تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     26-10-2026

قطر تجارت‘ آٹو پالیسی اور وزیراعظم ہائوسنگ سکیم

پاکستان نے جی سی سی کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط‘ قطری منڈی تک رسائی میں اضافے‘ پاکستانی گوشت کی برآمدات پر پابندیاں ختم کرنے اور زراعت و خوراک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں پاکستان کی قطر کو برآمدات تقریباً 11 کروڑ 66 لاکھ 70 ہزار ڈالر تھیں جو مالی سال 2023-24ء کے تقریباً 16 کروڑ 35 لاکھ 40 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 28.65 فیصد کم تھیں۔ اس کے برعکس‘ قطر سے پاکستان کی درآمدات تقریباً تین ارب 49 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہیں‘ جو مالی سال 2023-24ء کے تقریباً 3 ارب 34 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 4.54 فیصد زیادہ تھیں۔ اس طرح مالی سال 2024-25ء میں پاکستان اور قطر کے درمیان اشیا کی تجارت کا خسارہ تقریباً تین ارب 38 کروڑ 23 لاکھ ڈالر تھا۔ پاکستان کی قطر کو برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عدم توازن مزید بڑھا ہے۔ اب پاکستان اور قطر کے مابین تجارتی تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کو برآمدات بڑھانے‘ تجارتی خسارہ کم کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مذاکرات دو ملکوں کے مابین تجارت بڑھانے کے لیے اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور قطر کی کمپنی حساد فوڈ کے درمیان پاکستانی چاول کی فراہمی کیلئے حکومتی سطح پر معاہدے کی تجویز خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تجویز وفاقی کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کی جا چکی ہے۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تو پاکستانی برآمد کنندگان کو مستقل خریدار مل سکتا ہے اور چاول کی فروخت کو طویل مدتی بنیادوں پر منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہڈی سمیت گوشت کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے اور متعلقہ قطری حکام کو جانوروں کی صحت اور خوراک کے تحفظ سے متعلق تکنیکی دستاویزات فراہم کی گئی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی قطر کو گائے‘ بھیڑ اور بکرے کا گوشت فروخت کر رہا ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف شرحِ سود بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف کاروباری حلقے چاہتے ہیں کہ قرض سستا ہو تاکہ سرمایہ کاری‘ پیداوار اور روزگار میں اضافہ ہو سکے۔ 26 اکتوبر 2026ء کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ہونے والے اجلاس سے پہلے یہ بحث اہم ہو گئی ہے کہ شرحِ سود میں مزید اضافہ مہنگائی کو قابو کرنے میں کتنا مؤثر ہو گا اور اس کی معاشی ترقی کو کیا قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ پاکستان شماریات بیورو کے مطابق ستمبر 2026ء میں سالانہ بنیاد پر سی پی آئی میں اضافہ 10.26 فیصد تھا جبکہ اگست میں یہ شرح تقریباً 11.15 فیصد تھی۔ جولائی سے ستمبر 2026ء تک اوسط مہنگائی 10.2 فیصد تھی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 4.3 فیصد تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی کی رفتار گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگرچہ ستمبر میں اگست کے مقابلے میں سالانہ شرح کچھ کم ہوئی ہے۔ اس وقت سٹیٹ بینک کی پالیسی شرحِ سود 11.5 فیصد ہے۔ سٹیٹ بینک اسے 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک بڑھا سکتا ہے۔ سٹیٹ بینک نے اپریل میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرکے اسے 11.5 فیصد کیا تھا جس کے بعد جون‘ جولائی‘ اگست اور ستمبر میں اسے برقرار رکھا گیا۔ آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی رپورٹ میں دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح 2026ء میں 4.7 فیصد اور 2027ء میں 4.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں تنازعات اور تجارتی کشیدگی سے عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسی درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے یہ صورتحال زیادہ اہم ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل بڑھاتا ہے بلکہ روپے‘ بیرونی ادائیگیوں اور اندرونِ ملک قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ادھر تین ماہ گزر گئے لیکن نئی آٹو پالیسی نافذ نہیں ہو سکی۔ اربوں ڈالرز کی انڈسٹری بغیر کسی واضع پالیسی کے چل رہی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آٹو پالیسی بنانا ملکی بجٹ سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ بجٹ ہر سال مقررہ وقت سے دو تین دن اوپر نیچے کے وقفے کے بعد پیش ہو جاتا ہے لیکن آٹو پالیسی 100 دن گزرنے کے بعد بھی نظر نہیں آئی۔ اب ایک نیا ڈرافٹ سامنے آیا ہے جو پچھلے تین ماہ میں شاید تیسرا یا چوتھا ڈرافٹ ہے۔ اس ڈرافٹ کے مطابق آٹو پالیسی2026-31ء کے تحت پٹرول گاڑیوں کی قیمتوں میں آٹھ سے 10 فیصد‘ ہائبرڈ گاڑیوں میں تقریباً 9 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں میں 20 فیصد سے زائد کمی کا امکان ہے۔ جبکہ بعض الیکٹرک گاڑیاں 22 فیصد تک بھی سستی ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ سوال ابھی تک باقی ہے کہ گاڑیوں کے سستے ہونے کا کیا مطلب ہے۔ کیا پرانی آٹو پالیسی جو کہ 30 جون تک لاگو تھی‘ کے مقابلے میں گاڑیوں کی قیمت کم ہو گی یا 30 جون کے بعد جو نئے ٹیکسز لگے ان کے مقابلے میں گاڑیاں سستی ہوں گی؟ مثال کے طور پر پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر 30 جون تک 8.5 فیصد ٹیکس تھا جو 30 جون کے بعد 25 فیصد ہو گیا۔ پھر اگلے ڈرافٹ میں یہ تقریباً 19 فیصد ہو گیا اور اب نئے ڈرافٹ میں یہ تقریباً 9 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ اگر یہ لاگو ہو جائے تب بھی پی ایچ ای کی قیمت 30 جون کے مقابلے میں زیادہ ہی رہے گی‘ کم نہیں ہو گی۔ آٹو پارٹس پر درآمدی ٹیرف میں کمی اور مکمل تیار گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات سے پاکستان کے تقریباً 1200 مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان میں اپنا گھر خریدنا یا تعمیر کرنا مڈل کلاس اور کم آمدن والے طبقے کے لیے ایک بڑا خواب بن چکا ہے۔ حکومت نے وزیراعظم کی ہاؤسنگ سکیم کے تحت آسان شرائط پر قرض فراہم کرنے اور اس مقصد کے لیے سہولتیں دینے کی کئی مرتبہ کوشش کی ہے لیکن عملی طور پر بہت سے درخواست گزاروں کو اب بھی قرض حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اصل مسئلہ صرف قرض کی شرائط نہیں بلکہ ان شرائط پر عمل درآمد‘ بینکوں کی جانچ پڑتال اور جائیداد کے کاغذات کی تکمیل بھی ہے۔ اکتوبر 2026ء میں جائیداد کے کاغذات کی تعداد بھی کم کرکے پانچ کر دی گئی تاکہ درخواست گزاروں کو بار بار مختلف دستاویزات جمع نہ کرانا پڑیں۔ اس کے باوجود قرضوں کی منظوری اور رقم کی ادائیگی کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ 9 اکتوبر تک کے اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ 91 ہزار 900 درخواستیں موصول ہوئیں‘ جن میں سے 75 ہزار 200 منظور ہوئیں‘ 94 ہزار 300 پر کام جاری تھا اور صرف 14 ہزار درخواست گزاروں کو قرض کی رقم ادا کی گئی۔ یعنی موصول ہونے والی درخواستوں میں صرف 7.3 فیصد درخواست گزاروں کو رقم مل سکی۔ تقریباً 75 ہزار 200 درخواست گزاروں کے لیے 448 ارب روپے کے قرض منظور کیے گئے جبکہ سرکاری پورٹل پر قرض کی تقسیم کی رقم تقریباً 80.6 ارب روپے درج ہے۔ یعنی تقریباً 18 فیصد رقم ہی تقسیم ہوئی۔ مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا کہ پاکستان میں رہائشی قرضے جی ڈی پی کا صرف 0.3 فیصد اور نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا 0.56 فیصد ہیں۔ وزیراعظم کی ہاوسنگ سکیم کا فائدہ عام آدمی تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ بینکوں پر مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر کیا جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved