تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     27-10-2026

تازہ ہوا کا جھونکا

لائبریری کے بغیر تو کتاب کا تصور تو کیا جا سکتا ہے لیکن کتاب کے بغیر لائبریری کا تصور ناممکن سی چیز ہے۔ کتاب اور لائبریری میری بچپن کی محبت ہیں اور یہ محبت ابھی تک اسی جوش و جذبے سے چل رہی ہے۔ چلیں لائبریری سے محبت کی تو مجھے سمجھ آتی ہے کہ یہ شاید وہ محبت ہے جو مجھے ابا جی مرحوم سے ورثے میں ملی۔ گو کہ کتاب کی محبت بھی کسی حد تک اسی بات سے جڑی ہوئی ہے لیکن اپنے چاروں بہن بھائیوں میں صرف مجھے ہی کتاب سے کیوں محبت ہے؟ بلکہ اگر میں کتاب سے بھی پہلے کی بات کروں تو اپنے سب بہن بھائیوں میں آخر میرا بچپن ہی کہانی سے جڑا ہوا کیوں ہے؟ میں نے کہانی سننے کی ابتدا ماں جی سے کی اور کہانی سے اس محبت کو انتہا تک ہماری پرانی ملازمہ‘ جنہیں بعد میں گھر کے ایک بزرگ کا درجہ حاصل ہو گیا تھا‘ اماں ممتاز جی نے پہنچایا۔ ماں جی کی کہانیاں ختم ہوئیں تو کہانی سننے کی لت میں مبتلا اس بچے نے ادھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارنا شروع کیں۔ اپنی عمر سے کہیں پہلے حروف سے شناسائی پیدا کی۔ بچوں کی دنیا‘ تعلیم و تربیت اور نونہال سے ہوتے ہوئے معاملہ محلے کی آنہ لائبریری تک پہنچ گیا۔ پھر اپنے محلے کی آنہ لائبریری سے ہوتے ہوئے دائرہ ارد گرد کے دو تین محلوں کی آنہ لائبریریوں تک پھیل گیا۔ ان لائبریریوں میں اپنی پسند کی کتابیں ختم کرنے کے بعد معاملہ ایمرسن کالج سے ابا جی کی لائی ہوئی کتابوں تک پھیلتا گیا۔ پھر ابن صفی کی عمران سیریز اور کرنل فریدی سیریز ہماری دسترس میں آ گئیں۔ اسکے بعد معاملہ شفیق الرحمن اور نسیم حجازی تک جا پہنچا۔ اگلا پڑاؤ افسانے اور ناول تھے۔ اس بحرِ بے کنار میں کس کس کا نام لیا جائے ؟ معاملہ اردو ادب سے باہر نکلا تو سب رنگ نے اپنا رنگ دکھایا جو آج بھی دل کی کئی پرتوں پر جما ہوا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم سے شکیل عادل زادہ کے اس ڈائجسٹ نے تو گویا ہم پر ایک نئی دنیا کا دروازہ وا کر دیا۔
ملتان اپنی ہزاروں سالہ قدامت کے باوجود پبلک لائبریریوں کے معاملے میں کچھ خاص خوش قسمت واقع نہیں ہوا۔ لے دے کر دو پبلک لائبریریاں تھیں۔ ایک قدیمی پبلک لائبریری باغ لانگے خان اور دوسری میونسپل لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ تھی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی خوبصورت اور شاندار عمارت میں گیریژن پبلک لائبریری بھی وجود میں آ چکی ہے لیکن اول الذکر دونوں پبلک لائبریریوں کا حال کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ ان دونوں لائبریریوں میں بھی میری زیادہ دلچسپی میونسپل پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ سے تھی جہاں اباجی مرحوم کے دوست چچا اشرف سیال لائبریرین تھے۔ میرا بچپن سے اس لائبریری میں آنا جانا تھا لہٰذا اس لائبریری سے میری محبت دو چند ہو گئی تھی۔ چچا اشرف سیال ریٹائر ہوئے تو لائبریری لاوارث ہو گئی۔ اچھی اچھی کتابیں افسران نے اپنے نام پر جاری کرائیں اور تبادلہ ہونے کے بعد اکثر و بیشتر افسر یہ کتابیں لائبریری کو واپس کرنے کے بجائے اپنے ساتھ لے گئے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ''سر تے نہیں کُنڈا تے ہاتھی پھرے لُنڈا‘‘۔ سو اس لائبریری کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ عدم توجہی اور سرپرستوں کی لاپروائی کے باعث ایک نہایت شاندار لائبریری آہستہ آہستہ برباد ہوتی گئی۔ میں نے اس لائبریری کی بہتری کیلئے قلمی اور عملی طور پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر بھاگ دوڑ کی۔ ہمارے دوست اوریا مقبول جان جب ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز تھے تو ان سے مل کر اس لائبریری کیلئے تب دس لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کرائی۔ ڈپٹی کمشنر ملتان نے تب اس لائبریری کی بحالی کیلئے ایک کمیٹی بنائی جس میں مَیں بھی شامل تھا۔ ان دس لاکھ روپوں سے کتابوں کے علاوہ کمپیوٹر اور فوٹو کاپیئر بھی خریدا گیا۔ گورنمنٹ کے قوانین کے مطابق کتابوں کی سرکاری خریداری پر تیس فیصد سے زیادہ رعایت نہیں لی جا سکتی۔ سو ہم نے بھاگ دوڑ کر کے خریدی گئی کتابوں کو سرکاری کھاتوں میں تو تیس فیصد رعایت پر خریدا‘ لیکن برادرم شاکر حسین شاکر کی مدد سے پبلشرز سے اوپر بچ جانے والی رقم کے عوض کتابیں عطیہ کرائیں۔ لیکن ان سب کے باوجود لائبریری کی حالت بہتر نہ ہو سکی اور اس کی شاید سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ لائبریری میں کوئی تربیت یافتہ اور باقاعدہ لائبریرین نہیں تھا۔ چچا اشرف سیال کی ریٹائرمنٹ کے بعد لائبریری کلرک عبداللہ نے لائبریرین کی ذمہ داری سنبھالی اور عبداللہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد تو لائبریری کی حالت ویسی ہو گئی جیسے ہلاکو خان کے حملے کے بعد بغداد کی لائبریریوں کی ہو گئی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے ملتان کے قدیمی اور تاریخی قلعے کو لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کی تولیت میں دے دیا گیا۔ مجھے پتا چلا کہ ملتان کے تاریخی برباد شدہ قلعے کی تزئین و آرائش کیلئے حکومت پنجاب نے تین ارب روپے کی خطیر رقم منظور کی ہے۔ اسی دوران میرے کان میں یہ بات پڑی کہ اس قلعے کی تزئین و آرائش کے دوران لائبریری کو کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ سن کر میرا ماتھا ٹھنکا کیونکہ مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ جب ہمارے ہاں اس قسم کی لاوارث چیزوں کو منتقل کیا جاتا ہے تو انہیں دراصل راہِ عدم کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے۔ جب حکومت نے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کر کے اسے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر میں تبدیل کیا تو محض اس تبدیلی کی آڑ لیتے ہوئے ملتان میں ڈپٹی کمشنر آفس کی قدیمی لائبریری‘ جس میں ملتان کی کئی سو سالہ تاریخ‘ قدیمی دستاویزات‘ ضلعی گزٹیئر اور نایاب کتابیں تھیں ‘اٹھا کر سول لائنز کالج کے ایک کمرے میں بند کر دی گئیں۔ بعد ازاں وہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی لائبریری کو دے دی گئیں۔ اس طرح ڈپٹی کمشنر آفس کی قدیمی لائبریری صفحہ ہستی سے غائب ہو گئی۔ اس سلسلے میں مَیں نے کمشنر ملتان سے مل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ چند دن بعد انہوں نے مجھے یہ بتا کر خوش کر دیا کہ یہ لائبریری نہ صرف یہیں رہے گی بلکہ اسے قلعے کی تزئین و آرائش کے سارے منصوبے میں باقاعدہ شامل کر کے بالکل نئی شکل دی جائے گی۔ گزشتہ دنوں اس لائبریری کا افتتاح ہوا۔ بدقسمتی سے یہ مسافر ملتان میں نہیں لیکن دیارِ غیر میں بھی اس سیلانی کی تاریں اس لائبریری سے جڑی ہوئی ہیں۔ملتان سے ایک دو دوستوں نے جو کتاب اور لائبریری سے میری محبت سے آگاہ ہیں‘ مجھے کچھ وڈیوز اور تصاویر بھیجی ہیں۔ یقین کریں ان کو دیکھ کر دل صرف کھل نہیں اٹھا‘ باغ باغ ہو گیا ہے۔ بالکل نئی شکل و صورت کیساتھ اس لائبریری کے پہلو میں ایک نہایت جدید‘ خوبصورت اور شاندار کافی شاپ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ قارئین! آپ کو میری کتاب اور لائبریری سے محبت کیساتھ ساتھ کافی پینے کی عادت کا بخوبی علم ہو گا۔ سو یہ مسافر واپس ملتان پہنچ کر بحالی کے بعد نئی شکل و صورت والی تبدیل شدہ لائبریری سے اپنی آنکھیں سینکے گا اور کافی سے اپنا چسکا پورا کرے گا۔
انگریزی کی ایک ضرب المثل There is always room at the top کے مطابق ابھی اس لائبریری میں مزید بہتری کی نہ صرف گنجائش ہے بلکہ اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلی یہ کہ اس شاندار اور لگژری بس کو چلانے کیلئے ایک تربیت یافتہ ڈرائیور یعنی لائبریرین متعین کیا جائے۔ لائبریری کے ریڈنگ روم میں نئی میزیں کسی میٹنگ ہال کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لائبریری میں بیٹھ کر کتاب پڑھنے کیلئے جس یکسوئی‘ ارتکاز اور تفرید کی ضرورت ہے وہ اس طرز کی میزوں پر ممکن نہیں۔ اس کیلئے ورک سٹیشن ٹائپ میزیں درکار ہیں جہاں بیٹھ کر قاری اور کتاب ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہو سکیں اور آخری یہ کہ اس لائبریری کے اوقات رات گئے تک کیے جائیں۔ یہ نہ ہو کہ لائبریری تو چار بجے بند ہو جائے اور لائبریری کے طفیل بننے والی کافی شاپ رات گئے تک کھلی رہے۔ میرے جیسا بندہ بھلا شام ڈھلے کتاب اور کافی سے بیک وقت لطف کیسے لے گا ؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved