میاں فاروق الطاف لاہور کیا پاکستان کے بڑے بزنس مین تھے۔ تجارت کی اور صنعتکار بھی بنے۔ کروڑوں کیا اربوں کمائے ہوں گے بلکہ کما رہے ہوں گے۔اُنکے اکلوتے بیٹے سلمان فاروق امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے واپس آئے بلکہ لائے گئے تو انہوں نے کاروبار سنبھال لیا۔ میاں صاحب نے اپنے آپ کو پاکستان کے نظریے کی ترویج و تبلیغ کیلئے وقف کر دیا۔ انکی نگرانی میں انکے فرزند ِ ارجمند کی نظریاتی تعلیم و تربیت بھی ہوتی گئی اور اب ماشاء اللہ وہ بھی اپنے والد کے فکر و عمل کی تصویر ہیں۔ میاں صاحب تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین تھے اور تحریک کے کارکنان کے متعلقین اور متوسلین کی خبر گیری میں مصروف رہتے تھے۔ ادارۂ نظریہ پاکستان کی باگ ڈور بھی انہی کے ہاتھوں میں تھی۔انہی کے زیر اہتمام ایوانِ قائداعظم کی تعمیر و تزئین کا کام مکمل ہوا اور پاکستان کی فکری اور نظریاتی اساس کی ترویج و اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی کورس منعقد ہوتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے اجتماعات کا اہتمام ہوتا ہے‘ہزاروں نوجوان یہاں سے تربیت حاصل کر کے پاکستان کے نظریاتی استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ادارۂ نظریہ پاکستان کے بانی چیئرمین مجید نظامی تھے‘ اسکے بعد یہ ذمہ داری سابق صدرِ پاکستان جسٹس محمد رفیق تارڑ نے اٹھائی‘ وہ بھی راہی ٔ ملک ِ عدم ہوئے تو یہ امانت جسٹس اعجاز نثار کے سپرد ہوئی۔ جسٹس صاحب کی صحت زیادہ سرگرمی کی اجازت نہیں دیتی‘ انکے سائے میں میاں فاروق الطاف نے ادارے کا نظم و نسق سنبھالے رکھا اور اسکے پُرخلوص کارکنوں کے ذریعے اسے فعال تر بنایا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے میاں صاحب گردوں کے مرض میں مبتلا تھے‘ ڈائلسیز شروع تھا‘ ان کے ہونہار بیٹے نے گھر ہی پر مشین نصب کروا لی تھی۔ میاں صاحب کمزور تو لگ رہے تھے‘ لیکن ان کا حوصلہ جوان تھا۔ یوم آزادی کی تقریب میں بھرپور شرکت کی‘ گفتگو بھی فرمائی۔اُمید تو یہی تھی کہ مرض پر قابو پائے رکھیں گے لیکن کسی وائرس کا حملہ ایسا ہوا کہ سانس کی تکلیف ہوئی‘ہسپتال پہنچے اور چند ہی روز میں اپنے بلند مرتبت رفقاسے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنے حضور طلب کر لیا تھا۔
میاں فاروق نے کم و بیش نو دہائیاں اسی شہر لاہور میں گزاریں۔ یہیں آنکھ کھولی تھی‘ یہیں تعلیم حاصل کی‘ یہیں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے آشنائی ہوئی اور یہی نعرے لگاتے لگاتے یہیں سے رخصت ہو گئے۔ وہ پاکستان کے سپاہی تھے اور عمر بھر سپاہی رہے۔جنرل بننے کا شوق کبھی نہیں پالا‘مناصب کے پیچھے بھاگے‘ نہ جاہ و جلال کی تمنا کی‘ اپنے حصے کا کام کرتے چلے گئے اور یہی کام اُنہیں ممتاز سے ممتاز تر کرتا چلا گیا۔جرنیلوں میں انہیں سپاہی سمجھا جاتا اور سپاہی انہیں جرنیل قرار دیتے۔ سپاہیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی‘اس لیے ان کی جرنیلی کا تاثر بھی زیادہ تھا۔ اُن کی طرح کمانے والے تو کئی ہیں لیکن خرچ کرنے والے کئی نہیں ہیں۔
وہ لاہور کی نواحی بستی باغبانپورہ کے آرائیں خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ سر محمد شفیع سے لیکر میاں افتخار الدین تک اور بیگم جہاں آراء شاہنواز سے لے کر میاں بشیر احمد تک اس خاندان کے افراد نے قومی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہر ایک کی اپنی کنٹری بیوشن ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہی میں میاں فاروق الطاف نمایاں ہوئے‘ان کے دادا ڈاکٹر تھے۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے اولین فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے ایک‘لیکن جوانی ہی میں انتقال کر گئے۔ والد نے سرکاری ملازمت شروع کی‘ لیکن پھر کاشتکاری کی طرف متوجہ ہو گئے۔ میاں فاروق نے تعلیم مکمل کی‘ تو دس ہزار روپے اپنے والد سے اُدھار لے کر کاروبار کا آغاز کیا‘چھ سات عشرے پہلے یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ تحریک پاکستان کے دوران'' بچہ مسلم لیگ‘‘ میں سرگرم رہے تھے‘ قیام پاکستان کے بعد بھی مسلم لیگ سے تعلق نہیں ٹوٹا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ‘ چودھری محمد حسین چٹھہ‘ سردار سکندر حیات‘خواجہ محمد صفدر‘زاہد سرفراز اور اقبال احمد خان کے ساتھ گاڑھی چھنتی رہی۔ محترمہ فاطمہ جناح ؒ صدارتی امیدوار بنیں تو ان کی انتخابی مہم میں دل و جان سے شریک ہوئے۔سیاست کو انہوں نے اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا‘ کاروبار کو سنبھالے رکھا اور بالآخر ادارہ نظریہ پاکستان کے ساتھ جڑ کر تعمیرِ قوم میں لگ گئے۔نوجوانوں کی نظریاتی تعلیم و تربیت ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ اس دوران لاہور میں کئی بستیوں کی تعمیر میں بھی کردار ادا کیا۔ ممتاز بینکار منظور صاحب جنہیں بابائے کوآپریٹو کہا جاتا ہے‘ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیز کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے تو انہوں نے میاں فاروق کو بھی شریک ِ سفر کر لیا۔بعدازاں سلمان فاروق ان کی بیٹی مریم سے بیاہے گئے۔ منظور صاحب اور فاروق صاحب سمدھی بن کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے۔ میاں صاحب کے انتقال کی خبر سنتے ہی منظور صاحب نے سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تعلق کی کہانی سنا ڈالی:''کنال ویو‘ ویلنشیا اور ازمیر لاہور کی قابلِ اعتماد کوآپریٹو سوسائٹیز کے میرے آخری ساتھی یعنی کو فائونڈر‘ Co-Founder آج دنیا سے رحلت کر گئے۔ میاں فاروق الطاف 1974ء سے میرے دوست تھے۔ ان دنوں میں یو بی ایل لاہور کا ایریا منیجر تھا اور میاں فاروق الطاف بینک کے وی آئی پی کلائنٹ تھے۔ مال روڈ کمرشل بلڈنگ کے اپر فلور پر میاں صاحب کا کمپنی آفس تھا۔ جب یو بی ایل کے ابتدائی سرمائے سے میں نے کنال ویو کو آپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کا منصوبہ بنایا تو منیجنگ کمپنی میں میاں فاروق الطاف نمایاں تھے۔ کینال ویو لاہور کی پہلی منظم کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی تھی جو کسی کمرشل ڈویلپر نے ذاتی منافع کیلئے نہیں بنائی تھی۔ ماڈل ٹائون کوآپریٹو سوسائٹی لاہور برطانوی دور میں1920ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ کنال ویو پاکستانی پنجاب میں پہلی کوآپریٹو ہائوسنگ تھی جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئی۔1979ء میں مجھے سعودی بینک میں سینئر پوزیشن میں ملازمت مل گئی۔جدہ ہی میں1987ء میں پاکستان ایکس پیٹری ایٹس کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کی کاغذی بنیاد پڑی۔ اتفاق سے اسی سال مجھے زیادہ بہتر پوزیشن کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے بینک میں جاب کی آفر آ گئی۔ اس بینک کے پریذیڈنٹ سلطان محمد خان صاحب تھے جو یو بی ایل کے زمانے میں میرے باس رہے تھے۔میری کارکردگی پسند کرتے تھے۔ مشرق بینک کے چیئرمین عبداللہ الغرید تھے۔ انہیں جب سلطان صاحب نے بتایا کہ کینال ویو میں نے بنائی ہے تو عبداللہ صاحب نے مجھے پاکستان میں اعلیٰ پیمانے پر خوبصورت ہائوسنگ پروجیکٹس بنانے کیلئے کہا۔ان ہائوسنگ پروجیکٹس کیلئے سو فیصد سرمایہ الغرید فیملی کا تھا۔ یہاں دوبارہ میاں فاروق الطاف کی مشاورت میرے لیے مشعلِ راہ بنی۔ ان کی معاملہ فہمی‘ خوش اخلاقی‘ دیانتداری اور دوست نوازی کی وجہ سے ویلنشیا اور ازمیر لاہور کی مثالی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیاں بن سکیں۔اللہ تعالیٰ سے بہت عجز کے ساتھ میاں صاحب کی مغفرت کیلئے دعا گو ہوں‘‘۔ آیئے‘ ہم سب بھی منظور صاحب کی اس دعا میں شریک ہو جائیں۔
لاہور چھائونی میں واقع ان کی وسیع و عریض رہائش گاہ میں قرآن خوانی کے بعد جامعہ اشرفیہ کے مولانا اعظم حسین نے دعائے مغفرت کیلئے ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا کہ قریبی مسجد کے امام کا نام سلمان ہے اور فاروق صاحب کے بیٹے کا نام بھی سلمان۔ مرحوم امام صاحب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی محبت انہیں اپنے بیٹے سلمان کے ساتھ تھی۔ مولانا اعظم حسین نے‘ جن کا تعلق صوابی سے ہے‘اس قدر رغبت اور محبت کے ساتھ دعائے مغفرت کرائی اور حاضرین نے اس یکسوئی اور محبت سے آمین کہا کہ اللہ کی رحمت برستی محسوس ہو رہی تھی۔ میاں فاروق الطاف غریق ِ رحمت ہو چکے تھے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved