تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     23-10-2026

دماغ، موت اور سائنس

اللہ تعالیٰ نے آخری آسمانی کتاب قرآن مجید اپنے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ پر نازل فرمائی۔ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ایک سورت سیدنا ہود علیہ السلام کے نام پر ہے۔ یہ اللہ کے رسول تھے جنہیں احقاف کے علاقے میں مبعوث فرمایا گیا۔ یہ علاقہ سعودی عرب‘ عمان اور یمن کے پاس ''ربع الخالی‘‘ کے ریگستان میں واقع ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ہزاروں سال پہلے کا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے جب اپنی فسادی قوم کو دعوتِ حق دی تو وہ دھمکیوں پر اتر آئے۔ اس پر ہود علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا: ''میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے جو میرا بھی پالنہار ہے اور تمہاری ضروریات کو بھی پورا کرنے والا ہے۔ (یاد رکھو!) زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا ماتھا اللہ تھامے ہوئے نہ ہو‘‘ (ہود: 56)۔
یاد رہے! دماغی خلیات کو میڈیکل کی زبان میں ''نیورون‘‘ کہا جاتا ہے۔ دماغ کے ماہر ڈاکٹر کو 'نیورولوجسٹ‘ کہا جاتا ہے۔ جدید دماغی ریسرچ کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں کوئی 86ارب نیورونز ہیں۔ یہ ایک سادہ سا تخمینہ ہے۔ یہ ایک کھرب بھی ہو سکتے ہیں۔ ہر دو نیورون کے درمیان ایک خلا ہوتا ہے۔ یہ خلا اس وقت پُر ہوتا ہے جب یہ آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یوں باہمی گفتگو کے دوران جو چمک پیدا ہوتی ہے اسے Synapse کہتے ہیں۔ دماغ کے پورے نظام کے اندر ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ سو کروڑ کا ایک بلین ہوتا ہے اور ایک ہزار بلین کا ایک ٹریلین۔ اور اگر یہ تعداد ایک ہزار ٹریلین ہو تو بات کہاں جائے گی!
راقم نے ایک سادہ سا اندازہ لگایا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ہر Synapse کو اگر 10 واٹ کا ایک بلب سمجھا جائے تو ہماری زمین ایسے بلبوں سے بھر جائے اور اتنی زیادہ روشنی ہو گی کہ رات بھی دن کا نظارہ پیش کرنے لگے گی۔ ہماری ملکی وے گلیکسی کہ جس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کا فاصلہ 27 ہزار نوری سال ہے‘ یعنی تقریباً 9.46 ٹریلین کلو میٹر۔ مطلب ہر سیکنڈ میں روشنی کی رفتار (تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) کی رفتار سے چلا جائے تو 27 ہزار سال میں ملکی وے کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ سکیں گے۔ اس میں ہزاروں ٹریلین سٹارز ہیں۔ امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے چند ماہ قبل جیمز ویب سپیس سے لی گئی قابلِ مشاہدہ کائنات کی تصویر شائع کی اور اس کے ساتھ ہی انسانی دماغ کی تصویر شائع کی تو دونوں تصاویر ایک جیسی دکھائی دیتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس خالق نے انسان کا دماغ بنایا ہے‘ اسی خالق نے کائنات بنائی ہے۔ انسانی دماغ بھی اسی کے کنٹرول میں ہے اور کائنات کی گلیکسیاں‘ گلیکسیوں کے جھرمٹ اور جھرمٹوں کے سپر جھرمٹ وغیرہ بھی سب اسی خالق کے کنٹرول میں ہیں۔
آج ہماری سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ '' نیورون‘‘ کی تصویر بھی ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ میں نے اس تصویر کو دیکھا تو یہ ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں ہیں۔ ان جڑوں کے مختلف فنکشنز ہیں۔ پھر تنے کے مختلف اجزا ہیں۔ ہر جزو کی الگ خصوصیات ہیں۔ پھر شاخیں ہیں۔ ان شاخوں کی اپنی خصوصیات اور کارکردگی ہے۔ ان کے پتوں اور پھلوں کی موجودگی اور ان کی خصوصیات پر ابھی پردہ پڑا ہے۔ یہ ایک نیورون کی بات ہے الغرض! بالغ انسان کے دماغ کا وزن تیرہ یا چودہ سو گرام کے قریب ہے۔ وہ اپنے اندر کائنات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ چلتا ہے تو فریج کے ایک چھوٹے سے بلب کی برابر بجلی سے چلتا ہے۔ یہ اتنا بڑا اعجاز ہے‘ اورہر انسان کے دماغ میں ہے کہ سمجھ سے باہر ہے۔ ہماری مصنوعی ذہانت کا نظام جو ڈیٹا سنٹرز میں جمع ہے‘ اس پر رواں سال یعنی 2026ء میں بجلی کی کھپت 565 ٹیرا واٹ تک پہنچنے کو ہے۔ اللہ اللہ! انسانوں کے مونہوں سے نکلے ہوئے الفاظ اور لکھی ہوئی تحریریں ڈیٹا سنٹروں میں دنیا بھر کے بجلی گھروں پر ایک بوجھ بن گئی ہیں جبکہ اصلی ڈیٹا سنٹرز یعنی آٹھ ارب سے زیادہ انسانوں کے دماغ معمولی سی بجلی پر چل رہے ہیں۔ ان کو اگر مصنوعی بجلی پر چلانا پڑ جائے تو موجودہ زمین جیسی سینکڑوں زمینیں بجلی گھروں سے بھر جائیں گی‘ پھر بھی انسانوں کے دماغوں کی بجلی کی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں گی۔ پرندوں‘ درندوں‘ چرندوں‘ مچھلیوں اور حشرات الارض کے دماغ اس کے علاوہ ہیں۔نتیجہ یہی ہے کہ انسان کو اپنا ماتھا زمین پر رکھ کر ''سبحان ربی الاعلیٰ‘‘ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس سے بھاگے گا تو سوچوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹکریں مار مار کر مر جائے گا۔ دنیا بھی اندھیرے میں اور آخرت بھی برباد۔
اللہ کے رسولﷺ نے آگاہ فرمایا کہ انسان کی موت کے وقت اس کے پاس ''ملک الموت‘‘ یعنی موت کا فرشتہ آتا ہے۔ (بائبل میں اس فرشتے کا نام عزرائیل بتایا گیا ہے‘ جو ہمارے ہاں بھی معروف ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک سے زائد فرشتے ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم) وہ فرشتہ فوت ہونے والے شخص کے سرہانے کے پاس بیٹھتا ہے اور اسے کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی خوشنودی اور رضامندی کی طرف آ جا۔ یعنی فوت ہونے والے شخص نے اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی کا خیال رکھا۔ اسے اپنی اولین ترجیح بنا کر زندگی کو گزارا تو موت کے دن روشن چہروں والے نورانی فرشتے اسے سلام کہیں گے اور پھر جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے اپنے ساتھ علیّین میں لے جائیں گے۔ نیورولوجی کی جدید سائنسی تحقیق واضح کر چکی ہے کہ ''کلینکل ڈیتھ‘‘ کے بعد دماغ کی سرگرمیاں یکدم اس قدر عروج پر چلی جاتی ہیں کہ جس کی مثال انسانی زندگی میں نہیں ملتی۔ خصوصاً یادداشت کا دماغی شعبہ جس قدر تیز ہوتا ہے‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیتی ہوئی زندگی لمحوں میں سامنے آ کر گزر جاتی ہے۔ جی ہاں! یہی وہ وقت ہے جو انسان کے خوش ہونے یا واویلا کرنے کا وقت ہوتا ہے۔
حالیہ ہفتے میں ہمارے دو قریبی بھائی ہم سے جدا ہو گئے۔ ان میں سے پہلے جو روانہ ہوئے وہ چودھری محمد سرور ابو الہاشم تھے۔ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں اقامت کہی جا رہی تھی۔ وہ وضو کرکے‘ نماز پڑھنے کے لیے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔ مسنون دعا پڑھتے ہوئے آ رہے تھے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد کریمﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور دنیاوی آلودگیوں (حسد‘ چغلی‘ بدگمانی اور ٹوہ وغیرہ) سے بچا کر پاک صاف لوگوں میں شامل کر دے۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے چکر آیا تو گر پڑے۔ نیچے گرتے ہوئے سر سیڑھی سے ٹکرایا۔ خون کا ایک فوارہ پھوٹا۔ پھر یہی سر نیچے فرش سے جا لگا۔ ملک الموت تیار کھڑا تھا۔ روح نے پرواز پکڑ لی۔ مسجد میں جماعت ابھی کھڑی نہیں ہوئی تھی۔ نمازی دوڑے مگر چودھری سرور دنیا کے قید خانے سے آزاد ہو کر اپنے خالق ومالک کی آزاد اور خوبصورت سروری میں قدم رکھ چکے تھے۔ ان شاء اللہ!
اتوار کے روز اس غم سے گزرے تو تین دن بعد بدھ کے دن چودھری ثاقب صاحب کا فون آیا کہ عبدالحمید صاحب فوت ہو گئے ہیں‘ جنازہ آپ پڑھا دیں۔ علاقے کی محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ خدمت خلق میں دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ وسیع میدان میں لوگ ہی لوگ تھے۔ آنسو اور سسکیاں تھیں۔ اللہ ان دونوں کی اور سب اہلِ اسلام کی مغفرت فرمائے۔ ہمیں آخری سفر کے لیے ہر دم تیاری کرنے کی توفیق ملے۔ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved