آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت اب کوئی سائنسی تصور یا فکشن فلم کا خیالی خاکہ نہیں رہی۔ اب یہ ہماری جیب میں ہے‘ ہمارے دفتر میں ہے‘ ہمارے بچوں کے سکول بیگ میں ہے۔ جس تیزی سے ہم نے پچھلے دو برسوں میں اسے اپنایا ہے‘ اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ہر بڑی ایجاد کو عام آدمی تک پہنچنے میں دہائیاں لگیں مگر چیٹ جی پی ٹی کو ایک سو ملین صارفین تک پہنچنے میں صرف دو ماہ لگے۔ یہ برق رفتاری ہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی بھی ہے اور سب سے بڑا خدشہ بھی۔ لہٰذا اس وقت سوال یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت آئے گی یا نہیں‘ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیسے رہیں گے؟ یہ ہماری خادمہ بنے گی یا مالکن؟ کیا یہ ہمیں ایک بہتر انسان بنائے گی یا ہم سے انسانیت ہی چھین لے گی؟ کالم کے محدود الفاظ میں ان تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ممکن نہیں؛ البتہ کچھ امکانات اور خدشات کو زیر بحث ضرور لایا جا سکتاہے۔
پہلے اس کے روشن پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں کیونکہ میں ذاتی طور پر رجائیت پسند ہوں اور ہمیشہ امید و آرزو کے نگر آباد رکھتا ہوں۔ مصنوعی ذہانت کا سب سے پہلا اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس نے علم و تدریس پر اشرافیہ کا اجارہ ختم کر دیا ہے۔ میری نسل نے لائبریریوں میں گھنٹوں دھول پھانکی ہے۔ ایک مستند حوالے کیلئے رجسٹر ڈھونڈنا‘ پھر کتاب‘ پھر اس کا صفحہ۔ جبکہ آج ہر کوئی اپنے موبائل پر دنیا کے بہترین استاد سے سوال پوچھ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے علم کو اشرافیہ کے ڈرائنگ روم سے نکال کر کوچہ و بازار میں لاکھڑا کیا ہے۔ اردو میں ترجمہ‘ قرآن کی تفسیر‘ اقبال کی تشریح‘ میڈیکل کا مشورہ‘ قانونی رہنمائی‘ سب کچھ ایک ٹچ اور ایک کلک پر دستیاب ہے۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس کا ماضی میں تصور تک نہیں تھا۔ دوسری جانب صحت کے شعبے سے متعلق وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہزاروں مریضوں کیلئے ایک ڈاکٹر ہے‘ اے آئی ایک مسیحا بن سکتی ہے۔ ایکسرے میں کینسر کی ابتدائی تشخیص‘ دل کی دھڑکن کا پیٹرن دیکھ کر ہارٹ اٹیک کی پیش گوئی‘ گاؤں میں بیٹھی خاتون کا الٹرا ساؤنڈ‘ سینکڑوں میل دور شہر کے ڈاکٹر تک پہنچانا‘ یہ سب اب ممکن ہے۔ مصنوعی ذہانت تھکتی نہیں‘ رشوت نہیں لیتی‘ اور ہڑتال پر نہیں جاتی۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت اور روزگار کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اے آئی نوکریاں کھا جائے گی۔ یہ آدھا سچ ہے۔ ہر ٹیکنالوجی نے کچھ نوکریاں ختم کی ہیں اور اس سے کئی گنا زیادہ نئی پیدا کی ہیں۔ جب کمپیوٹر آیا تو ٹائپسٹ کی نوکری ختم ہوئی لیکن سافٹ ویئر انجینئر‘ گرافک ڈیزائنر‘ ڈیٹا انٹری آپریٹر جیسے لاکھوں روزگار بنے۔ آج ایک نوجوان ساہیوال میں بیٹھ کر اے آئی سے لوگو بنا کر امریکہ میں بیچ رہا ہے۔ ایک بچی گوجرانوالہ میں بیٹھ کر اے آئی وائس اوور سے یوٹیوب چینل چلا رہی ہے۔ اصل سوال نوکری جانے کا نہیں‘ ہنر بدلنے کا ہے۔ چوتھا روشن پہلو تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ ہے۔ بہت سے ادیب پریشان ہیں کہ اے آئی لکھے گی تو ہم کیا کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اے آئی لکھ نہیں سکتی‘ وہ صرف جوڑ توڑ کر سکتی ہے۔ درد‘ ہجرت‘ ماں کی گود کا لمس‘ پہلی محبت کی ناکامی‘ یہ لطیف جذبات اے آئی کے پاس نہیں۔ لیکن ہاں! یہ ایک بہترین معاون بن سکتی ہے۔ آپ ایک خاکہ دیں‘ وہ اسے پھیلا دے گی۔ آپ غزل کا ایک مصرع دیں‘ وہ اس پر زمینیں دے دے گی۔ یہ قلم کو چھینتی نہیں بلکہ اسے تیز کرتی ہے۔
اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اور ان خدشات پر بات کی جائے جن سے آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ جس طرح ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی‘ اس مصنوعی چمک کے پیچھے کچھ بہت گہرے اندھیرے بھی ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔ سب سے بڑا نقصان سچ اور جھوٹ کی تمیز کا خاتمہ ہے۔ یہی میرا سب سے بڑا اندیشہ ہے۔ پچھلے مہینے ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک معروف سیاسی رہنما ایسی بات کہہ رہا تھا جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں۔ بعد میں پتا چلا وہ ڈیپ فیک تھی۔ مصنوعی ذہانت سے اب کسی کی بھی شکل‘ آواز‘ چال ڈھال بنائی جا سکتی ہے۔ آنے والے الیکشن میں‘ آنے والے فسادات میں‘ یہ سب سے خطرناک ہتھیار بنے گا۔ جب ہم کسی وڈیو پر ہی یقین نہیں کر سکیں گے تو معاشرہ کس پر یقین کرے گا؟ عدالت کس ثبوت کو مانے گی؟ میڈیا کس کو سچ کہے گا؟ یہ محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں‘ یہ تہذیب کے بھروسے کا بحران ہے۔ یہ انسانی دماغ کی سستی اور تنزلی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ہم نے کیلکولیٹر آنے کے بعد پہاڑے یاد کرنا چھوڑ دیے۔ گوگل آنے کے بعد راستے یاد کرنا چھوڑ دیے۔ کیا اب اے آئی کے بعد سوچنا بھی چھوڑ دیں گے؟ مبینہ طور پر یونیورسٹیوں میں طلبہ تھیسس اے آئی سے لکھوا رہے ہیں۔ سکول کے بچے مضمون اور ماڈلز اے آئی سے بنوا رہے ہیں۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس کے پاس معلومات تو بہت ہوں گی لیکن اپنی عقل اور شعور کم ہوگا۔ جس کے پاس جواب تو ہوں گے لیکن سوال پوچھنے کی جستجو نہیں ہوگی۔ یاد رکھیے‘ جو افراد سوچنا چھوڑ دیتے ہیں‘وہ ٹیکنالوجی کے غلام بن جاتے ہیں اور یوں تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان ہو سکتا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہونے کے باعث معاشی ناہمواری بڑھ جائے گی۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں جائیں گی‘ خوش فہمی ہے۔ دس میں سے تین نوکریاں ضرور جائیں گی‘ بالخصوص جن میں دہرائے جانے والے کام زیادہ ہیں۔ مثلاً کال سنٹر‘ بنیادی اکاؤنٹنگ‘ عام ترجمہ‘ ڈیٹا انٹری وغیرہ۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے جہاں پہلے ہی 60 فیصد نوجوان بے روزگار یا نیم بے روزگار ہیں‘ یہ ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا فائدہ صرف چند بڑی کمپنیوں کو ہو رہا ہے۔ ڈیٹا ہمارا‘ محنت ہماری لیکن پیسہ سیلیکون ویلی کا۔ یہ ایک نئی قسم کی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے جو ڈیٹا کی صورت میں ہم سب کو نوآبادیاتی کالونی بنا رہی ہے۔
اس کے علاوہ اس سے منسلک کچھ اخلاقی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک خودکار گاڑی ایکسیڈنٹ کر کے کسی کو مار دے تو قاتل کون ہے؟ گاڑی بنانے والا‘ سافٹ ویئر لکھنے والا یا گاڑی میں بیٹھا شخص؟ اگر اے آئی کسی مریض کو غلط دوا تجویز کر دے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ہمارے قانون‘ ہماری فقہ‘ ہمارے اخلاقی اصول ابھی اس کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جس کا نقشہ ہمارے پاس ہے ہی نہیں۔ یہاں پر سب سے بڑا سوال یہی ہے۔ جب ایک تنہا بوڑھا اپنی شامیں ایک چیٹ بوٹ کے ساتھ گزارنے لگے گا جو اسے ہر بات پر ''جی بالکل! آپ درست کہتے ہیں‘‘ جیسے جواب دے گا تو وہ حقیقی انسانوں کی تلخی‘ اختلاف اور محبت کو کیسے برداشت کرے گا؟ مصنوعی ذہانت ہمیں بہت میٹھی‘ بہت فرمانبردار‘ بہت مطلبی دنیا دے رہی ہے۔ لیکن انسانیت کا حسن تو اس کی خامیوں‘ اس کے اختلاف اور اس کی قربانی میں ہے۔
تو پھر راستہ کیا ہے؟ راستہ دکھائی نہ دے تو آنکھیں بند کر کے چلنا ہے‘ اور نہ ڈر کر اس سے اجتناب کرنا ہے۔ راستہ بیچ کا اپنا ہے‘ اور وہی ہمارا تاریخی راستہ رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ایک قومی اے آئی پالیسی بنائے۔ سکول کے نصاب میں اے آئی لٹریسی شامل کی جائے۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ اے آئی سے سوال کیسے پوچھنا ہے‘ اور اس کے جواب پر کیسے شک کرنا ہے۔ اگر ہم نے اردو‘ پنجابی‘ سندھی‘ پشتو میں اپنا اے آئی ماڈل نہ بنایا تو کل ہماری نسلیں انگریزی ماڈل سے اپنی تاریخ پوچھیں گی جو ہمیں ہماری تاریخ‘ ہماری نظر سے نہیں دوسروں کی نظر سے بتائے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنا ڈیٹا محفوظ کرنا ہے اور اپنی زبانوں میں بڑے ماڈلز بنانے ہیں۔ ہمیں ہر جگہ لکھنا ہوگا کہ یہ مواد اے آئی سے بنا ہے یا انسانوں نے بنایا ہے۔ ہمیں عدالتوں‘ ہسپتالوں اور کلاس رومز میں فیصلہ کرنے کا حتمی حق اپنے پاس ہی رکھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت وکیل کو تو کیس کی تیاری میں مدد فراہم کر سکتی ہے مگر عدالت میں اپنے کلائنٹ کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ مشین مشورہ تو دے سکتی ہے‘ فیصلہ نہیں کر سکتی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved