دل تو چاہتا ہے کہ آپ کو کوئی نغمۂ جانفزا سناؤں‘ بشارتوں اور خوشخبریوں کی داستانِ جاوداں سناؤں‘ شاخساروں پر چہچہاتے‘ گنگناتے اور چہلیں کرتے پرندوں کے ہمہمے سناؤں۔ آپ کو گلستانوں اور سبزہ زاروں میں گلہائے صد رنگ کی بہاروں اور ہر طرف تاحدِ نظر فضائے سبز گوں میں‘ کھیتوں اور کھلیانوں میں فصلوں کے نظارے دکھاؤں۔ سب سے بڑھ کر اپنے ہم وطنوں کو خوشی اور خوشحالی کی نوید دوں مگر میں کیا کروں کہ بظاہر یہ نہ تھی ہماری قسمت۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بزم یار سے ایک خبر لائے ہیں۔ اُن کا نیوز الرٹ یہ ہے کہ عالمی تنازعات کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اُن کا کہنا یہ بھی ہے کہ خام تیل کی فراہمی کے نومبر تک انتظامات موجود ہیں۔ ایل این جی کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی لگے ہاتھوں وزیر خزانہ نے یہ تشویشناک خبر بھی دی کہ اگر آبادی یونہی بڑھتی رہی تو 39کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔لاہور شہر میں بھی یہ آٹھ سو روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ وزیر پٹرولیم و گیس علی پرویز ملک کی طرف سے ایل پی جی کی قیمتوں کا پٹرول کی طرح تعین کرنے کی تجویز بلکہ وارننگ آ چکی ہے۔ اس خبر کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سلنڈر کی قیمت دس ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔ عزیزم علی پرویز ملک اس سے پہلے ستمبر میں پٹرول کے ایک ہزار روپے فی لٹر تک جانے کی وحشت ناک خبر بھی سنا چکے ہیں۔ جناب علی پرویز ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر میدانِ سیاست میں ابھی نو آموز ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب کے کچھ اضلاع میں ایل پی جی دکانوں سے غائب ہو گئی ہے‘ اُدھر پولیس نے چھاپے مارنے اور کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جس کے جواب میں ایل پی جی ڈسٹری بیویشن تنظیم نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ اب اس گیس کی مہنگے داموں پر بھی دستیابی نہایت دشوار ہو گئی ہے۔ اگر ایل پی جی کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ برق گرتی ہے تو بیچارے صارفین پر۔ وہ روزانہ جئیں گے روزانہ مریں گے۔
داخلی منظر نامے کے بعد اب ذرا یہ دیکھتے ہیں کہ بیرونی خلقِ خدا ہمارے بارے میں کیا کہتی ہے۔ چند روز قبل ورلڈ بینک کی رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق ہمارے خطے میں سب سے زیادہ غربت پاکستان میں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کثیر جہتی غربت کی شرح 38 فیصد ہے۔ یعنی اتنی بڑی تعداد کی یومیہ آمدنی 850 روپے سے بھی کم ہے۔ 2019ء سے 2025ء کے دوران غربت کی شرح میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح نمو صرف 2.2 فیصد ہے اور بے روزگاری میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ غریب عوام یا دوسرے لفظوں میں پاکستان کے 60سے 70فی صد تک غریب اور سفید پوش کلاس بُری طرح پس چکی ہے۔ اس پر وزیر خزانہ مزید مہنگائی کی نوید سنا رہے ہیں۔ قوتِ لایموت سے معاملہ تو پہلے ہی بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ اب مزید مہنگائی کی نئی صورت میں حکومت کے بعد عوام کے ہاتھوں میں بھی کشکولِ گدائی ہوگا۔ خدا اہلِ پاکستان کو کبھی یہ دن نہ دکھائے۔
ایک طرف یاس اور ناامیدی اور قیمتوں کے بڑھنے کی باتیں ہیں تو دوسری طرف وزیراعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمن نے عوام کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اگلے 48گھنٹوں میں وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف دینے کے بارے میں کوئی بہت بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ان وزرا نے قوم کو یہ دل خوش کن خبر دی ہے کہ عین ممکن ہے یہ ریلیف پٹرولیم کی قیمتوں میں بڑی کمی کی صورت میں ہو۔ ویک اینڈ پر وزیراعظم نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں اور معروف تاجروں سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ تازہ ترین خبروں کے مطابق اگلے ایک دو روز میں وزیراعظم شہباز شریف امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ان اقدامات سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا دل ہی دل میں اعتراف کرنے لگی ہے۔جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنوں‘ دلیل ومنطق کے ساتھ چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہموں کے ذریعے عوام کو احساس ہو گیا ہے کہ اُن سے پٹرول و ڈیزل کی حقیقی قیمت کے علاوہ ٹیکسوں کی بھرمار کے ذریعے بہت کچھ بٹورا جا رہا ہے۔ مگر جب اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے موٹر سائیکلوں‘ رکشوں اور چھوٹی گاڑی والوں کو محدود سا ریلیف دیا تو اس کا سارا کریڈٹ خود لے لیا۔ وزیراعظم کو اعتراف کرنا چاہیے کہ اُن کی درخواست پر جماعت اسلامی نے اپنا لانگ مارچ ملتوی کیا تھا اور اب وہ ہفتوں سے شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب اگر واقعی وزیراعظم قوم کو پٹرول کی قیمتوں میں کوئی بڑا ریلیف دیں تو اس مرتبہ اس کا کریڈٹ خود لینے کے بجائے جماعت اسلامی کے اقتصادی ہوم ورک اور ان کی پُرامن احتجاجی تحریک کو دیں۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ایک طرف آنے والے دنوں میں مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف آبادی کے ہولناک بم سے ڈرایا ہے۔ یہ حکومت اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ان کا ملبہ عوام پر گرانا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک میں نہ نئی سرمایہ کاری آئی ہے‘ نہ نئی انڈسٹری لگی ہے‘ نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس پرانی فیکٹریاں اور ملیں بند ہو رہی ہیں‘ بیروزگاری اور مہنگائی کی شرح آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اور کچھ نہیں تو حکومت خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو سنجیدگی اور دلجمعی سے چلاتی۔ اس سلسلے میں دور جانے کے بجائے بنگلہ دیش کے آبادی منصوبہ بندی کے انتہائی مؤثر اور کارگر ماڈل سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔بنگلہ دیش میں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام کئی دہائیوں سے نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔یہ پروگرام حکومت اور مساجد کے خطبا و ائمہ کرام اور دینی سکالرز کے درمیان بہترین تعاون کا ایک شاہکار ہے۔ بنگلہ دیش کی مختلف حکومتوں نے تقریباً چالیس ہزار سے زائد علمائے کرام کے ساتھ سیمینار منعقد کیے۔ تبادلہ خیال کے ذریعے انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے جائز اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونے کے بارے میں قائل کیا۔ اس کے نتیجے میں علمائے کرام خاندانی منصوبہ بندی کے مبلغ بن گئے۔ نیز لیڈی ہیلتھ وزیٹرز نے گھر گھر دستک دے کر خواتین کو ماں اور بچے کی صحت اور تعلیم و تربیت کے بارے میں آگہی اور خاندانی منصوبہ بندی کیلئے استعمال کی جانے والی ادویات و اشیا فراہم کرتی رہیں۔ کسی زمانے میں ہر بنگالی خاندان کے اوسطاً چھ سات بچے ہوتے تھے‘ یہ شرح اب دو تین پر آ گئی ہے۔ ہماری حکومت کے ماہرین کا گزارہ ابھی سنجیدہ معاشی پروگرام لانے کے بجائے دوسروں پر تنقید اور اپنی تشہیر تک محدود ہے۔داغ دہلوی نے کہا تھا:
کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیے
لائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگ
ہم تو وزیراعظم کے مشیر حذیفہ رحمن کی لائی ہوئی خبر کا ہی یقین کریں گے کہ اگلے 48 گھنٹے میں عوام کو کوئی بہت بڑا ریلیف ملنے والا ہے جب آپ یہ کالم ملاحظہ کریں گے اس وقت تک 48گھنٹے پورے ہو چکے ہوں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved