وزیراعظم شہباز شریف نے 2027ء کے لیے گندم کی امدادی قیمت 4500روپے فی من مقرر کر دی ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ بڑا فیصلہ ملکی زرعی شعبے کے فروغ‘ کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ اور آئندہ سال گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے کیا گیا ہے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ نئی مجوزہ قیمت سے کسانوں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران کسانوں کو مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا رہا جبکہ گزشتہ دو برسوں میں گندم درآمد بھی کرنا پڑی۔
گندم ملک کی غذائی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک کی بڑی آبادی اپنی روزمرہ خوراک کے لیے آٹے‘ روٹی اور گندم سے تیار ہونے والی دیگر اشیا پر انحصار کرتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس موقع پر گندم کی نئی قیمت کا اعلان اس حوالے سے بروقت‘ مناسب اور صائب ہے کہ ملک میں وسط اکتوبر سے گندم کی کاشت کا سیزن شروع ہو چکا ہے جو وسط نومبر تک جاری رہے گا۔ ہمارے ملک میں آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گندم کی خوراک کے طور پر ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گندم کی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ کچھ عالمی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں اس لیے گندم کی پیداوار کم ہوئی تو ہمیں عالمی منڈی سے اس جنس کے حصول کے لیے خاصی تگ و دو کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ کسانوں کو زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کی ترغیب دی جائے اور ایسا گندم کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں ہی ممکن ہو سکتا تھا‘ جو حکومت نے کر دیا ہے۔ گندم کی پیداوار بڑھے گی تو نہ صرف پاکستان غذائی خود کفالت کی منزل کی طرف بڑھے گا بلکہ گندم کی بھاری مقدار میں درآمد پر جو وافر زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے‘ اس کی بچت ملک کے معاشی استحکام کو آسان بنا دے گی۔ اگر کسانوں اور کاشت کاروں کو فصل کی مناسب قیمت نہ ملے تو آئندہ سال گندم کی کاشت میں کمی اور زرعی پیداوار میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
گندم کی قیمت میں کیے گئے اضافے کے یہ محض دو پہلو ہیں جبکہ کچھ دوسرے عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گندم کی قیمت 4500روپے فی من مقرر کرنے کے کچھ مثبت اثرات تو کسانوں اور آڑھتیوں کو ضرور حاصل ہوں گے لیکن اس کے اثرات آٹے کی قیمت‘ گھریلو بجٹ‘ غذائی تحفظ اور مجموعی مہنگائی پر بھی پڑیں گے۔ خصوصاً ایسے وقت میں یہ اثرات زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیے جائیں گے جب عام آدمی پہلے ہی بجلی‘ گیس‘ پٹرول‘ کرایوں اور دیگر ضروری اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پریشان اور شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔ گندم مہنگی ہو گی تو خوراک کے اخراجات میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔
گندم کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں فی من 1000روپے کا اضافہ آٹے کی قیمت میں کتنے اضافے کا باعث بنے گا‘ ویسے تو اس کا انحصار گندم کی دستیابی‘ سرکاری خریداری‘ درآمدات‘ نقل و حمل‘ پسائی کے اخراجات اور حکومتی پالیسی پر ہو گا لیکن ماضی قریب کی مثالوں اور تجربات سے بھی کچھ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ دستیاب سرکاری اور اخباری ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2023-24ء کے لیے گندم کی سرکاری امدادی قیمت 3900روپے فی من تھی لیکن 20کلو آٹے کی اوسط قیمت 2831 روپے رہی۔ اب سیدھا 2026ء پر آتے ہیں جہاں گندم کا سرکاری ریٹ 3500روپے فی من یا فی 40کلوگرام ہے‘ لیکن آج 24اکتوبر کو صورتحال یہ ہے کہ فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم 140روپے سے 141روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے‘ یعنی 5640روپے کی من۔ تو کہاں گیا سرکاری ریٹ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سرکار اگر ایک ریٹ مقرر کرتی ہے تو اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں پر صرف سرکاری امدادی نرخ اثر انداز نہیں ہوتے‘ طلب و رسد‘ ذخیرہ اندوزی‘ منڈیوں کے حالات اور حکومتی خریداری بھی اہم عوامل ثابت ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ برس آٹے کی قیمت کیا ہو گی اور روٹی یا نان کن نرخوں پر فروخت ہو رہے ہوں گے۔
کسان کے ساتھ ہمدردی اچھی بات ہے۔ ہونی بھی چاہیے کیونکہ وہ سرمایہ خرچ کرتا ہے اور محنت بھی کرتا ہے‘ اس لیے اسے اس کی محنت کا پھل ملنا چاہیے لیکن یہ سوچنا کس کا کام ہے کہ عام آدمی کا کیا بنے گا جس کے لیے دو وقت کی روٹی کے اخراجات پورے کرنا اب بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ حکومت اگر کسان کو فائدہ اور زرعی سیکٹر کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اس کے کچھ متبادل طریقے بھی ہو سکتے ہیں جیسے کسانوں کو اپنی نگرانی میں زیادہ پیداوار والے بیج فراہم کرنا۔ ملاوٹ سے پاک اور پورے تول والی کھادیں کنٹرولڈ (سبسیڈائزڈ نہیں) نرخوں پر فراہم کرنا۔ انسیکٹے سائیڈز اور پیسٹے سائیڈز کی ملاوٹ کے بغیر فراہمی۔ آبپاشی کے لیے سستی بجلی کی دستیابی‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسانوں سے طے کردہ قیمت پر خریداری‘ لیکن حکومت ان تمام معاملات سے دستبردار ہو چکی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسان کو نہ تو اچھے بیج ملتے ہیں اور نہ ہی خالص کھادیں‘ رہی سہی کسر مہنگی بجلی نکال دیتی ہے۔ دراصل یہی عوامل گندم کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث ہیں۔ لیکن حکومت ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے سیدھا فصل کی قیمت میں اضافہ کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ہر چیز کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کسانوں کو مناسب معاوضہ دینا اور صارفین کو سستی خوراک فراہم کرنا ایک دوسرے کی ضد نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت درج ذیل اقدامات کے ذریعے دونوں مقاصد میں توازن پیدا کر سکتی ہے۔ بجلی اور گیس کی طرح کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے آٹے پر سبسڈی فراہم کی جائے۔ گندم کے ذخائر‘ درآمدات اور مقامی پیداوار کی درست نگرانی کی جائے کیونکہ ایسی خبریں سننے میں آتی ہیں کہ پیدا کی گئی یا بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی گندم کا ایک خاصا بڑا حصہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ کسانوں کو کھاد‘ معیاری بیج اور توانائی کی لاگت کم کرنے میں مدد دی جائے۔ سرکاری خریداری اور گندم کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت برقرار رکھی جائے۔ کسانوں کو مناسب قیمت ملنا قومی غذائی تحفظ کے لیے اہم ہے‘ لیکن قیمتوں میں اضافے کا غیر ضروری بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنا بھی مناسب نہیں۔ حکومت کو ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس میں کسان کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ ملے‘ آٹے کی فراہمی برقرار رہے اور کم آمدنی والے خاندان بنیادی خوراک خریدنے کی استطاعت بھی رکھتے ہوں۔
ایسا جتنا جلدی ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے ورنہ گندم کی پیداوار‘ سٹور کرنے اور مناسب طور پر استعمال میں لانے میں ناکامی کا غبار اسی طرح ہر سال اُڑ اُڑ کر ہمارے زندگیوں کو متاثر کرتا رہے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved