مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب کالج اور یونیورسٹی پہنچے تو پہلی دفعہ یہ لفظ ''ویک اینڈ‘‘ سنا اور پڑھا۔ بڑا عجیب لگتا تھا کہ گوروں کے الگ ہی نخرے ہیں۔ یہ ویک اینڈ کس بلا کا نام ہے؟ یہ کیا بات ہوئی کہ دو دن کیلئے پوری دنیا سے دور‘ غائب‘ اپنی دنیا میں مگن۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر جب کبھی ویک اینڈ کی بات ہوتی تو مذاق اڑاتے کہ بڑا آیا انگریز۔ اُس وقت صرف ایک ہی چھٹی ہوتی تھی‘ جمعہ یا اتوار۔ پھر ویک اینڈ کے بارے میں مزید جانکاری ہوئی تو اندازہ ہونے لگا کہ یہ دو دن کی بریک انسانوں کیلئے کتنی اہم ہے۔ یہ دو دن اسے اس قابل کرتے ہیں کہ وہ اگلے ہفتے پانچ دن مسلسل اور اَن تھک کام کرسکے۔ اب ان دو دنوں میں اسے کوئی بھی ڈسٹرب نہ کرے۔ یہ اس کا وقت ہے‘ اس کی فیملی کا وقت ہے۔ اب اس نے اپنی بیٹری چارج کرنی ہے۔ چاہے اس کے دفتر پر قیامت ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے‘ اسے ای میل تک مت کریں‘ فون تو دور کی بات ہے۔ وہ ان دو دنوں میں ای میل کھول کر یا واٹس ایپ میسج پڑھ کر تھوڑا سا بھی سٹریس لینے کو تیار نہیں ہوتے کہ سوموار کو دیکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی گورے‘ یورپی یا امریکی ویک اینڈ پر کام نہیں کرتے۔ ہاں اُن دنوں میں ہم جیسے ایشیائی امیگرنٹس خوش ہو کر ویک اینڈ ڈیوٹی دیتے ہیں کیونکہ پیسے زیادہ ملتے ہیں۔ گورا کہتا ہے کہ میرا جسمانی اور ذہنی سکون سب سے اہم ہے‘ پاؤنڈز‘ ڈالر یا یورو نہیں۔ ہم ایشیائی کہتے ہیں کہ بھائی ہم نے جسمانی اور ذہنی سکون کا اچار ڈالنا ہے؟ ہمیں تو پاؤنڈز‘ یورو اور ڈالرز چاہئیں۔ وہ دے دیں‘ چاہے سات دن مسلسل چوبیس گھنٹے کام کرا لیں۔ اگر جسمانی اور ذہنی عیاشی درکار تھی تو پھر اپنا گھر اور ملک چھوڑ کر‘ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر یہاں اتنی دور کیا کرنے آئے ہیں؟ ہمیں پاؤنڈز‘ ڈالرز اور یورو ہی سکون دے سکتے ہیں۔ یوں گورا اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کی وجہ سے نوے سال یا ایک سو سال تک صحت مند رہتا ہے جبکہ ہم ایشیائی‘ خصوصاً پاکستانی پچاس سال کے بعد شوگر‘ امراضِ قلب یا دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خیر‘ بات ہو رہی تھی ویک اینڈ کی تو میں نے ان دو دنوں کو اس وقت سے انجوائے کرنا شروع کیا جب اسلام آباد میں دو چھٹیوں کا قانون لاگو کیا گیا۔ میرا ٹی وی شو سوموار سے جمعرات تک ہوتا ہے‘ چار دن۔ یوں کہہ لیں کہ میرا ویک اینڈ گوروں سے بھی طویل ہوتا ہے۔ ہم جو کبھی گوروں کا مذاق اڑاتے تھے اب ڈر کے مارے کسی کو نہیں بتاتے کہ ویک اینڈ کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کی ہم انسانوں کے جسم‘ دماغ اور روح تک کو کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ خیر‘ ویک اینڈ پر ان دنوں زیادہ تر کتابیں پڑھ لیں‘ فلمیں دیکھ لیں‘ دوستوں سے مل لیے یا پھر گاؤں کا چکر لگا لیا۔ فلموں میں مجھے ویسٹرن فلمیں بہت پسند ہیں۔ اس ہفتے ویسٹرن فلموں کے لیجنڈ اداکار ایسٹ کلنٹ وُڈ کی ایک فلم دیکھ رہا تھا‘ جس کے ایک سین نے مجھے بہت متاثر کیا اور اس نے دو تین منٹ میں پوری زندگی کی فلاسفی سمجھا دی۔ اُس سین میں وہ اپنے باس کے بیٹے کو اس کی ماں کے ہاں سے پِک کرکے‘ ایک مشکل سفر طے کرکے واپس لا رہا ہے اور راستے میں وہ دونوں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ فلم 2021ء کی ہے۔ اس وقت ایسٹ کلنٹ وُڈ بہت بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے۔ (اب بھی اس کی عمر 96 برس ہے)۔ لڑکا کہتا ہے کہ تم سخت جان ہوا کرتے تھے‘ اب تم کمزور ہو۔ تم تو سانڈوں پر سواری کرتے تھے‘ گھوڑوں پر سواری کرتے تھے۔ تم توپ چیز تھے۔ مائیک بولا: ہاں‘ یہ تو ہے۔ میں واقعی خود کو کچھ سمجھتا تھا۔ وہ لڑکا بولا: ہاں‘ تم طاقتور ہوا کرتے تھے‘ ایک مردِ میدان لیکن اب تو تم کچھ بھی نہیں ہو۔ مائیک بولا ''ہاں، میں پہلے واقعی بہت توپ چیز ہوا کرتا تھا لیکن اب نہیں ہوں۔ اور میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں کہ ہم انسان یہ مردانگی اور بہادری والی بات بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کیلئے تو بہادری والی بات بالکل ٹھیک ہو سکتی ہے (لڑاکے مرغے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) لیکن یہ بہادری بہت بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔ لوگ خود کو بہادر دکھانے یا بننے کی کوشش کرتے ہیں‘ صرف یہ شو کرنے کیلئے کہ ان میں بہت ہمت ہے۔ آخر میں ان کے پاس بس یہی کچھ رہ جاتا ہے۔ اور تم دوڑتے انسانوں کی بھیڑ میں نیچے بیٹھ کر ایک خطرناک سانڈ کو اپنے اوپر سے گزرنے دیتے ہو یا ایک وحشی گھوڑے پر بیٹھ کر اسے خود کو فضا میں پچاس فٹ اوپر تک اچھالنے دیتے ہو۔ ویسے یہ کتنا بے وقوفانہ کام تھا جو میں کرتا تھا۔ صرف ایک بے وقوف ہی ایسے پیشے میں ہوگا۔ اس وقت تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارے جواب ہیں‘ لیکن پھر جیسے جیسے تم بوڑھے ہوتے ہو تو تمہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ تمہارے پاس ان میں سے کسی ایک بات کا جواب بھی نہیں ہے۔ جب تک تمہیں یہ بات سمجھ آتی ہے‘ بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہم سب کو زندگی میں انتخاب کرنے پڑتے ہیں۔ بچے‘ تمہیں اپنا انتخاب کرنا ہے‘‘۔
اگر آپ اس سین میں سکرپٹ رائٹر کی لکھی گئی ان لائنوں کو غور سے پڑھیں اور ان کی گہرائی میں جانے کی کوشش کریں تو آپ کو زندگی کی حقیقت سمجھ آتی ہے کہ ایک چیز جو کبھی جوانی میں آپ کو بہادر بناتی ہے‘ مردانگی کا ٹائٹل لگتی ہے‘ جس پر آپ فخر محسوس کرتے ہیں اور خود کو خطرات میں ڈال کر بہادری کا ثبوت دیتے ہیں اور دنیا سے واہ واہ اکٹھی کرتے ہیں‘ وہی عمر گزرنے کے ساتھ آپ کیلئے کشش کھو دیتی ہے۔ عمر کے ساتھ آپ کو یہ سب کچھ عجیب اور بے وقوفانہ سا عمل لگتا ہے کہ کبھی آپ کو ایسی چیزیں کرنا بھی پسند تھا‘ ان میں خوشی محسوس ہوتی تھی اور لوگ واہ واہ کرتے تھے۔ بلے بلے آپ کے کانوں کو بھلی لگتی ہے۔ آپ خود کو ایک بھگوان سمجھ لیتے ہیں اور یہی یقین دلائے رکھتے ہیں کہ آپ کا یہ پرائم ٹائم ہمیشہ چلے گا۔ آپ ہمیشہ جوان رہیں گے‘ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔ یہی بات شاید میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بھارتی فلمی سپر سٹار راجیش کھنہ کی موت پر اس کے ایک دوست کا انٹرویو سنا تھا جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ اپنے عروج پر کھنہ کہتا تھا کہ اسے کبھی زوال نہیں آئے گا‘ وہ ہمیشہ جوان رہے گا‘ ہمیشہ سپر سٹار رہے گا۔ فلمی ولن رضا مراد نے راجیش کھنہ کے بارے میں کہا تھا کہ ایک وہ بھی دور تھا جب مشہور محاورہ بولا جاتا تھا کہ ''اوپر آقا، نیچے کاکا‘‘۔ کاکا راجیش کھنہ کا نِک نیم تھا۔ اور پھر دھیرے دھیرے جب کھنہ کا عروج ختم ہونے لگا تو اسے ڈپریشن نے گھیر لیا۔ آخر وہ دور بھی آیا کہ بڑھاپے کے ساتھ تنہائی نے گھیر لیا۔
میں اس مووی کلپ کی خوبصورتی میں کھویا رہا کہ کتنے لوگ ہوں گے جو اپنی جوانی گزرنے کے بعد مڑ کر دیکھتے ہوں تو وہ اس کردار کی طرح یہ کہنے کی ہمت رکھتے ہوں کہ میں ساری عمر کیا جھک مارتا رہا‘ دوسروں پر اپنی جوانی کی دھاک بٹھانے کیلئے سانڈوں سے لڑتا رہا‘ وحشی گھوڑوں کو سدھارنے کا کام کرتا رہا اور بلے بلے کماتا رہا۔ یہ بھی کوئی عقلمندی تھی کہ غصیلے سانڈوں کی دوڑ میں ان کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اچانک نیچے بیٹھ کر انہیں اوپر سے گزرنے دینا یا پھر وحشی گھوڑے پر بیٹھ کر اسے قابو کرنے کی کوشش میں‘ چاہے وہ آپ کو پچاس فٹ اوپر فضا میں اچھال دے اور آپ زمین پر آ گریں اور آپ کی ہڈیاں پسلیاں ٹوٹ جائیں‘ صرف اس لیے تاکہ آپ دوسروں پر یہ رعب ڈال سکیں کہ آپ ایک مرد ہیں‘ آپ بہت بہادر ہیں۔ میں بہادر نہیں‘ بے وقوف تھا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved