جب تک زندہ تھا سگی ماں‘ دادا اور ننھیال جیسے خونی رشتے وارث بننے سے انکاری رہے۔ نانا نے بوجھ اتارنے کے لیے یتیم خانے کے حوالے کر دیا‘ یتیم خانے نے اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ٹھیکیدار کے سپرد کر ڈالا اور ٹھیکیدار نے دردناک موت سے دوچار کیا تو سبھی وارث بن گئے۔ بین کرتی ماں ہو یا دہائی دیتے دیگر خونی رشتے دار‘ محلے دار ہوں یا عزیز و اقارب‘ اتنے وارثان تھے تو لاوارث کیوں مرا؟ مرنے کی دیر تھی سرکار بھی وارث بن بیٹھی‘ پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا اور ملزم گرفتاری کے بعد 24 گھنٹوں سے پہلے ہی دورانِ ریمانڈ پار ہو گیا۔ یعنی جب تک مرے نہ تھے کوئی پوچھتا نہ تھا۔ مرتے ہی اتنی پذیرائی‘ اتنی ہمدردی اور محبتیں‘ تعجب ہے! کیسا مردہ پرست معاشرہ ہے‘ زندوں کیلئے ذلت‘ دھتکار‘ پھٹکار کے علاوہ محتاجی کی زندگی۔ تنگ آکر کوئی مر کے دکھا دے تو یہی معاشرہ سروں پہ اٹھا لیتا ہے۔ 15سالہ وسیم زندگی کی تلاش میں اتنا بھاگا کہ کم سنی میں ہی مارا گیا۔ باپ نے دنیا سے منہ کیا موڑا اپنے پرائے‘ سگے سوتیلے سبھی نے منہ موڑ لیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی آنکھ نے دہشت اور بربریت کے سبھی مناظر محفوظ نہ کیے ہوتے تو شاید سانحہ اتنی شہرت ہی نہ پاتا۔ دلخراش واقعے کی وڈیو اس طرح وائرل ہوئی کہ غم و غصے سے بھرے عوامی ردّعمل پر پولیس نے اس قدر تیزی دکھائی کہ چندگھنٹوں میں ہی قصہ ختم کر ڈالا۔
سوشل میڈیا پر مبینہ پولیس مقابلے میں جہاں ٹھیکیدار توقیر کی ہلاکت پر خوب دانشوری جھاڑی جا رہی ہے‘ کوئی فوری انصاف کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے تو کوئی اسے عجلت کی کارروائی قرار دے رہا ہے۔ وہی گھڑی گھڑائی کہانی اس بار بھی دہرائی گئی ہے۔ ملزم کے ساتھی چھڑوانے آئے اور فائرنگ کے تبادلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارا گیا۔ سفاک قاتل کی ہلاکت پر قطعی کوئی اعتراض ہے نہ افسوس! جیسی کرنی ویسی بھرنی! لیکن پہلے سے کھڑے کئی سوالات کو مزید کڑے سوالات کا سامنا ہے۔ پولیس مقابلوں کی تاریخ خاصی پرانی ہے‘ مخصوص ادوار میں یہ مقابلے کبھی سیلابی رفتار سے ہوتے چلے آئے ہیں تو کبھی طوفانی رفتار سے ۔ جبکہ بیشتر ادوار میں ان کا گراف اور رجحان کبھی نچلے درجے پر رہا ہے تو کبھی نہ ہونے کے برابر۔ گھسا پٹا سکرپٹ اس قدر گھس چکا ہے کہ لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون بخوبی پڑھا جا سکتا ہے اور ایک ہی مضمون کو اُلٹا پلٹا کر سالہا سال سے کام چلایا جا رہا ہے۔ سبھی واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ پولیس مقابلوں کو سرکاری سرپرستی کب کب اور کس طرح حاصل رہی ہے۔
ان مقابلوں کی مجہول روداد ڈی کوڈ کریں تو معرکے سے کہیں زیادہ نالائقی اور نااہلی کے اشارے تقویت پاتے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس تحویل سے فرار کی کہانی ہو یا ملزم کے مسلح ساتھیوں کی آمد‘ چھڑانے کی کوششوں میں فائرنگ کا تبادلہ اور ملزم کی ڈرامائی ہلاکت تک سبھی مراحل کی منظرکشی پر اٹھنے والے سوالات جوابات سے محروم ہی پائے گئے ہیں۔ حالیہ مقابلوں کا چربہ دکھائی دینے والا ہر مقابلہ سسٹم اور متعلقہ اداروں کیلئے الارمنگ بنتا چلا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار توقیر کی پولیس مقابلے میں ہلاکت سے کیس پر کھیس تو ڈال دیا گیا ہے لیکن یہ معمہ بدستور حل طلب ہے کہ ٹھیکیدار بچے کے تعاقب میں اس حد تک کیونکر چلا گیا کہ اس کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ایسی کون سی افتاد آن پڑی تھی کہ کام سے بھاگ جانے والے بچے کو ڈھونڈنے کیلئے وہ سوسائٹی کی گلیوں میں پاگلوں کی طرح گاڑی دوڑائے پھر رہا تھا؟ ایک خاتون صوبائی وزیر نے بچے پر ٹوٹنے والی قیامت کا عقدہ کھول ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک خاتون ایم پی اے نے ایکس (ٹویٹر) پر اس مقابلے کا کریڈٹ وزیراعلیٰ کو دینے کی کوشش کی تو اتنا شدید ردّعمل آیا کہ حرفِ غلط کی طرح مٹانا پڑ گیا۔ اپنوں کے ٹھکرائے ہوئے‘ زمانے کی ٹھوکروں اور یتیم خانے کے رحم و کرم پر پلنے والے 15 سالہ وسیم عباس کے شب و روز اور ماہ و سال کی جمع تفریق کریں تو محرومیوں‘ مایوسیوں اور دھتکار‘ پھٹکار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ یہ دلخراش واقعہ ریکارڈ ہو گیا‘ پھر رپورٹ ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہو گیا تو دوڑیں لگ گئیں۔ معصوم کے کچلے ہوئے لاشے نے سسٹم کو بھی انگڑائی لینے پر مجبور کر دیا۔ یاد رہے! ایسے کتنے ہی وسیم یتیم خانوں‘ پاگل خانوں سمیت نجانے کون کون سے خانوں میں زمانے کے ستم سہہ رہے ہیں۔
کیا ریاست کے ایکشن کیلئے مظلوم کا مرنا اور وائرل ہونا ضروری ہے؟ فوری انصاف کے شادیانے بجانے والوں کے سامنے ایک سوال بار بار منہ چڑا رہا ہے کہ آسٹریلیا پلٹ چکوال کی معصوم ہانیہ کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے جھاکا اُترے ملزمان کے ساتھی کب چھڑوانے آرہے ہیں؟ کاش کسی دن خبر آئے کہ معصوم ہانیہ کے ملزمان فرار ہو کر رکشے پر جا رہے تھے کہ ناکے پر پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر گھات لگائے ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور فائرنگ کے تبادلے میں مفرور ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے۔ کاش یہ خبر بھی ملتی کہ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے ہائی پروفائل ملزمان کے ہائی پروفائل ساتھی لگژری گاڑیوں میں چھڑانے آئے تھے اور پولیس پارٹی نے تعاقب کیا تو ملزمان نے فائر کھول دیا‘ وغیرہ وغیرہ... باقی سکرپٹ تو ریڈی میڈ اور کم و بیش وہی ہوتا ہے۔ ایک آدھ کیس رپورٹ اور وائرل ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ معاشرہ زندہ اور ادارے اپنا کام مستعدی سے کر رہے ہیں۔ ایسے درجنوں‘ سینکڑوں اور ہزاروں دلخراش واقعات مملکتِ خداداد کے طول و عرض میں صبح دوپہر شام تواتر سے ہورہے ہیں جو رپورٹ اور وائرل نہ ہونے کی وجہ سے انصاف اور دادرسی سے محروم رہتے ہیں۔ خون میں لت پت لاشہ 15سالہ وسیم کا نہیں بلکہ سماج اور اس کے ٹھیکیداروں کا ہے‘ اس سسٹم کا ہے۔ عدالتوں کے احاطوں میں قتل و غارت کے پسِ پردہ عوامل کے تانے بانے بھی اسی سسٹم اور گورننس سے جا ملتے ہیں۔ انصاف کی تلاش میں عدالتوں میں بھٹکنے والے تنگ آمد بجنگ آمد جیسے انتہائی اقدام پر یونہی مجبور نہیں ہوتے۔ قانون کے احترام کے بجائے اداروں کی دہشت کو نصب العین بنا کر مجرم تو مارے جا سکتے ہیں لیکن اس سے جرم کی پنیری کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ادھر اسلام آباد کی لائبہ کو سنہرے مستقبل کے خواب دکھا کر بھاری رقم ہتھیانے والا ایجنٹ بھی اپنے ساتھیوں کے نرغے میں آکر مارا گیا۔ لائبہ کی خودکشی کا ذمہ دار یقینا یہی ایجنٹ تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک بھر میں ایسے خواب فروش ایجنٹوں کے سبھی ٹھکانے تو واقفانِ حال خوب جانتے ہیں‘ اکثر تو اتنے جانے مانے ہیں کہ سبھی خاص و عام پہچانتے بھی ہیں لیکن ہدف پر وہی آتا ہے جو وائرل ہو جاتا ہے۔ یہ تماشا یونہی جاری رہے گا بس تماشائی بدلتے رہیں گے۔ وضاحت کیلئے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
عجب سا شور و غل ہے کیسا یہ سنسار ہے لوگو!
ہر اک اس زندگی سے برسرِ پیکار ہے لوگو!
وہی جیتا ہے یاں جو صاحبِ دستار ہے لوگو!
کہ بازارِ دنیا بھی عجب بازار ہے لوگو!
کسی کو پیٹ کی خاطر نہیں روٹی میسر بھی
کسی کے پاس اتنا ہے نہیں گننے کی فرست بھی
امیرِ شہر خوش ہے مفلسی آزار ہے لوگو!
کہ بازارِ دنیا بھی عجب بازار ہے لوگو!
کوئی ہنسنے ہنسانے کی اداکاری جو کرتا ہے
مگر جینے کی خواہش میں ہزاروں بار مرتا ہے
نہیں سودا بدلتا یاں تو سودائی بدلتے ہیں
تماشا کب بدلتا ہے تماشائی بدلتے ہیں
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved