوا‘ جب پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کے بیٹے کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی کہ وہ نوجوان اٹلی گیا‘ اس کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا اور اس نے وہاں پہنچ کر اسی سفارتی پاسپورٹ پر اسائلم کیلئے درخواست دے دی۔ اندازہ کریں‘ وہ سفارتی پاسپورٹ جو صرف مخصوص سفارتکاروں یا اعلیٰ عہدیداروں کو دیا جاتا ہے‘ وہ ایک ایم این اے کے بیٹے کو بھی ملا ہوا تھا اور اس نوجوان نے اس کا کیا خوب استعمال کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ پاسپورٹ کس کی منظوری سے ایک ایم این اے کے بیٹے کو دیا گیا؟ یہ سب تفصیلات دو تین دن کے شور شرابے کے بعد دب کر رہ گئیں۔ یقینی طور پر اگر پی ٹی آئی کا ایک ایم این اے سفارتی پاسپورٹ لے سکتا ہے تو پھر دیگر بڑے بڑے وزیروں‘ مشیروں‘ سینیٹرزیاایم این ایز کے بچوں کو کتنے سفارتی پاسپورٹ جاری ہوئے ہوں گے! چاہیے تو یہ تھا کہ کوئی ایم این اے یا سینیٹر وقفۂ سوالات میں یہ سوال اٹھاتا کہ ان لوگوں کے نام بتائے جائیں جن کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہیں‘ کون اس کیلئے اہل تھا اور کتنے لوگوں کو قواعد و ضوابط میں نرمی کرکے یہ پاسپورٹ دیے گئے۔ مگر اب سبھی سینیٹرز یہ چاہتے تھے کہ انہیں بچوں اور والدین سمیت تاحیات بلیو پاسپورٹ دیے جائیں۔ پتا چلا کہ اس وقت 45 ہزار پاکستانی ایلیٹس کے پاس بلیو پاسپورٹ ہیں۔ تاہم سفارتی پاسپورٹس کی تعداد کے بارے میں طلال چودھری نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے ہیں اور نہ ہی کسی نے پوچھا۔ طلال چودھری نے کہا کہ پہلے 75 ہزار بلیو پاسپورٹ تھے اور اب تیس ہزار پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں‘ اور ان میں کوئی سیاستدان نہیں تھا۔ پتا چلا کہ سب بیورو کریٹس نے اپنے اور اپنے خاندان کیلئے تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھنے کا قانون بنوا رکھا ہے۔ اس پر سینیٹ میں شور مچا کہ دیکھیں بیوروکریٹس نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی‘ چپکے سے ماں باپ اور بچوں سمیت تاحیات سرکاری پاسپورٹ رکھنے کی سہولت حاصل کر رکھی ہے جبکہ یہی بیورو کریسی ہر دفعہ سینیٹرز کے تاحیات بلیو پاسپورٹ پر اعتراض لگا کر بل پاس نہیں ہونے دیتی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کا درمیانی حل نکالا کہ آپ سینیٹرز کیلئے گنجائش نکالتے ہیں اور بیورو کریٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد خاندان سمیت بلیو پاسپورٹ فراہم کرنے کا قانون ختم کر دیتے ہیں‘ جس پر سینیٹرز خوش ہو گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بیورو کریسی کی یہ شاہی مراعات ختم کرنے کے بجائے سینیٹرز ان کو دی گئی مراعات کا حوالہ دے کر اپنے لیے بھی وہی سہولت‘ خاندان سمیت تاحیات حاصل کرنا چاہتے تھے۔کیا دنیا کی کسی اور پارلیمنٹ میں ارکان کو اپنے لیے بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کی خاطر ڈیڑھ گھنٹے تک لڑتے دیکھا یا سنا ہے؟ میں نے دیکھا بھی ہے اور سنا بھی ہے‘ اور آخر جیت انہی کی ہوئی جو عوام کے دکھ درد مٹانے کیلئے سیاست میں آئے تھے اور اب اپنے اور پورے خاندان کیلئے تاحیات وہ پاسپورٹ لینے میں کامیاب ہو گئے جس کا رنگ پچیس کروڑ عوام کے سبز پاسپورٹ سے الگ ہے۔ اس سے بڑی کارکردگی یا کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved