تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     23-10-2026

ایران، امریکہ تنازع اور روس

رواں ہفتے دو اہم شخصیات نے ایران کے دارالحکومت تہران کا دورہ کیا اور ملک کے اہم رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ان میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف شامل تھے۔ اگرچہ فیلڈ مارشل کے دورے سے متعلق ابھی تک پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے آفیشل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں مگر ایرانی میڈیا میں جو کچھ رپورٹ ہوا‘ اس کو دیکھ کر بہ آسانی کہا جا سکتا ہے کہ اس دورے کا تعلق ایران اور امریکہ کے تنازع کو پُرامن سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں سے ہے۔ دوسری جانب28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے جنگ چھڑنے کے بعد روسی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورۂ ایران تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے ایران پہنچنے سے پہلے بحرین میں روس اور خلیج تعاون کونسل کے تحت سٹرٹیجک ڈائیلاگ کی نویں جوائنٹ منسٹریل کونسل کے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس لیے تہران پہنچنے سے پہلے انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ خلیج کی صورتحال‘ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے بارے میں خلیج کی عرب ریاستوں کا کیا نقطۂ نظر ہے۔ اگرچہ تہران میں ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ایرانی حکومت نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر اور وسیع کرنے کے موضوع پر ہونے والی گفتگو قرار دیا ہے‘ مگر فریقین کے درمیان ایران اور امریکہ کے تنازع‘ خاص طور پر آبنائے ہرمز پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا ہے۔ نہ صرف دفاع بلکہ تجارت اور دیگر معاشی شعبوں میں بھی ایران اور روس کے مابین قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔ یہ تعاون 2025ء میں روسی صدر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والے 25 سالہ جامع سٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت جاری ہے‘ جس میں نہ صرف دفاع اور سلامتی بلکہ توانائی اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے بھی شامل ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایران اور روس کے مابین جوہری توانائی کے شعبے میں بھی تعاون جاری ہے۔ ایران میں بوشہر کا نیوکلیئر پاور پلانٹ اس کی ایک مثال ہے۔اگرچہ روس نے ایران کو بڑے ہتھیار مثلاً ٹینک اور توپیں مہیا نہیں کیے‘ لیکن مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس (اور چین) نے ایران کو انٹیلی جنس شیئرنگ میں مدد فراہم کی ہے۔ ایران کے علاوہ یمن میں اس کی اتحادی انصار اللہ المعروف حوثی تنظیم خلیج فارس میں امریکی اڈوں اور سعودی تنصیبات کو اپنے میزائلوں سے جو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو رہی ہے‘ اسے روس کی تکنیکی مدد کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران نے اپنے ڈرون 'شاہد‘ کی پیداوار میں روسی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے اور انہیں بڑی تعداد میں تیار کرکے روس کے حوالے کیا ہے جنہیں روس یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف الزامات پر مبنی جو چارج شیٹ اکثر عائد کرتے رہتے ہیں‘ ان میں بڑی تعداد میں شاہد ڈرون تیار کرکے روس کو سپلائی کرنا بھی شامل ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کی جو سخت اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے‘ چین کی طرح روس نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے حالیہ دورۂ ایران کے دوران کھل کر کہا ہے کہ روس نے ایران کے ساتھ جو اقتصادی معاہدے کر رکھے ہیں‘ ان پر اس کی حکومت امریکی ناکہ بندی کی پروا کیے بغیر پوری طرح عمل کرے گی۔ متعدد ذرائع سے یہ معلومات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ روس نے بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو اپنی برآمدات بھیجنے میں سہولت فراہم کر رکھی ہے۔ اس طرح ایران کی تقریباً 30 فیصد برآمدات امریکی ناکہ بندی کے باوجود وسطی ایشیائی ممالک اور روس کی منڈیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے روس اور چین کی موجودگی ایران کیلئے بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اگر اس کونسل میں روس اور چین ایران کی مدد نہ کرتے تو امریکی صدر اب تک سلامتی کونسل سے ایران کے خلاف اپنی جارحانہ جنگ پر مہر ثبت کروا چکے ہوتے۔ روس ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران کیخلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بلاجواز قرار دیا اور اسے فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
روسی وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ ایران کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران اور روس کے باہمی تعلقات جتنے مضبوط آج ہیں اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ ان مضبوط تعلقات کی روشنی میں‘ اور خاص طور پر دفاعی شعبے میں تعاون اور سفارتی سطح پر حمایت کی بنا پر توقع کی جا رہی ہے کہ روس کی ثالثی ایران اور امریکہ کے تنازع کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے گی‘ یا کم از کم روس کی کوششوں سے اس جنگ کو وسیع ہونے سے روکا جا سکے گا۔ ان توقعات کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اگرچہ روس نے اس تنازع کے حل میں مدد فراہم کرنے کی متعدد بار پیشکش کی ہے لیکن پہلی مرتبہ اس ضمن میں ایک سنجیدہ اور عملی قدم اٹھایا گیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا دورۂ ایران اس کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ‘ ایران کے مسئلے پر روس کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا تنازع حل کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے روس کو امریکہ کا گرین سگنل مل چکا ہے۔ لیکن تہران میں روسی وزیر خارجہ کی اہم ایرانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کا کوئی فوری ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ روس مسئلے کے حل کیلئے ایران کو جو تجاویز دے رہا ہے‘ وہ فی الحال ایران کیلئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ مثلاً روسی وزیر خارجہ نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی جنگ سے پہلے والی حیثیت بحال کی جائے تاکہ ہر ملک کے بحری جہازوں کو اس تنگ آبی راستے سے گزرنے کی مکمل آزادی ہو۔ اس کے برعکس ایران کا مؤقف یہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی پہلی حیثیت بحال نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں ہے بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی حدود سے گزرتی ہے۔ اس لیے اس میں سے بحری جہازوں کی آمدورفت کو ایران اور عمان مشترکہ طور پر کنٹرول کریں گے۔ اسی طرح ایران نے روس کی طرف سے تقریباً 500 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کو روس یا کسی تیسرے ملک میں منتقل کرنے کی پیشکش بھی مسترد کر دی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ یہ ایران کی قومی ملکیت ہے اور ایران ہی میں رہے گا۔ آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم دو ایسے مسائل ہیں جن پر ایران اور روس میں ڈیڈلاک موجود ہے‘ اور روس کی کوشش سے بھی یہ ڈیڈلاک ختم نہیں ہو سکا۔ لہٰذا خدشہ ہے کہ امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے مگر اس جنگ کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت اور امریکہ کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار‘ دو ایسے اہم عوامل ہیں جو امریکی صدر کو اس خطرناک مہم جوئی سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
روس کیلئے بھی ایران کے مسئلے کا حل بہت اہم ہے۔ اب جبکہ یوکرین جنگ کے اختتام کے امکانات روشن ہو رہے ہیں‘ روس کیلئے خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اگلے ماہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے‘ اور امید ہے کہ دونوں کے مابین بات چیت کے نتیجے میں ایران اپنے مؤقف میں کچھ لچک کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ امریکہ میں ایران کے خلاف ٹرمپ جنگ کی مخالفت بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس کے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں روس‘ پاکستان اور قطر کی مصالحتی کوششیں کامیاب ہونے کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved