زندہ قومیں جمود سے بچتی ہیں۔ اپنے آپ کو متحرک اور لچکدار رکھتی ہیں۔ حالات کے ساتھ نظریات بدل لیتی ہیں اور اگر نظریات وہی رہیں جو پہلے تھے تو کم از کم ان نظریات کے مطالب اور مفاہیم ضرور تبدیل کرتی ہیں۔ اقبال نے بھی یہی کہا تھا:
آئینِ نو سے ڈرنا‘ طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
ہم پاکستانی بھی زندہ قوم ہیں۔ ہم آئینِ نو سے ڈرتے ہیں نہ طرزِ کہن پہ اڑتے ہیں۔ ہم لحظہ لحظہ تبدیل ہو تے ہیں۔ حالات کے مطابق! دنیا کے ساتھ چلتے ہیں۔ ہر وقت ''اَپ ڈیٹ‘‘ رہتے ہیں۔
ہم نے یہ ملک دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا تھا۔ ہمارا مؤقف واضح تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ دونوں کے ہیرو مختلف ہیں۔ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہیں۔ تہوار الگ ہیں۔ لباس اور کھانا پینا تو الگ ہے ہی‘ یہ تو ایک دوسرے کا پانی پیتے ہیں نہ کھانا کھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ شادیاں بھی نہیں کرتے۔ ملک اس دو قومی نظریے کی بنیاد پر بن گیا۔ ملک بننے کے بعد یہ نظریہ دفن تو نہیں کیا جا سکتا تھا‘ مگر مشکل یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد صرف ایک قوم باقی رہ گئی تھی۔ یعنی پاکستانی قوم! ہم نے کمال یہ کیا کہ دو قومی نظریے کو زندہ رکھنے کیلئے پاکستانی قوم کو مزید دو قوموں میں تقسیم کر دیا۔ آج پاکستان دو قوموں پر مشتمل ہے۔ ایک قوم میں وہ لوگ ہیں جو پولیس مقابلوں میں مارے جاتے ہیں۔ جیسے لائبہ کا قاتل نعمان! جیسے پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کا قاتل توقیر نذیر۔ دوسری قوم میں وہ افراد ہیں جو ایک نہیں‘ دو انسانوں کو قتل کر دیں تب بھی کوئی پولیس‘ کوئی پولیس مقابلہ‘ ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ جیسے بہت بڑے صنعتی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون‘ جس نے کراچی میں باپ بیٹی دونوں کو مار دیا۔ جیسے ظاہر جعفر جس نے نور مقدم کو بے دردی سے قتل کیا۔ جیسے سردار صاحب جنہوں نے دن دہاڑے کوئٹہ میں اُس ٹریفک اہلکار کو گاڑی کے نیچے دے کر مار دیا جو ڈیوٹی پر تھا‘ جیسے جج صاحب کا فرزند جس نے دو محنت کش لڑکیوں کو گاڑی کے نیچے دے کر مار ڈالا! جیسے شہ نواز امیر جس نے اپنی بیوی سارہ کو قتل کر دیا! جیسے وزیر صاحب کا نواسا۔
یہ دو قومی تقسیم صرف پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں اور نہ مارے جانے والوں تک محدود نہیں! یہ تقسیم آپ کو ہر جگہ‘ ہر وقت نظر آئے گی۔ ہم آپ جن بازاروں سے سودا خریدتے ہیں‘ جن سکولوں کالجوں میں ہمارے بچے پڑھتے ہیں‘ جن ہسپتالوں میں ہم اپنا اور اپنے کنبوں کا علاج کراتے ہیں‘ کیا وہاں آپ نے کبھی کسی وزیر‘ پارلیمنٹ کے کسی رکن‘ کسی حکمران‘ کسی بڑے فیوڈل‘ کسی سردار‘ کسی بڑے صنعتکار کو دیکھا ہے؟ یہ تو علاج کیلئے یہاں کے گراں ترین نجی ہسپتالوں میں جاتے ہیں یا لندن‘ دبئی‘ جرمنی اور امریکہ میں! ان کی شاپنگ بیرونِ ملک ہوتی ہے۔ مقامی بازاروں میں جائیں بھی تو ان کے کارندے جاتے ہیں۔ یہ شادیاں صرف اپنے طبقے میں کرتے ہیں۔ آپ حکمران طبقے کی‘ سیاستدانوں کی‘ وڈیروں اور صنعت کاروں کی رشتہ داریوں پر ریسرچ کیجیے۔ آپ حیرت انگیز نتائج پر پہنچیں گے۔ یہ بچوں کی شادیاں کرتے وقت صرف دو پہلو دیکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ جائداد کم سے کم تقسیم ہو اور خاندان سے باہر تو بالکل نہ جائے۔ دوسرا‘ اقتدار زیادہ مستحکم ہو۔ جن خاندانوں سے رشتے گانٹھیں‘ وہ اقتدار کی بلندی تک پہنچنے کیلئے سیڑھی کا کام کریں! ان دو قوموں پر قانون کا اطلاق الگ الگ ہوتا ہے۔ پولیس مقابلے کے حوالے سے تو آپ نے دیکھ ہی لیا۔ دیگر پہلوئوں پر بھی غور کر لیجیے۔ ہم کسی بینک سے قرض لیں اور واپسی میں ذرا تاخیر ہو جائے تو بینک قیامت برپا کر دیتا ہے کیونکہ ہم نچلی قوم ہیں۔ اوپر والی قوم کے قرض کروڑوں اربوں کھربوں کے ''معاف‘‘ ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بینک مقروضوں کے نام تک نہیں بتاتے۔ ہمارے آپ کے پاس ایک پرانا‘ از کارِ رفتہ‘ پستول بھی ہو تو تھانے جا کر رپورٹ کرنا ہوتی ہے۔ مگر اعلیٰ طبقے کے ارکان اسلحہ کی خوب نمائش کریں اور درجنوں کلاشنکوف برداروں کے ساتھ چلیں پھریں‘ تب بھی کسی کی مجال نہیں کہ پوچھ گچھ کرے یا اعتراض کرے! آپ کو یاد ہو گا ایک سردار کے نجی گارڈ بھاری اسلحہ کے ساتھ‘ پولیس سے ٹکر لے کر‘ بلوچستان اسمبلی میں داخل ہوئے تھے اور معطل بھی پولیس افسر ہی کیا گیا تھا کیونکہ اس نے اسلحہ برداروں کو روکنے کی کوشش کی تھی! اس طبقے کی ٹیکس کی ادائیگیاں دیکھ لیجیے۔ ان کا پرستانی معیارِ زندگی اور بے پناہ دولت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ٹیکس ادا کرتے وقت یہ کتنے غریب ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کے خاندان مغربی ملکوں کی جنت میں بستے ہیں۔ یہ امرا ملک کے اندر ہوں تو اکثر کو سرکاری گارڈ ملتے ہیں۔ پروٹوکول پر ہر ماہ اربوں خرچ ہوتے ہیں۔ ہم پست ذاتوں والے لاہور یا پنڈی جانا ہو تو ہزار بار سوچتے ہیں مگر مراعات یافتہ طبقہ کے ارکان ملک کے اندر سفر کریں یا باہر‘ خصوصی جہازوں پر سفر کرنا ان کیلئے معمول کی بات ہے۔ عام آدمی ساری زندگی شدید محنت کرتا ہے تو عمر کے آخری حصے میں مکان بنا پاتا ہے۔ ایسا مکان جو مشکل سے ضروریات پوری کرتا ہے! مگر یہ جو سرمست‘ ناز پروردہ لوگ ہیں ان کے محلات نہ صرف ملک کے ہر بڑے شہر میں جلوہ افروز ہیں بلکہ برطانیہ‘ یو اے ای‘ امریکہ‘ ہسپانیہ اور سوئٹزر لینڈ میں بھی ان کی جائدادیں موجود ہیں! ان کیلئے ٹریفک کے رُوٹ لگتے ہیں۔ جب تک یہ گزر نہ جائیں‘ کوئی ذی روح پر بھی نہیں مار سکتا۔ عام شہری کو ذلت کا شدید ترین احساس اس روٹ کے دوران ہوتا ہے جب اسے بزور سڑک پر روک لیا جاتا ہے۔ اس نے بچے کو یا بوڑھے باپ کو ہسپتال لے جانا ہو‘ اس کی بیوی بچے کو جنم دینے والی ہو‘ اس نے ٹرین یا جہاز پکڑنا ہو‘ اسے کمرۂ امتحان میں پہنچنا ہو‘ اس نے جنازے میں شرکت کرنی ہو‘ اسے طاقت کے بل پر روک لیا جاتا ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ کچھ ہفتے پہلے میں اسلام آباد سے روات جا رہا تھا۔ راستے میں روٹ لگ گیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ ٹریفک کو روک کر رکھا گیا۔ گرمی سخت تھی۔ میری گاڑی کے ساتھ‘ بائیں طرف‘ ایک سوزوکی پک اَپ کھڑی تھی۔ پک اَپ والے نے پسینہ پونچھتے ہوئے مجھے کہا ''چاچا جی! ان ظالموں کیلئے بددعا ضرور کیجیے گا‘‘۔
دنیا کے کسی مہذب جمہوری ملک میں یہ ''روٹ‘‘ لگنے کا تماشا نہیں لگتا۔ یہ ہے اصل ثبوت اس بات کا کہ دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ جب ایڈورڈ ہِیٹھ برطانیہ کے وزیراعظم تھے تو انہوں نے لندن ٹریفک پولیس کے سربراہ کو بلایا اور بتایا کہ مجھے غیر ملکی مہمانوں سے ملنے دارالعوام (برطانیہ کی قومی اسمبلی) سے اُٹھ کر دس ڈاؤننگ سٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) جانا ہوتا ہے تو ٹریفک کے ہنگامے کی وجہ سے پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے اس لیے آپ کچھ دیر ٹریفک کو روک لیا کریں۔ پولیس افسر نے معذرت کی کہ سر ایسا نہیں ہو سکتا! ہاں آپ دارالعوام سے جلدی اُٹھ جایا کیجیے۔ یہ ہوتی ہے ایک قوم! کہ قوم کے ہر فرد کیلئے ایک ہی قانون ہو گا! یہاں تو وی آئی پی کیلئے ہوائی جہاز کی روانگی مؤخر کر دی جاتی ہے! عام آدمی کیلئے قانون اندھا بھی ہے اور گلے کا پھندہ بھی! مگر خواص‘ قانون کو قالین کے طور پر فرش پر بچھاتے ہیں اور پھر جوتوں سمیت اس پر چلتے ہیں!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved