تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     24-10-2026

عرش لرزا اور دل دہلا دینے والے مظالم

چند روز قبل پہلی مرتبہ یہ روح فرسا منظر ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا کہ یہ کوئی حقیقی منظر ہے یا فلمی سین۔ ملتان میں ایک سرپٹ دوڑتے بچے کا گاڑی بھگاتے چند انسانی درندے یوں پیچھا کر رہے تھے جیسے جنگل میں بھیڑیے سہمے ہوئے میمنے کا پیچھا کرتے ہیں۔ ان درندوں نے پندرہ سالہ یتیم بچے کو نہایت بیدردی کے ساتھ گاڑی کی ٹکر مار کر کچل دیا۔ اس سے آگے دیکھنے کا مجھے یارا نہ تھا۔ بچے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور بھی دلوں کو تڑپا دینے والی ہے۔ بدھ کی شب یہ خبر آئی کہ یتیم بچے کو کچلنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ پولیس مقابلہ اصلی تھا یا نہیں‘ اس کا فیصلہ عدالتیں کرتی رہیں گی۔ دیگر اسی نوعیت کے سوالات؛ جیسے جس یتیم خانے میں بچہ رہائش پذیر تھا اس کی کیا حالت اور حیثیت تھی‘ ان کے جوابات بھی تلاش کیے جاتے رہیں گے۔ مگر اس سانحے سے جو اہم ترین حقائق سامنے آئے ہیں ان سے ہمارے حکمران آگاہ تو ہیں لیکن ان تکلیف دہ حقیقتوں سے وہ آنکھیں ملاتے نہیں آنکھیں چراتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کا کوئی احترام ہے اور نہ ہی اس کا کوئی دبدبہ اور رعب ہے۔ ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کی ''حکم عدولی‘‘ ہوئی ہے یا کسی بچے نے اس کے پاس کام کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اب اسے چیونٹی کی طرح مسل دینے کا اسے مکمل اختیار ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں صرف ایک سال کے دوران 900سے لے کر 1000تک ملزمان اور مشتبہ افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے۔ جب کوئی توقیر جیسا درندہ صفت ملزم پولیس مقابلہ میں مارا جاتا ہے تو اس سے وقتی طور پر زخم خوردہ دلوں کو آسودگی تو مل جاتی ہے مگر سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ امن نام ہے قانون کی عملداری کا ہے۔ اس یتیم بچے وسیم کی ماں جس طرح سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس کیلئے بین کر رہی تھی اس سے یقینا عرش کانپ گیا ہو گا۔ ہمارے اوپر تنے آسمانوں تک بھی یہ آہ و زاری گئی ہو گی۔ فرمانِ مصطفیﷺ ہے کہ مظلوم کی آہ سے بچو! اس سے جڑا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا لاقانونیت کو لاقانونیت سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ دو تین روز قبل پنجاب کی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سی سی ڈی کے تمام کیسز میں مقابلے ہوتے ہیں‘ یہ بات بھی درست نہیں کہ وزیراعلیٰ نے پولیس مقابلوں کا حکم دیا ہے۔ درویش شاعر ساغر صدیقی نے کہا تھا:
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
شاعر نے تو فقیروں کی کمائی کی بات کی ہے مگر اب نوبت یتیموں کی زندگانی تک آ پہنچی ہے۔ ملک میں چائلڈ لیبر پروٹیکشن کے کئی ادارے موجود ہیں اور بے شمار قوانین بھی دستور کی کتابوں میں لکھے ہیں‘ مگر عملاً جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہماری تو وزیراعظم سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی ہے مگر جو لوگ ان کے دوست یا عزیز ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں شدتِ جذبات ہی نہیں شدتِ احساس بھی ہے۔ یقینا ایسے ہولناک سانحات سے ان کا دل بھی تڑپتا ہوگا مگر وہ سنجیدگی سے اس کا مداوا کیوں نہیں کرتے؟ حاکمِ پنجاب محترمہ مریم نواز خواتین اور بچیوں کے خلاف کسی طرح کے بھی ظلم کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی ہیں۔ تین چار روز قبل شیخوپورہ میں کم عمر گھریلو ملازمین پر ظلم اور تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق 12سالہ یتیم بچی‘ جو صرف چار ہزار روپے ماہانہ پر ملازمہ تھی‘ خاتونِ خانہ اور اس کے بیٹے نے نہایت درجے کی شقاوتِ قلبی سے کام لیتے ہوئے بچی کو اس بیدردی سے مارا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ شیخوپورہ ہی کی دوسری دس سالہ بچی پر تشدد کر کے اس کا بازو توڑ دیا گیا۔ منگل کے روز کنیرڈ کالج لاہور میں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ میں نے پنجاب کی بیٹیوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے تین سال دن رات کام کیا ہے اور پنجاب کو وومن فرینڈلی صوبہ بنا دیا ہے۔ یہاں پوچھنے والا سوال یہ ہے کہ ان تین برسوں میں ان غریب گھرانوں میں پیدا ہونے والی کلیوں کے بارے میں کیوں نہیں سوچا گیا کہ جو بن کھلے مرجھا جاتی ہیں اور اکثر اوقات ظالم معاشرے کے سفاک کرداروں کے ہاتھوں مسل دی جاتی ہیں۔ کیا یہ پنجاب کی بچیاں بچے نہیں؟ ثقہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ معصوم بچے زندہ رہنے اور اپنے والدین کا سہارا بننے کیلئے اس طرح کے ظلم و تشدد کا سامنا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اتنے درد ناک اور تشویشناک حقائق کی موجودگی میں اتنے بڑے بڑے دعوے کیسے کیے جاتے ہیں کہ مظلوم بچیاں ہماری ریڈ لائن ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب اگلے چھ ماہ منصوبہ بندی کریں اور پنجاب کے پانچ سے لے کر سولہ سال تک کی عمر کے ہر بچے اور بچی کی حفاظت اور تعلیم و تربیت کا فرض حکومت کے ذمے لیں۔ بے نوا اور بے وسیلہ بچوں کی کفالت و حفاظت کی اونر شپ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب پنجاب میں ہر بچہ سکول جائے گا‘ اسے کھانا‘ یونیفارم اور خوراک ملے گی تب وہ اپنے نیک دل حکمرانوں کو دعائیں دیں گے۔ پھر یہ ایک قابلِ تقلید مثال پاکستان کے ہر صوبے اور وفاق کے سامنے آ جائے گی۔ ''گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!‘‘
یوں تو وطنِ عزیز میں سیاست سے لے کر معیشت تک بے شمار مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے بجائے حکمرانوں نے لاینحل بنا دیا ہے تاہم اس وقت ہم زیر نظر دو مسائل پر ہی بات کو محدود رکھیں گے۔ پہلا اہم سوال یہ ہے کہ ملک میں اتنی قانون شکنی کیوں ہے؟ اگر فی الواقع چھوٹے بڑے‘ ملک کی ایلیٹ اور غریب کلاس سبھی قانون کا دل و جان سے احترام کریں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں‘ عدالتیں بغیر کسی دباؤ کے قانون کے مطابق فیصلے کریں‘ انتظامیہ پوری پوری امانت داری کے ساتھ قانون اور عدالتی فیصلوں کا نفاذ کرے‘ پولیس پوری فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے‘ حکمران انتظامیہ اور پولیس کو کوئی ماورائے قانون حکم نہ دیں تو پھر دیکھئے حقیقی احترام قانون کا کلچر قائم ہوتا ہے یا نہیں۔
اس وقت دوسرا پیشِ نظر مسئلہ غریب اور یتیم بچوں کے ساتھ معاشرے میں ہونے والے بدترین مظالم ہیں۔ اگرچہ ملک میں کئی ایک ویلفیئر ادارے بے وسیلہ بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا اعلیٰ درجے کا انتظام کرتے ہیں مگر ضرورت مند بچوں کی تعداد کے مقابلے میں یہ ادارے ناکافی ہیں۔ پہلے بھی ایک بار عرض کیا تھا کہ ایسے تمام سوالوں کا جواب خود مختار بااختیار لوکل حکومتیں ہیں۔ انتہائی نچلے درجے پر یہ مقامی حکومتوں اور دیہات کی منتخب کردہ کونسلوں اور کمیٹیوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ مقامی طور پر اعداد و شمار اکٹھا کریں اور اپنی مدد آپ کے تحت آغاز کریں۔ کوئی بے وسیلہ اور یتیم بچہ زیورِ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ بچے کے گھر والے ضرورتمند ہوں تو اُن کی بھی کفالت کی جائے۔ پنجاب میں بعض اہلِ علم و دانش اور اہلِ خیر نے مل کر چند ایسے ادارے قائم کیے ہیں جو ہر بچے کی تعلیم یقینی بناتے اور اس کے بے وسیلہ خاندان کی کفالت کا بھی انتظام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر واجب الاحترام اساتذہ‘ علمائے کرام اور اصحابِ علم و دانش کی کمیٹیاں ہونی چاہئیں جو یہ تجزیہ کریں کہ معاشرے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اتنی شقی القلب اور خود غرض کیوں ہو گئی ہے؟ ہمارے دور کے سلطان شہباز شریف ہیں انہیں احساس ہونا چاہیے کہ اگر معاشرہ ظلم سے بھر جائے اور مظلوموں کی آہ و زاری عرش کو لرزا دے تو پھر ایسی حکومتوں کا ہونا نہ ہونا برابر سمجھا جاتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved