تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     27-10-2026

مشرقِ وسطیٰ کی تشکیلِ نو

28 فروری 2026ء کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی سیاست‘ عسکری طاقت کے روایتی تصورات اور خطے کے تزویراتی توازن کو اس انداز سے متاثر کیا ہے کہ اب دنیا کا پہلے والی حالت میں واپس جانا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز جن مقاصد کے تحت کیا تھا ان میں ایرانی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا‘ اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور تہران کے سیاسی نظام پر فیصلہ کن دباؤ ڈالنا شامل تھا۔ لیکن تقریباً آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود یہ جنگ اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہے۔ اس کے برعکس اب ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس میں ایران کی مزاحمتی صلاحیت‘ آبنائے ہرمز کی اہمیت اور امریکی فوجی موجودگی کی حدود ایک نئی بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ اس کا اظہارسابق امریکی صدر براک اوباما نے اوہائیو اور مشی گن میں انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اور جنگ کے بجائے 2015ء کے جوہری معاہدے اور سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ان کے زخمی ہونے‘ امریکی اڈوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بیانات اس لیے زیادہ اہم ہیں کیونکہ یہ تنقید کسی سیاسی مخالف کے بجائے امریکہ کے ایک سابق صدر کی جانب سے سامنے آئی ہے۔اس جنگ کا سب سے غیر معمولی پہلو آبنائے ہرمز کی حیثیت میں تبدیلی ہے۔ برسوں سے امریکہ کی بحری طاقت اور خلیجی ممالک میں اس کی فوجی موجودگی کو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایران اپنی جغرافیائی حیثیت اور میزائلز‘ ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ پر دباؤ ڈالنے کی قابلیت ظاہر کر چکا ہے۔ 28 فروری 2026ء کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے امریکی فوجی اڈوں کے بارے میں قائم اس تصور کو بھی متاثر کیا ہے کہ انکی موجودگی ہی علاقائی تحفظ کی ضمانت ہے۔ ایران نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی بڑے حملے کی صورت میں وہ جنگ کو اپنی سرحدوں تک محدود رکھنے کے بجائے خطے میں موجود امریکی مفادات تک پھیلا سکتا ہے۔ اس حکمت عملی نے خلیجی ریاستوں کیلئے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ان ممالک کی دفاعی ضروریات بڑی حد تک امریکہ سے وابستہ ہیں لیکن ان کی اقتصادی ترقی‘ توانائی کی تنصیبات‘ بندرگاہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کسی وسیع علاقائی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے 20 اکتوبر کے غیر اعلانیہ دورۂ اسرائیل نے جنگ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کی اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع سے ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب ایران کے خلاف مزید حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق خبریں گردش کر رہی ہیں۔ 21 اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی قیادت اکتوبر کے آغاز میں نئے حملوں کی تیاری کر رہی تھی لیکن صدر ٹرمپ نے امریکی مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی۔ یہ اطلاعات اگر واشنگٹن کی موجودہ پالیسی کی درست عکاسی کرتی ہیں تو فوری جنگ کے مقابلے میں انتخابات کے بعد کسی نئی کارروائی کا زیادہ امکان ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات بھی اس بحران میں اہم عنصر بن سکتی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کیلئے ایران کے خلاف سخت مؤقف داخلی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اگر اسرائیلی قیادت کو محسوس ہوتا ہے کہ طویل کشیدگی اس کے سیاسی مفادات میں ہے تو محدود فوجی کارروائی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ایران کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد بظاہر یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے کسی نئے حملے کے مضمرات اتنے زیادہ کر دیے جائیں کہ وہ کوئی وسیع جنگ شروع کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوں۔
خطے میں کشیدگی کے موقع پر روس اور چین کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ دونوں ممالک ایران کے خلاف امریکی دباؤ‘ علاقائی عدم استحکام اور توانائی کی رسد میں رکاوٹوں کے اثرات کو اپنے قومی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ روس کیلئے ایران ایک اہم تزویراتی شراکت دار ہے جبکہ چین کیلئے خلیج میں امن اور توانائی کی مسلسل فراہمی بنیادی اقتصادی ضرورت ہے۔ پاکستان کی حیثیت اس بحران میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جون میں پاکستانی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت نے بڑے پیمانے کی لڑائی روکنے میں مثبت کردار ادا کیا تھا لیکن بنیادی تنازعات حل نہ ہونے کے باعث اس انتظام کی پائیداری متاثر ہوئی۔ پاکستان کیلئے اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی حیثیت کو کسی نئی کشیدگی کے خاتمے کیلئے کس حد تک استعمال کر سکتا ہے۔ اسلام آباد کے بیک وقت ایران‘ سعودی عرب‘ چین اور امریکہ کے ساتھ روابط اسے ایک مؤثر رابطہ کار کی حیثیت دیتے ہیں۔
خلیجی ممالک کے سامنے شاید اس وقت سب سے مشکل انتخاب موجود ہے۔ ایک طرف امریکہ کیساتھ انکے تاریخی دفاعی معاہدے اور فوجی تعلقات ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کی ایسی صلاحیتیں ہیں جو جنگ کی صورت میں انکی اقتصادی بنیادوں کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت اور بحرین بخوبی سمجھتے ہیں کہ آئل تنصیبات‘ تجارتی بندرگاہوں‘ ہوائی اڈوں اور مالیاتی مراکز پر حملے صرف عسکری نقصان نہیں پہنچائیں گے بلکہ یہ طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی اور بیرونی سرمایہ کاری کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان ریاستوں کیلئے محض عسکری اتحاد پر انحصار کے بجائے علاقائی سفارتکاری اور کشیدگی میں کمی کے راستے کھلے رکھنا زیادہ سودمند ہو سکتا ہے۔اگر امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ایک اور بڑی فوجی کارروائی کرتے ہیں تو اسکے نتائج گزشتہ مراحل سے مختلف ہوں گے۔ اس ممکنہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو اسکے عالمی اقتصادی نتائج ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت مزید محدود ہوئی‘ خلیجی تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہوئی یا بڑے صنعتی و توانائی مراکز کو نقصان پہنچا تو عالمی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو جائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک جو توانائی کی درآمدات اور بیرونی مالیاتی استحکام پر انحصار کرتے ہیں‘خطے میں کشیدگی بڑھنے سے سخت متاثر ہوں گے۔ اسلئے پاکستان کیلئے یہ بحران صرف خارجہ پالیسی یا علاقائی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست قومی معاشی تحفظ کا سوال بھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عسکری اعتبار سے ایران اور امریکہ میں زیادہ طاقتور کون ہے۔ امریکی فوجی صلاحیت اور عالمی عسکری وسائل کی برتری اپنی جگہ‘ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیایہ برتری ایسے سیاسی نتائج حاصل کر سکتی ہے جنہیں طویل مدت تک برقرار رکھا جا سکے؟ کیا ایران کو مسلسل فوجی دباؤ کے ذریعے علاقائی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا اسرائیل مزید حملوں کے ذریعے وہ سلامتی حاصل کر سکتا ہے جو اَب تک کی کارروائیوں سے حاصل نہیں ہو سکی؟ ان سوالات کے جوابات فی الحال غیریقینی ہیں۔ ایران نے بڑے نقصانات کے باوجود مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے لیکن اسے اقتصادی ناکہ بندی‘ فوجی نقصانات اور داخلی دباؤ جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ کے پاس فوجی طاقت موجود ہے مگر اس کے استعمال کی سیاسی اور اقتصادی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آئندہ چند روز میں تین امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ اور اسرائیل محدود فوجی دباؤ بڑھائیں اور ایران اس کے جواب میں متناسب یا نسبتاً وسیع کارروائی کرے۔ دوسرا یہ کہ موجودہ کشیدگی بحری ناکہ بندی اور غیر اعلانیہ عسکری تصادم کا سلسلہ جاری رہے اور بڑی جنگ کا فیصلہ امریکی انتخابات کے بعد تک مؤخر ہو جائے۔ تیسرایہ کہ پاکستان یا دیگر علاقائی رابطہ کاروں کے ذریعے نئے سفارتی رابطے شروع ہوں اور فریقین کسی ایسے عارضی انتظام پر متفق ہو جائیں جو فوری جنگ کا خطرہ کم کر سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved