تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     24-10-2026

سرکار بس اعلان نہیں کر رہی

کبھی کبھی لگتا ہے کہ منیب الحق بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں‘ پیچھے کچھ نہ کچھ برا ہو جاتا ہے۔ جیسے میں اب پاکستان سے باہر ہوں تو پیچھے میرے ہی شہر ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم کو دولت کے نشے میں چور ایک ٹھیکیدار نے اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر بے رحمانہ طریقے سے مار دیا۔ لیکن پھر خیال آیا کہ میرے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تب پاکستان میں ہی تھا جب لائبہ نے خودکشی کر لی تھی۔ اب ان دونوں مظلوموں کے بالواسطہ یا بلاواسطہ قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ لیکن جو دل پہلے لائبہ اور وسیم کے لیے دکھی تھا وہ اب پاکستان میں ماورائے عدالت لا قانونیت کی بڑھتی ہوئی حاکمیت پر افسردہ ہے۔
میں شروع دن سے اس ملک میں متعارف ہونے والے ماورائے عدالت متوازی نظامِ انصاف کے خلاف ہوں۔ میرا مؤقف اس سلسلے میں بڑا واضح ہے کہ ریاستیں اور مہذب معاشرے اس طرح بالکل نہیں چل سکتے جس طرح فوری انصاف کا شارٹ کٹ نکال کر ہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست اور معاشرہ آئین‘ قانون اور انصاف سے چلتا ہے۔ عدل و انصاف آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست ان کاموں کی انجام دہی کے لیے اپنے اختیارات اداروں کو تفویض کرتی ہے اور ادارے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کو عدل و انصاف فراہم کرتے ہیں۔یہ ادارے خواہ انتظامی ہوں یا عدالتی‘ طے شدہ قواعدپر عمل کرنا اور عمل کرانا سب پر یکساں لازم ہے۔ لیکن جب ادارے ہی معاملات کو طے شدہ اصولوں اور قاعدوں کے تحت چلانے کے بجائے بے اصولی اور بے قاعدگی سے چلانے کی کوشش کر رہے ہوں تو اس کا انجام سوائے طوائف الملوکی کے اور کچھ نہیں نکلے گا۔ جو لوگ آج ''فوری انصاف‘‘ کے حکومتی اقدامات پر خوش ہو رہے ہیں‘ زیادہ دن نہیں گزریں گے جب اس فوری انصاف پر مامور لوگ گھن اور گندم کی تمیز بھول جائیں گے اور پھر یہی لوگ اس سارے سریع الحرکت ماورائے عدالت نظام انصاف کے خلاف شور مچائیں گے‘ لیکن ممکن ہے تب تک پانی سر سے گزر چکا ہو۔ یقین کریں میں بھی ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا خواہشمند ہوں لیکن سرکار نے جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کی کسی صورت میں بھی حمایت نہیں کر سکتا۔
اگر آپ غور کریں تو وسیم کو گاڑی کے نیچے کچل کر اس کی جان لینے والے کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے مبینہ پولیس مقابلے میں مار دینے کے درمیان کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ کوئی شخص انفرادی طور پر اپنی عدالت لگا کر سزا دے رہا ہے اور اس کے جواب میں حکومتی اداروں کے افسران بھی اپنی عدالت لگا کر کسی کی جان لینے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ انفرادی سطح پر طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی اس ملک کی اشرافیہ اپنی عدالت لگا کر اپنے ملزمان کو اپنے طور پر سزا دینے میں مصروف ہے جبکہ جواباً حکومت اپنے اداروں کے ذریعے قانون انصاف اور آئین کو پسِ پشت رکھتے ہوئے اپنی صوابدید پر فوری سزا دینے کے طریقہ کار پر عمل کر رہی ہے۔ یعنی اس ملک میں فرد اور سرکاری اداروں کا رویہ بالکل ایک جیسا ہے۔ اس ملک میں فرد سے لے کر اداروں تک نے آئین‘ قانون اور انصاف کو اپنی گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گاؤں دیہات میں لگنے والی پنچایتیں جب کسی ملزم کو سزا سناتی ہیں‘ وڈیروں کے ڈیروں میں بیٹھ کر کاروکاری کے جرم میں زندگی اور موت کے فیصلے کیے جاتے ہیں یا پسند کی شادی کرنے پر خاندان والے اپنی بیٹی کو غیرت کی بھینٹ چڑھاتے ہیں تو آخر ان میں اور جعلی پولیس مقابلے میں ملزموں کو پار کرنے کا فیصلہ کرنے والوں کے درمیان کیا فرق ہے؟ فرق صرف اتنا ہے کہ اول الذکر موت کے فیصلے کرنے والے لوگوں نے وردی نہیں پہنی ہوتی جبکہ مؤخر الذکر سزائے موت کے فرمان جاری کرنے والے باوردی لوگ ہیں۔ پنچایتیں‘ وڈیرے اور خاندان بھی قانون سے بالاتر ہو کر زندگی اور موت کے فیصلے کر رہے ہیں اور وردی والے انتظامی افسران بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ جب دونوں ایک جیسے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے ملزمان کو سزائیں سنا رہے ہیں تو پھر ایک ولن اور دوسرا ہیرو کیوں ہے؟ چلیں پنچایتوں‘ وڈیروں اور خاندان والوں کو تو ریاست کے قانون پر‘ اس ملک کے نظامِ عدل پر‘ قانون کی سربلندی پر اعتماد نہیں لیکن یہ حکومتی ادارے‘ افسران اور اہلکار جب ماورائے قانون جزا اور سزا کے نظریے کو لاگو کرتے ہیں تو وہ بھی ریاست کے آئین‘ قانون اور نظام انصاف پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب نظامِ عدل مسلسل ایک ہی قسم کی کہانی پر یقین کرتے ہوئے اس قسم کے ماورائے عدالت اقدامات پر آنکھیں بند کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا رہا ہے بلکہ وہ اس متوازی قائم کیے جانے والے ''نظامِ انصاف‘‘ کو مزید پھلنے پھولنے کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔ اگر یہ معاملہ ہے تو کیا اس ملک میں اس نظام کے جاری رہنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ اس مسئلے پر سب سے پہلے تو عدالتوں کو آواز اٹھانی چاہیے کہ ہماری موجودگی میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمارا کام وہ لوگ کیوں سر انجام دے رہے ہیں جو اس کام کیلئے نہ تو متعین کئے گئے ہیں اور نہ آئین و قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔
ان مبینہ پولیس مقابلوں میں پولیس ملزم کو برآمدگی کے لیے یا عدالت سے جیل لے جا رہی ہوتی ہے اسی اثنا میں ملزم کے مسلح ساتھی اسے چھڑانے آ جاتے ہیں۔ اس چھڑانے کی کوشش میں پولیس کو کچھ نہیں ہوتا جبکہ ہمیشہ ملزم مارا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی احمقانہ کہانی ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک بار چل سکتی تھی لیکن یہ کہانی مسلسل چل رہی ہے۔ عدالتوں میں یہ کہانی پیش ہوتی ہے۔ ذرا ذرا بات کی مین میخ نکالنے پراسیکیوشن‘ پولیس اور انتظامی افسروں کی طبیعت صاف کرنے والی عدالتیں اس پر خاموش ہیں۔ یہ کہانی دراصل ہمارے آئین‘ قانون اور نظامِ انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اس کہانی پر کسی شخص کو یقین نہیں لیکن یہ کہانی چل رہی ہے۔ اس کہانی کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ نظامِ عدل اپنی ذمہ داری سے جان چھڑوا رہا ہے۔ پولیس چالان بنانے اور تفتیش کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہی ہے۔ ریاست ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا قانون بنانے میں ناکامی کا اعتراف کر رہی ہے۔ غرض یہ کہانی ریاست‘ نظام انصاف اور پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اور اس کہانی کو تسلیم کر کے حکومت بھی یہ مان رہی ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق عوام کو انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بجائے اس کے کہ قانون ساز اسمبلیاں ان قانونی اسقام کو درست کرتیں‘ ریاست اپنی رِٹ قائم کرتی‘ عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کرتیں اور پولیس اپنا فرض کماحقہٗ طور پر سرانجام دیتی۔ سب نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے ایک نیا متوازی سریع الحرکت غیر قانونی 'نظام انصاف‘ وضع کرنے میں عافیت جانی ہے۔ آج بہت سے لوگ اس فوری نتائج کے حامل ''نظامِ انصاف‘‘ کو داد دے رہے ہیں لیکن یقین جانیے یہ کمپنی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ اس کے اثراتِ بد جب مزید جامے سے باہر ہوں گے تو پھر ہمیں احساس ہوگا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔ لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں قانون اور نظامِ عدل کی وفات حسرت آیات واقع ہو چکی ہے مگر سرکار بوجوہ اس کا نہ اقرار کر رہی اور نہ ہی اعلان کر رہی ہے۔ سرکار کی عقل کا اندازہ لگائیں کہ اس کا خیال ہے کسی کو اس فوتیدگی کا علم نہیں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved