تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     25-10-2026

پاکستان کیلئے نیا نظام کیوں ضروری؟؟

بحیثیتِ قوم ہم تاریخ کے بدترین المیے کا شکار ہیں کہ مملکتِ خداداد گزشتہ 79 برسوں سے اپنی منزل کے حصول کیلئے سرگرداں ہے۔ ہم نے ہمیشہ لا الٰہ الا اللہ کا نعرہ تو لگایا لیکن کلمۂ شہادت اور اس کے تمام تقاضوں کی عملی تفسیر نہ کر سکے اور نظامِ مصطفی کے نفاذ سے محروم رہے۔ علامہ اقبال کا خواب اور قائداعظم کا تصورِ پاکستان ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جہاں جمہوریت کا بول بالا ہو اور حکومت عوام کو جوابدہ ہو‘ جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آزادی و خودمختاری اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ قائداعظم نے جس فلاحی جمہوری نظام کا ذکر کیا تھا‘ وہ کہاں چلا گیا؟
ملک میں نظام کی تبدیلی کی بازگشت تو کافی عرصے سے سنائی دیتی رہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانونی و انتظامی ادارے بری طرح ناکامی سے دوچار ہیں۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ عوام ہر عہدِ حکمرانی میں اپنے حقوق کیلئے جہدِ مسلسل کرتے آئے ہیں۔ وہ اپنی کم مائیگی و بے بسی کا ماتم کرتے رہے مگر راوی چین اور امن ہی لکھتا آیا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے نام پر انہیں ناقابلِ برداشت مہنگائی‘ پٹرول اور گیس کی بڑھتی قیمتوں‘ٹیکسوں کی بھرمار سمیت ناانصافی کے عفریت کا سامنا ہے کیونکہ معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ناانصافی پر نہیں۔ کیا یہ آخری معرکہ نہیں؟ کیا اب اس فرسودہ نظام کو اکھاڑ کر پھینکنے کا وقت آ گیا ہے؟ اگر آپ کہیں کہ جمہوری نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں تو جمہوریتیں پوری دنیا میں ناکام ہو چکی ہیں۔ بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال:
دیو ِاستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
علامہ اقبال نے مغربی جمہوری نظام کا سنجیدہ اور گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اسے دیو ِاستبداد قرار دیا تھا جبکہ موجودہ جمہوریت دو تعریفوں پر پوری اتر رہی ہے: (1): Democracy is government of elite, for the elite, and by the elite.
(2): Democracy is government of the thieves, for the thieves , and by the thieves.
عوام کی حاکمیت کا نعرہ درحقیقت ایک بہت بڑا دھوکا ہے۔ اس کے ذریعے عوام کو خوش کر دیا گیا ہے کہ تم حاکم بن گئے لیکن ہوتا یہ ہے کہ حکومت میں عوام کی شرکت محض ایک تخیلاتی اور تصوراتی حیثیت رکھتی ہے۔ عملاً اکثر جگہوں پر عوام کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ حکومت کیا کر رہی ہے جبکہ عوامی حقوق اور آزادیوں کو کچلنے والی حکومت جمہوری نہیں کہلا سکتی۔ قائداعظم نے جس نظام کا ذکر کیا تھا وہ کہاں چلا گیا؟ اگر ایسٹ انڈیا کا باقیاتی نظام ہی لاگو کرنا تھا تو پھر مغربی جمہوریت بہتر نہیں تھی؟ پھر کیوں کہا گیا کہ پاکستان اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اسکے اندر قرآن و سنت کی بالادستی ہوگی؟ آج ہم اپنی منزل ہی نہیں راہ بھی کھو چکے ہیں۔ افسوس‘ دوسری قوموں نے اپنی سمت مقرر کر لی ہے اور ہم ابھی تک گومگو کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ کیا یہ نظام یونہی چل پائے گا؟ حالات واضح عندیہ دے رہے ہیں کہ نظام اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ نظامِ انصاف میں اصلاحات کیساتھ شعبہ تعلیم و صحت میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ عدالت‘ کفالت اور حفاظت کو بہتر بنایا جائے‘ یہ وقت کا تقاضا ہے۔
بانیٔ پاکستان سے کسی نے پوچھا کہ آپ پاکستان کس کیلئے بنا رہے ہیں؟ قائداعظم نے جواب دیا کہ میں غریبوں کیلئے یہ ملک بنا رہا ہوں۔ ان شاء اللہ‘ یہاں امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں ہوگا‘ سب برابر ہوں گے۔ آپ کا نصب العین ایک ایسی آزاد مسلم ریاست کا قیام تھا جس میں مسلمانوں سمیت یہاں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو‘ جہاں وہ اپنے مذہب کے احکامات کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ ہر ادارے‘ عدلیہ سے لے کر انتظامیہ و مقننہ تک‘ میں ان کے ویژن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ عام آدمی کا نہیں‘ اسے اشرافیہ کا ملک بنا دیا گیا ہے۔ بلاشبہ جو نظام اس وقت چل رہا ہے وہ فرسودگی‘ کرپشن‘ بدعنوانی و لوٹ مار کا خاصہ ہے۔ اس ملک کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنانے کیلئے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ‘ معاشی چیلنجز سے نمٹنا اور عام انتخابات کے پیشِ نظر مکمل شفافیت و انصاف کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس لیے ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کیلئے زکوٰۃ و عشر کا ایسا نظام لایا جائے جو شفافیت پر مبنی ہو۔
کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ نوجوانوں کی امنگیں دم توڑتی جا رہی ہیں؟ ایسی صورتحال میں ایک نئے نظام کی خواہش جنم لے رہی ہے۔ تحریک جوانانِ پاکستان ملک کی پہلی پارٹی ہے جس نے نوجوان طبقے کو ایک سیاسی پلیٹ فارم دیا ہے۔ میں بطور سربراہ تحریک جوانانِ پاکستان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ میرے پاک وطن کے نوجوان کا ایمان و یقین متزلزل کیوں ہے؟ نوجوان یہاں کے عدالتی‘ سیاسی‘ قانونی و ریاستی نظام سے نالاں ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ملک کا مستقبل یہاں سے فرار ہو رہا ہے۔ نوجوان ڈنکی لگا کر سمندر میں غرقاب ہو رہے ہیں۔ یہ موجودہ نظام پر نئی نسل کے عدم اعتماد کی ایک بڑی مثال ہے۔ کیا ہمارے ہاں بہترین محلِ وقوع نہیں‘ معدنی ذخائر نہیں؟ دنیا کے فیصلے پاکستان کر رہا ہے لیکن ملک کا اندرونی گھسا پٹا نظام میرے ملک کے نوجوانوں کو قیمتی اثاثہ بنانے کے بجائے مایوسی کے دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ سری لنکا‘ بنگلہ دیش اور بھارت کی جین زی نے حکومتی ایوانوں کو ہلا دیا۔ فرانس‘ اٹلی اور البانیہ میں کیا ہو رہا ہے؟ اگر اس نظام کو نہ بدلا گیا تو یہ لاوا کبھی بھی پھٹ سکتا ہے‘پھر یہ انقلاب شاید رک نہ پائے۔ مغربی جمہوریت آج اپنی موت مر رہی ہے جس کا عملی ثبوت وہاں کی سڑکوں پر جین زی کا احتجاج ہے کیونکہ وہ بھی نئے نظام کے متلاشی ہیں۔
انتخابات کے موقع پر امیدوار اور ان کے حامی کامیابی حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ دولت مند طبقے کے لوگ خفیہ طور پر ووٹ خریدتے ہیں اور روپے کے زور پر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت کے علمبردار امریکہ میں بھی ایک الیکشن پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک عام آدمی کا سیاست میں آنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ یہاں امیر کیلئے الگ قانون ہے اور غریب کیلئے الگ۔ اس لیے ملک میں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی خوشحالی اور امن کیلئے ہو۔ یعنی موجودہ دقیانوسی نظام اپنی مدت پوری کر چکا ہے‘ اب اس میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ میں نے اپنے دورۂ یورپ کے دوران مغربی نظام کا جائزہ لیا۔ سوئٹزرلینڈ کی مثال ہی لے لیں‘ وہاں ایک چھوٹی سی سڑک کی تعمیر کیلئے بھی رائے عامہ اہم ہوتی ہے۔ ہمارا اُن سے موازنہ کریں تو فرق صاف ظاہر ہے۔ یہاں پانچ سال میں ایک بار ٹھپہ لگانے کا موقع ملتا ہے‘ اب تو نتائج بھی پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے ہائبرڈ نظام‘ جمہوریتوں‘ آمریتوں اور ایبڈولاء کا تجربہ بھی کیا۔ مغربی طرزِ حکومت‘ پارلیمانی و صدارتی نظام کے چکر میں پھنسا دیا گیا۔ یہاں شخصیات مضبوط ہوئیں‘ نظام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیات کے جانے سے نظام بھی دھڑام سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔فسطائی قوتوں کا واویلا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے‘ ہرگز نہیں! ہمارے ہاں نئے نظام کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ بھی یہی طاغوتی قوتیں ہیں جو روزِ اول سے مسلط ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہم بھٹکتے رہیں۔ اس استعماری ایجنڈے سے بچنے کا حل یہی ہے کہ قرآن و سنت کی بالادستی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی ضرورت ہے مگر اس سے فرسودہ نظام کی کوتاہیاں اور نقائص دور نہیں کیے جا سکتے۔ بلوچستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ وہاں بھی دہشت گردی پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔ صرف نئے صوبوں کا قیام تمام مسائل کا حل نہیں۔ صرف چہرے نہیں‘ نظام بدلو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved