تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     26-10-2026

گھریلو ناچاقیوں کا خاتمہ

دنیا کے دیگر عصری معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی شرحِ طلاق میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ سالوں کے دوران خواتین کی کثیر تعداد طلاق اور علیحدگی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتی نظر آئی ہے۔ نکاح اور شادی کا مقصد ایک ایسے گھرانے کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے جس میں مرد و زن ایک دوسرے کی رفاقت میں خوشی اور سکون حاصل کریں لیکن بدقسمتی سے آج کل بہت سے نکاح اور شادیاں طلاق پر منتج ہوتے ہیں جبکہ بہت سے گھروں میں معاملات علیحدگی تک تو نہیں پہنچتے لیکن گھریلو ناچاقیاں اپنے عروج پر رہتی ہیں۔ اس کشمکش کی وجہ سے میاں بیوی کے علاوہ اولاد کو بھی بہت سے نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کے تدارک اور خاتمے کیلئے بعض اہم باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے:
1۔ مرد و زن کے حقوق: اللہ تبارک وتعالیٰ نے نکاح کے بعد جہاں مردوں کے حقوق رکھے وہیں عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے ہیں۔ اگر اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو بہت سے اختلافات اور بگاڑ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بیوی کو نہ تو شوہر کو اپنے سے کمتر سمجھنا چاہیے اور نہ ہی شوہر کو بیوی کو اپنے سے کمتر سمجھنا چاہیے۔ دونوں کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 228 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں‘ اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘۔
2۔ ایک دوسرے کی تضحیک اور طعن وتشنیع سے گریز: ایک اچھے گھریلو ماحول کیلئے باہمی احترام نہایت ضروری ہے۔ بلاسبب ایک دوسرے کی تضحیک کرنا اور طعنہ زنی کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات میں مرد و زن کو ایک دوسرے کا استہزا نہ کرنے کا عمومی حکم دیتے ہیں جس کا گھریلو زندگی میں اطلاق بالاولیٰ ہونا چاہیے۔ سورۃ الحجرات کی آیت: 11 میں ارشاد ہوا: ''اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں‘ ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں‘ ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں‘ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگائو اور نہ کسی کو برے لقب دو‘ ایمان کے بعد فسق برا کام ہے‘ اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں‘‘۔ اگر گھر میں ایک دوسرے کے احترام کو یقینی بنایا جائے اور طعنہ زنی سے گریز کیا جائے تو بہت سے گھریلو اختلافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
3۔ بلاتحقیق کسی بات پر یقین نہ کرنا: اگر انسان کسی فاسق فاجر کی کہی ہوئی بات پر بلا تحقیق یقین کرے گا تو وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ دشمنی پر آمادہ وتیار ہو سکتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ انہیں بلا تحقیق فاسق و فاجر شخص کی لائی ہوئی خبر کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 6 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو‘ پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے‘‘۔ اس عمومی اصول کا اطلاق گھریلو زندگی میں بھی ہونا چاہیے۔ گھریلو زندگی میں کئی مرتبہ شوہر اور بیوی بلا تحقیق سنی سنائی بات کو سن کر ایک دوسرے کی مخالفت پر آمادہ وتیار ہو جاتے ہیں جو کسی بھی طور پر درست نہیں ہے۔ اگر ہر بات کے بارے میں تحقیق کر لی جائے تو بہت سے گھریلو تنازعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
4۔ بدگمانی سے اجتناب: کئی مرتبہ شوہر بیوی کی کسی بات یا عمل کی وجہ سے بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کئی مرتبہ بیوی اپنے شوہر کے کسی رویے کی وجہ سے بدگمانی کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر معاملے کی اچھی طرح چھان بین کی جائے تو نفسِ واقعہ یا حقیقت اس بدگمانی کے بالکل برعکس نکلتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجرات کی آیت: 12 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں‘ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے‘ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ کا خوف رکھو‘ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘۔
5۔ ایک دوسرے کے احسانات کا اعتراف: مرد و زن کو ایک دوسرے کے احسانات کا اعتراف کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی نیکیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 237 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقینا اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے‘‘۔
6۔ ناشکری: ناشکری نہایت قبیح عمل ہے جو انسان کی آخرت کو برباد کر دیتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیبﷺ نے بھی اس فعل شنیع کی شدید مذمت فرمائی ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ''مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر (وہ) عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں‘ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو‘ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی‘‘۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو ایک دوسرے کی نیکیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور زندگی کے نشیب و فراز کے دوران کسی وجہ سے پیدا ہونے والی تلخی پر منہ سے ناشکری کے الفاظ نہیں نکالنے چاہئیں۔
7۔ غصے پر قابو پانا: انسان کو کئی مرتبہ کسی معاملے پر غصہ آ جاتا ہے لیکن اس پر قابو پانا یقینا ایک بہترین صفت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آلِ عمران کی آیت: 134 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں‘ غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں‘ اللہ ان نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی خامیوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔
8۔ نرمی اختیار کرنا: گھریلو معاملات میں مرد و زن کو ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اختیار کرنی چاہیے اور توقعات کے پورے نہ ہونے پر ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی مجبوریوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ احادیثِ مبارکہ میں نرمی کی بڑی تحسین کی گئی ہے۔ اس حوالے سے مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ''اے عائشہ! نرمی سے کام لیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھرانے کے لوگوں سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی رہنمائی کر دیتا ہے‘‘۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا ''نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے‘‘۔
9۔ ایثار اور قربانی: ایثار اور قربانی خیر خواہی کی علامات ہیں۔ جب انسان ایک دوسرے کیلئے قربانی دینے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ان کے معاملات میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو بہت سی گھریلو ناچاقیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے گھروں میں اتفاق و اتحاد پیدا فرمائے اور تمام گھروں کو امن وسکون اور محبت کا گہوارہ بنا دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved