بدھ کی صبح اپنے آبائی علاقے کے بالکل سامنے‘ مغرب میں انڈس ہائی وے پر حادثے کی المناک خبر پڑھی تو اپنے بھی زخم تازہ ہو گئے۔ ان زخموں کے بارے میں کچھ دیر بعد عرض کروں گا‘ پہلے کچھ وطنِ عزیز کی بات کرتے ہیں۔ سڑکوں‘ گلیوں‘ شاہراہوں اور یہاں تک کہ بڑے شہروں کے بازاروں میں آپ جو بے ہنگم ٹریفک دیکھتے ہیں‘ شاید دنیا کے ہمارے جیسے چند ممالک ہی‘ ایسی اجتماعی بے احتیاطی کا مقابلہ کر سکیں۔ حادثات ایسے ہی نہیں ہوتے! بے قاعدگیوں کی وجہ سے لوگ جسمانی طور پر معذور ہوتے ہیں اور کچھ بدقسمت اپنی زندگیاں گنوا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں حادثات کے شماریات اب کئی سالوں سے جمع ہو رہے ہیں جن کے مطابق روزانہ تقریباً 94 انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ گزشتہ سال 34 ہزار 392 افراد سڑکوں پر حادثات کی نذر ہوئے۔ ہر نوع کی گاڑیوں کے 4 لاکھ 83 ہزار حادثات کے واقعات ہوئے جن میں 5 لاکھ 70 ہزار افراد زخمی ہوئے۔ اس بات پر اب حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ 75 فیصد حادثات کا شکار موٹر سائیکل سوار ہوئے۔ دنیا میں سڑکوں پر حادثات کا ہونا جدید تیز رفتار زندگی کا ایک ہولناک عکس ہے۔ کسی بھی ملک کے لوگ سڑکوں پر مکمل محفوظ نہیں‘ مگر اکثر ممالک میں ٹریفک کے معاملات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے اور ہائی ویز کا انتظام جدید ٹیکنالوجی اور سڑکوں کی بہتر ساخت سے مؤثر انداز میں زندگیوں کا تحفظ کرتا ہے۔ امریکہ میں ہمارے مقابلے میں کئی گنا زیادہ گاڑیاں ہیں اور ہر شخص سڑکوں پر کئی گنا زیادہ ڈرائیونگ کرتا ہے۔ وہاں کی آبادی بھی زیادہ ہے۔ وہاں گزشتہ سال 36 ہزار 640 افراد سڑکوں پر لقمہ اجل بنے۔ یہ اموات بھی اگرچہ بہت زیادہ ہیں‘ مگر وہاں ہر سال حادثات کی شرح کم اور ہمارے ہاں بڑھتی جا رہی ہے۔ اب یہ سوال ہم کس سے کریں‘ کون آپ کے خیال میں ذمہ دار ہے‘ اور ان الجھے ہوئے معاملات کا کیا حل ہو سکتا ہے! حکومتوں کی غفلت سے ہونے والے حادثات کو ہم نہیں روک سکتے‘ مگر اپنا خیال تو رکھا جا سکتا ہے۔ بہت عرصہ پہلے کسی بزرگ نے نصیحت کی تھی کہ سڑک پر گاڑی نکالتے وقت خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
راجن پور کے ضلع میں جس شاہراہ پر گزشتہ دنوں ایک بس حادثے کا شکار ہوئی‘ جس میں دس افراد کے جاں بحق اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں‘ اس سڑک پر اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر بسیں پشاور‘ سوات اور کراچی کے درمیان اسی شاہراہ پر دن رات چلتی رہتی ہیں۔ شام ہوتے ہی بڑے بڑے ٹریلروں اور ٹرکوں کی دوڑ بھی شروع ہو جاتی ہے‘ جو اکثر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوور ٹیک کرتے ہیں‘ اور انہیں سامنے سے آنے والی ٹریفک کا مطلق خیال نہیں ہوتا۔ یہ اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ بسوں کی رفتا ر کا اندھیرے میں‘ بلکہ دن میں بھی اس وقت اندازہ ہوتا ہے جب تیز رفتار آندھی کا جھکڑ گاڑی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ شام ہوتے ہی ان بسوں کی ہیڈ لائٹس مخالف سمت سے آنے والی ٹریفک کی بصارت کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ایسی صورت میں دوسرے ڈرائیور کیا کرتے ہوں گے‘ اگرمیں کسی وجہ سے اندھیرے میں پھنس جائوں تو بریک لگا کر رک جاتا ہوں۔ خوف مزید بڑھ جاتا ہے کہ عقبی سمت سے آنے والا کوئی تیز رفتار سوار ٹکر نہ مار دے۔ اب ایک عرصہ سے رات کو گاڑی چلانے پر‘ اپنے آپ پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مگر اسلام آباد میں کبھی تو یہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ شاہراہوں کی بات تو اکثر ہوتی رہتی ہے۔ جو شہروں کے اندر ٹریفک ہے اس کے بارے میں بھی ہمارے افسرانِ بالا اور حکومتیں کچھ نہیں کر رہیں۔ آپ کسی بھی شہر میں ہیں‘ شام ہوتے ہی موٹر سائیکلوں کی تیز ہیڈ لائٹس آپ کو اندھا کر دیں گی۔ بڑی اور چھوٹی گاڑیوں والے بھی تیز سفید قسم کی ہیڈ لائٹس آن کیے‘ تیز رفتاری میں آپ کو حواس باختہ کر دیں گے۔ بہتر تو یہ ہے کہ آدمی گھر سے نکلے ہی نہ‘ مگر کیا معاشرے‘ شہر اور حکومتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ہر کوئی بازاروں‘ سڑکوں اور شاہراہوں پر من مانی کرتا پھرے؟
اب تو موٹر ویز پر بھی نہ تو بسیں لین کی پابندی کرتی ہیں اور نہ ہی حدِ رفتار کی۔ اگر آپ گاڑی چلاتے ہیں تو آپ نے بھی یہ نوٹ کیا ہوگا۔ آخر ہم اچھے بنے بنائے نظام کو خراب کرنے کی کیوں ٹھان لیتے ہیں۔ آخر ان ڈرائیوروں کا کیوں محاسبہ نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا دیکھا تو صرف مخصوص جگہوں پر‘ جہاں کسی جھاڑی یا گاڑی کی آڑ میں کیمرہ لگا کر موٹر ویز اہلکار شکار کے انتظار میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کی کمیں گاہوں کا سب کو علم ہوتا ہے‘ اس لیے وہاں رفتار کم کر لیتے ہیں۔ اس کے لیے اب کوئی اور مؤثر طریقہ وضع کرنا ہو گا۔
چلیں اب اپنے اُن زخموں کی بات کرنے کے لیے واپس انڈس ہائی وے پر آپ کو لیے چلتا ہوں‘ جو کچھ نشانات‘ ایک دو ٹیرھی ہڈیوں کی صورت پندرہ بیس سال بعد بھی موجود ہیں۔ نہ کبھی ان کا علاج کرایا اور نہ پروا کی۔ شکر ہے کہ جان بچ گئی۔ یہ صبح کا وقت تھا۔ پوری رات بس میں سفر کرکے راجن پور پہنچا تھا مگر کوئی گاڑی یا ویگن میسر نہیں تھی کہ اُس دن ایک حاکمِ وقت کا ڈیرہ غازی خان میں جلسہ تھا اور جو کچھ سڑکوں پر چل سکتا تھا‘ وہ پولیس پکڑ کر ایک دن پہلے ہی لوگوں کو ان میں بند کرکے جلسہ گاہ کی رونق بڑھانے کے لیے لے گئی تھی۔ کئی ماہ بعد اپنے گھر جانے اور بیمار والدہ کو دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ ایک عزیر سے موٹر سائیکل مہیا کرنے اور میرے ساتھ 45 کلومیٹر سفر کرنے کی درخواست کی۔ سڑکیں اس دن تقریباً خالی تھیں۔ پرانے زمانوں کی طرح کک ماری اور موٹر سائیکل فراٹے بھرنے لگی۔ آدھا سفر ہی گزرا تھا کہ اچانک چند لمحوں کے لیے خود کو ہوا میں اڑتا محسوس کیا۔ اس کے بعد دنیا وما فیہا کی خبر نہ رہی۔ ہوش آیا تو انڈس ہائی وے کے کنارے پڑا ہوا تھا۔ ارد گرد کچھ لوگ پانی پلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے پہچان لیا۔ ایک ویگن میں ڈال کر ایک ڈاکٹر کے پاس واپس راجن پور لے گئے۔ راستے میں ہوش تو تھا‘ مگر بصارت مکمل طور پر جواب دے چکی تھی۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیکے لگا کر کئی گھنٹے آرام کرنے کو کہا۔ شام تک طبیعت سنبھلی۔ ہوا یوں تھا کہ جب میں اور میرا عزیز موٹر سائیکل پر رواں دواں تھے تو کراچی کی جانب جانے والی ایک بس زناٹے سے گزری تھی۔ اس کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ موٹر سائیکل اور ہم دونوں ہوا کے پریشر سے اڑ کر دور جا گرے۔ نہ بس ہمیں پہلے نظر آئی تھی نہ بعد میں۔ صرف اُس کی آواز اور ہوا کا پریشر یاد ہے۔ راستوں میں نجانے کتنے لوگ اس طرح ان تیز رفتار بسوں کی وجہ سے اپنی ہڈیاں تڑوا کر میری طرح خموش گھروں کی راہ لیتے ہوں گے۔ ہم نے تب کوئی شکایت کی‘ نہ اب کوئی کرتا ہے۔ بے حسی ایک طرف‘ ہمارا ٹرانسپورٹ کا نظام بہت ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہماری سڑکیں اور شاہراہیں ہمارے شہروں کی طرح بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ آپ کے لیے شاید یہ بات عجیب ہو مگر میں اکثر دیکھتا ہوں کہ شام ہوتے ہی ایک گدھا گاڑی والا اسلام آباد کے ہمارے قریبی مرکز میں مع اہل وعیال چوک میں بھیک مانگنے کی غرض سے گھومتا رہتا ہے۔ اس طرح پھٹے رکشے پر سوار پیشہ ور بھکاری بھی آ دھمکتے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ راجن پور کو چھوڑیں‘ اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کہاں ہوتی ہے؟ کہیں تو ہوتی ہو گی‘ مجھے معلوم نہیں۔ شاید کسی کی گھات لگائے بیٹھی ہو‘ کسی موٹر سائیکل کا چالان کرکے اپنا ہدف پورا کرنے کی فکر میں۔ اس لیے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved