تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     26-10-2026

پھیلتی شورش

گزشتہ صدی کے تقریباً سب اہم مفکروں اور فلسفیوں نے کالجوں اور جامعات میں زیر تعلیم طالب علموں کی سیاسی اہمیت کو اپنے انقلابی نظریات میں اہمیت دی نہ انہیں اس قابل سمجھا کہ وہ بھی تحریکیں چلا سکتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں مزدور‘ کسان اور پسے ہوئے طبقات اور ان کی انقلابی تحریکیں تھیں۔ مارکس اور ان کے فلسفے سے جڑے سب دانشوروں نے صرف مزدور کے ہاتھ میں انقلاب کی شمع اور پوری سماجی طاقت کی تلوار تھما دی کہ صنعتی انقلاب سے پیدا شدہ یہ نیا طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے قبریں کھودے گا۔ گزشتہ صدی کے نصف کے بعد جب مارکسی نظریے سے وابستہ خواتین و حضرات نے دیکھا کہ مغرب کے صنعتی معاشرے کا مزدور سرمایہ دارانہ نظام سے فیض یاب ہو کر اس کا حصہ بن چکا ہے تو پھر وہ ادھر اُدھر کی تاویلیں گھڑنے لگے۔ حقیقت میں کارل مارکس نے جس صنعتی معاشرے میں آنکھ کھولی‘ اس کا مشاہدہ کیا اور سرمایہ داری کے بارے میں لکھا‘ اس کا اطلاق اکیسویں صدی کے صنعتی معاشرے پر نہیں ہو سکتا تھا۔ مارکسی فکر سے انقلاب تو روس اور چین میں آئے۔ مارکس اگر زندہ ہوتا تو کبھی ان انقلابوں کی تائید نہ کرتا۔ شواہد موجود ہیں کہ اپنی زندگی میں انہوں نے روسی اشتراکیوں کو صنعتی معاشرہ بننے تک انتظار کا مشورہ دیا تھا۔ بہرحال مارکسیت کوئی جامد نوعیت کا نظریہ تو نہ تھا کہ لینن اور مائوزے تنگ اس میں قومی اور عالمی تناظر میں ترامیم و اضافہ نہ کرتے۔ سب کے نزدیک نوجوان طالب علموں کی اہمیت صرف اتنی تھی کہ وہ تحریکوں میں نظریاتی کارکنوں کا کردار ادا کرتے۔
گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں جب امریکہ نے سرمایہ دارانہ نظام کو دنیا کے ہر خطے میں تحفظ دینے کی غرض سے ویتنام کی جنگ میں چھلانگ لگا دی اور ملک میں لام بندی کا حکم جاری کیا تو نوجوانوں نے عَلمِ بغاوت بلند کردیا۔ وہاں ہتھیار تو حکومت کے خلاف نہیں اٹھا سکتے تھے‘ انہوں نے نظام سے بغاوت کا اظہار اس سے لاتعلقی کی صورت میں کیا۔ کامیاب اور خوشحال زندگی کے روایتی تصورات کو انہوں نے ایسا جھنجھوڑا کہ انہیں بے جا ن کر دیا۔ اس کے ساتھ غالب سیاسی طبقے کی سیاسی جائزیت‘ ان کی ثقافت‘ نظریات اور اخلاقیات پر کھلم کھلا تنقید ہونے لگی۔ مظاہرے‘ جلوس اور مزاحمتی ادب‘ موسیقی اور سماجی رویے اس دور میں شدت پکڑ گئے۔ لاطینی امریکہ میں کیوبا میں انقلاب کے بعد وہاں دیگر ممالک میں بھی چی گویرا اور دوسرے انقلابیوں نے نوجوانوں کا خون گرمایا۔ نوجوانوں کی وہ تحریک عالمی جہت اختیار کر چکی تھی جس سے ہم بھی اُس دور میں کالج سٹوڈنٹ ہونے کے ناتے بے حد متاثر ہوئے تھے۔ چی گویرا کی ایک ستارے والی کالی ٹوپی اور مائو کیپ ہمارے ہاں بھی انقلابیوں کا امتیازی نشان تھیں۔ امریکہ کی ''کائونٹر کلچر‘‘ تحریک نے پرانی دنیا کے نوجوانوں کو ایک نیا سماجی اور نظریاتی شعور دیا۔ وہ ایوب خان کا دور تھا‘ جب ہم بطور طالب علم دوسرے سال میں تھے اور ترقی کی دہائی کے عنوان سے‘ اس کی تعریف میں ایوب حکومت نے ملک کے ہر حصے‘ شہروں اور یہاں تک کہ کالجوں میں بھی مذاکرے اور جلسے منعقد کرائے۔ کچھ کا تو یہ درویش عینی شاہد ہے۔ خیر یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ ہمارے ملک میں وہ تحریک پہلے کہاں اور کس نے شروع کی۔ مجھے تو اتنا یاد ہے کہ کوئی اعلان کرتا تھاکہ کل جلوس نکلے گا اور ہم کتابیں ہاسٹل کے کمرے میں رکھ کر اُس میں شامل ہو جاتے تھے۔ ایوب خان کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں خاموش اور دبکی بیٹھی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب بھی اقتدار سے نکالے جانے کے بعد باہر کے ملکوں کی ہوا کھا رہے تھے؛ اگرچہ لوگوں سے مشاورت کر رہے تھے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس دوران بھی ہماری تحریک چل رہی تھی اور اس کی شدت اتنی تھی کہ تعلیمی ادارے بند ہونے لگے۔
ایک مفکر جس کا ذکر پہلے بھی کسی مضمون میں کر چکا ہوں‘ ہربرٹ مارکوزے تھا جو کئی امریکی جامعات میں پڑھا چکا تھا۔ اس نے امریکہ اور دیگر ملکوں میں پھیلتی نوجوان طالب علموں کی بغاوت کے بارے میں کہا تھا کہ وہ تحریکیں چلا کر معاشرے کے جمود کو توڑ سکتے ہیں اور غالب طبقات کی سیاست کو چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مگر اُن کا کردار معاشرے کو متحرک کرکے سیاست میں ہلچل پیدا کرنا اور مقتدر جماعتوں کو کمزور یا حکومتوں سے فارغ کرنا ہے۔ مارکوزے کا یہ نظریہ دیگر کئی فلسفوں کے ساتھ میرے پیش نظر رہا ہے۔ کئی بار دیکھا ہے کہ تحریک تو نوجوان طلبہ نے چلائی‘ لاٹھیاں ڈنڈے بھی انہوں نے کھائے‘ مگر اقتدارکے دستر خوان پر دوسرے لوگ بیٹھ گئے۔ ہماری تحریک نے ایوب خان کو کمزور‘ بلکہ اقتدار سے رخصت کر دیا مگر اقتدار پر یحییٰ خان قابض ہو گئے اور سیاسی فائدہ ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب نے اٹھایا۔ طالب علم رہنمائوں نے بھی سیاسی جماعتوں میں جگہ بنائی اور ان کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد پھر ہمارے ملک کے طلبہ نہ سیاست سے جدا کوئی حیثیت بنا سکے‘ نہ کوئی تحریک چلا سکے۔ سب سیاسی جماعتوں نے ابھرتے ہوئے متحرک نوجوانوں کو اپنی اپنی سیاسی نرسریاں بنانے اور بوقت ضرورت انہیں سڑکوں اور جلسوں میں لانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کی وحدت تو ہمارے زمانے میں قائم تھی لیکن اب وہ پارہ پارہ ہوکر لسانی‘ مسلکی اور مختلف سیاسی جماعتوں کی گماشتہ گیری میں تبدیل ہو چکی ہے۔
آج کل اسی طرح کی طالب علموں کی تحریکیں یورپ کے تقریباً نو ممالک میں سرگرم ہیں۔ فرانس‘ اٹلی‘ بلجیم‘ پولینڈ‘ جرمنی اور سپین کی حکومتیں اُن کے نشانے پر ہیں۔ سپین نے تو مجبور ہو کر اگلے ماہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ وجوہات میں مہنگائی‘ یوکرین اور ایران جنگوں کے معاشی اثرات اور حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی اور ترجیحات شامل ہیں‘ جن میں تعلیم پر کم اخراجات اور معیار کا زوال سرفہرست ہیں۔ ستر سال پہلے چلنے والی تحریک کی طرح‘ یورپ میں اب غالب طبقات کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ہمار ے خطے میں بنگلہ دیش اور نیپال میں تو طالب علموں نے انقلاب برپا کر دیے اور وہاں نئی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ آج کل بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے نظریات اور سیاست کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی سڑکوں پر ہے۔ اس نے بنیادیں تو کھوکھلی کر دی ہیں دیکھیں ہندوتوا کے برج کب گرتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر نوجوان اپنے اپنے ملکوں کے نظام سے لاتعلقی اور عدم اطمینان کے ساتھ مزاحمت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویسے تمام نظام علیحدہ نہیں‘ ایک ہی نظام کا حصہ ہیں‘ اور اس کی غالب اکثریت بھی اپنے اندر شدید نظریاتی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر اُس کی طاقت کے گھمنڈ کو ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی بار ڈبکیاں تو دی ہیں‘ دیکھیں آگے کا نقشہ کیا بنتا ہے۔ طالب علم تحریک چلاکر سیاسی راستہ ہموار کرتے ہیں تو دوسرے شہسوار اپنے اپنے گھوڑوں پر آ کر میدان سنبھال لیتے ہیں اور نوجوان اچھے مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے پھر نئے فاتحین کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو ایسے مسائل ہیں نہ کوئی تحریک۔ ایک بات ضرور ہے کہ اگر سڑکیں اور شاہراہیں بند ہو جائیں تو سنا ہے کہ کچھ لوگ جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف چلے جاتے ہیں‘ اورباقی ہمارے ساتھ دعائوں میں مشغول رہتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved