تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     24-10-2026

تحریک انصاف: دوست اور دشمن کے درمیان

ایک سیاسی جماعت ہے‘ جو عوام میں مقبول ہے۔ اس کا لیڈر ایک کرشماتی شخصیت کا مالک ہے جس سے لوگ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ اس میں کوئی خرابی نہیں دیکھتے۔ ان کا حسنِ ظن ہے کہ وہ ان کا نجات دہندہ ہے۔ روایتی سیاست اور سیاستدانوں کو‘ وہ خیر سے یکسر محروم سمجھتے ہیں۔ یہ جماعت اور لیڈر جب اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو انہیں ریاستی اداروں کی تائید بھی میسر تھی۔ اس وقت ان اداروں کے بارے میں‘ ان کی رائے اچھی تھی۔ ایک وقت آیا کہ وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ ان پر پارلیمنٹ نے عدم اعتماد کیا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کامؤقف ہے کہ یہ امریکی دباؤ پر ہوا‘ ان کے لیڈر نے جس کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اقتدار سے محرومی دراصل غلامی قبول نہ کرنے کی سزا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور کچھ اور افراد نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کے دوبارہ حصول کے لیے پارٹی نے احتجاج کا راستہ اپنایا‘ جسے وہ اپنا جمہوری اور آئینی حق سمجھتی ہے۔ یہ احتجاج ایک مرحلے پر پُرتشدد ہو گیا۔ ریاستی ادارے بھی اس کی زد میں آ گئے۔ ان اداروں کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنا مجرم قرار دے دیا گیا۔ اس دوران میں ان کے لیڈر کے ساتھ مرکزی قیادت بھی گرفتار ہو گئی۔ اداروں پر حملے کو ریاست نے سنجیدگی کے ساتھ لیا اور پارٹی کیلئے کام کرنا مشکل بنا دیا گیا۔ لیڈروں پر مقدمات قائم ہوئے۔ انہیں سزائیں بھی سنا دی گئیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم ہوا۔ اس کشمکش نے تلخی کو بڑھا دیا۔ پارٹی نے سیاستدانوں کے ساتھ ریاستی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا کی مدد سے ادارے اور اس کے سربراہ کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی گئی۔ اس کا ناگزیر نتیجہ ریاست کے ساتھ تصادم تھا۔
ان حالات میں پارٹی کو نہ صرف اپنی بقا کا سامان کرنا تھا بلکہ اپنے لیڈر کو رہا بھی کرانا تھا۔ اس کے سامنے یہی دو بڑے مقاصد ہیں۔ اس کی خواہش ہے کہ پارٹی کو تمام سیاسی آزادیاں حاصل ہوں۔ اس کا لیڈر قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے اور اس کے خلاف تمام مقدمات ختم ہوں‘ جو اس کے نزدیک سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پارٹی یہ مقاصد کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہو کہ اس کا لیڈر رہا ہو کر سیاست میں فعال ہو اور وہ ایک سیاسی جماعت کی طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔
یہ سوالات سامنے آئے تو زبانِ حال اور زبانِ قال سے اس کے دو جواب دیے گئے۔ ایک یہ کہ پارٹی اور اس کا لیڈر حق پر ہیں۔ جب آپ حق پر ہیں تو آپ مصالحت کا راستہ کیوں اختیار کریں؟ یہ راستہ وہ لوگ اپناتے ہیں جو بزدل ہوں۔ جن کا مؤقف حق پر مبنی نہ ہو۔ ان کے ساتھ ظلم روا رکھا گیا ہے۔ وہ ظالم سے مصالحت کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کے لیڈر کے سامنے تو اسوۂ شبیری ہے۔ وہ کبھی مصالحت کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ وہ اسے احتجاج کی طاقت سے رہا کرائیں گے اور ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔ ان کے پاس ایک صوبائی حکومت موجود ہے۔ یہ اس کے لیے نہیں ہے کہ اس کی مدد سے عوامی مسائل کیے جائیں۔ یہ حکومت عمران خان کی عطا ہے۔ اس کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس کی قوت‘ ان کی رہائی کے لیے استعمال ہو۔ اگر مذاکرات بھی ہوں گے تو صرف مقتدر قوتوں سے۔ سیاسی حکومت تو نمائشی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ پارٹی کے بعض لوگوں کے اصرار پر سیاسی حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن اسے بالعموم قبول نہیں کیا گیا۔ ایسے لوگوں کی لیڈر سے وفا داری کو مشکوک سمجھا گیا۔
دوسرا جواب یہ تھا کہ سیاست چونکہ امکانات کا کھیل ہے‘ اس لیے حکمت یہ ہے کہ اپنے لیے راستہ تلاش کیا جائے۔ مؤقف کی صداقت سے قطع نظر اگر آپ کے سامنے ریاست کھڑی ہے تو پھر اس کے ساتھ تصادم میں آپ کے لیے سراسر خسارہ ہے۔ درست طرزِ عمل یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں سے ربط و ضبط بڑھایا جائے اور ریاستی اداروں کو آئینی اور سیاسی جماعتوں کی معاونت سے اس کردار تک محدود کر دیا جائے جو آئین نے ان کے لیے طے کردیا ہے۔ سیاست میں فیصلہ ہمیشہ موجود امکانات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ یہ اقتدار کا کھیل ہے جس میں آپ کے مدمقابل‘ اپنی قوم کے لوگ ہیں‘ چاہے وہ سیاست کی نمائندگی کرتے ہوں یا ریاست کی۔ تصادم میں سب کا نقصان ہے۔ شیخ مجیب الرحمن نے یہ راستہ اپنایا تو وہ خسارے میں رہے اور ریاست بھی۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ اور نواز شریف صاحب کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا۔ مجلسِ عمل کو بھی ایسے حالات سے گزرنا پڑا۔ سب نے تصادم کے بجائے ریاستی اداروں کو راستہ دیا۔ کسی نے آٹھویں آئینی ترمیم کا ساتھ دیا اور کسی نے سترہویں کا۔ اس سے ملک میں جمہوریت کے لیے امکانات پیدا ہوئے۔ آپ کو بھی یہی راستہ اپنانا چاہیے۔ تصادم سے گریز اور سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر جمہوریت کی طرف سفر۔ یہی درست حکمتِ عملی ہو گی۔ جمہوری ریاست اور معاشرہ ارتقا سے بنیں گے۔ اس کے لیے صبر اور حکمت کی ضرورت ہے۔
پارٹی نے دوسرے راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ اس نے احتجاج پر اصرار کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیا جائے تو ریاست کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ گھٹنے ٹیک دے۔ یہ حکمت عملی بار ہا ناکام ہوئی۔ پھر وہ وقت آیا کہ یہ احتجاجی سیاست صوبائی حکومت کو بہا لے گئی۔ اس حکومت کے خاتمے پر بھی احتجاج کی کوئی لہر نہ اُٹھ سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے صوبے میں کہیں سو سے زیادہ افراد جمع نہ ہو سکے۔صرف باڑہ میں پانچ سو افراد کا اجتماع ہوا۔ تھوڑی دیر کیلئے مان لیں کہ یہ سب غلط ہوا۔ مگر یہ ریاست کی قوت اور اپنی قوت کے بارے میں ایک غلط تخمینے کا نتیجہ تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جماعت کو عوامی تائیدحاصل نہیں۔ یقینا حاصل ہے مگر یہ عوامی تائید مؤثر احتجاجی تحریک نہیں اٹھا سکتی۔ اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومت ختم ہو گئی۔ لیڈرکی رہائی کا امکان پہلے سے بھی کم ہو گیا۔ ریاست اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی قوت پہلے کی طرح باقی نہیں رہی۔
احتجاجی سیاست کا یہ نتیجہ نکل چکا۔ اب یہ جائزہ لینا آسان ہے کہ پارٹی کے لیے درست مشورہ کون سا تھا؟ پہلا راستہ تجویز کرنے والے پارٹی کے ہمدرد اور دوست تھے یا دوسرا راستہ دکھانے والے؟ پارٹی لیڈرکی عمر ڈھلتی جا رہی ہے۔ اگر وہ آپ کے نزدیک قوم کے نجات دہندہ ہیں تو وہ یہ کردار جیل میں رہ کر ادا کر سکتے ہیں یا پھر باہر نکل کر؟ یہ اقتدار کی سیاست ہے‘ اس میں راستے بنائے جاتے ہیں۔ موجود راستوں پر اپنے لیے کانٹے نہیں بوئے جاتے۔ یہاں یہ سوال بھی غیر اہم ہے کہ آج کے دانشور کا مؤقف کیا ہونا چاہیے؟ اس پر میں ان شاء اللہ الگ سے لکھوں گا۔ اس وقت تو ایک سیاسی جماعت کی حکمت عملی کا تجزیہ مطلوب ہے۔ جو حکمت عملی اپنائی گئی‘ اس کا نتیجہ سامنے آ چکا۔ پارٹی کے ہمدرد اب زیادہ آسانی سے رائے قائم کر سکتے ہیں کہ ان کا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ پہلا راستہ سجھانے والے یا دوسرا راستہ دکھانے والے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved